ڈرون حملوں پر آئندہ لائحہ عمل

Print Friendly, PDF & Email

Drone9/11 کے شدت پسندوں کے ورلڈ ٹرید‌ سنٹر پر حملے کے نتیجے میں امریکہ کی زیر قیادت شروع ہونے والی انسداد دہشت گردی کی جنگ کے بعد افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں پر ڈرون جاسوس طیاروں سے مشتبہ شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کا آغاز ہوا-ایک بین الاقومی جریدے کے اعدادوشمار کے مطابق ڈرون حملوں سے پاکستان میں 2004سے لے کر اب تک 2727 سے 3457 افراد جان بحق ہوئے ہیں-419 امریکی ڈرون حملوں میں سے 51 حملے بش دور حکومت اور 368 حملے باراک اوباما کے دور اقتدار میں کیے گئے ان حملوں میں عام شہریوں کی اموات کی تعداد 965 ہےاور 207 اموات بچوں کی ہیں ان اموات میں سے 84 کا تعلق القاعدہ سے تها- پاکسان میں زرداری حکومت کے قائم ہونے کے بعد ان حملوں کی تعداد اور شدت بڑهتی گئی-انسانی حقوق کمیشن کے مطابق 2010 میں امریکی ڈرون حملوں سے 900 ہلاکتیں واقع ہوئیں-وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیانات کے مطابق ان حملوں میں 400 بے گناہ افراد قتل ہوئےاور یہ تعداد ان افراد کے علاوہ ہے جن کو انتہاپسند گردانا گیا ہے-
جنرل پرویز مشرف کے دور سے امریکہ "کاونٹر ٹیرارزم ” کی پالیسی کے نام پر افغانستان سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں ایسے حملے کرتا رہاہے جن کی اجازت دینے یا نہ دینے کے حوالے سے صورتحال ہمیشہ ہی مبہم رہی ہے گزشتہ ہفتے کے واقعے سے قبل 2011 میں امریکی فوجیوں نے ایک کمپاونڈ میں گهس کر اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تها اس وقت آصف علی زرداری صدر ،یوسف رضا گیلانی وزیراعظم اور جنرل اشفاق پر ویز کیانی چیف آف آرمی سٹاف تهے اس حملے کی پیشگی اطلاع تک پاکستان کو نہیں دی گئی تهی اس ضمن میں امریکہ کا موقف تها کہ حملے سے بیشتر اطلاع کی صورت میں کسی ذریعے سے ٹارگٹ کے مطلع ہونے کا خدشہ تها-
گزشتہ ہفتے کے ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور مارے گئے جس کے بعد سیاسی حلقوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی-سینٹ میں فرحت اللہ بابر نے تحریک التواء پیش کی-مشیر امور خارجہ طارق فاطمی نے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو دفتر خارجہ بلاکر پاکستان کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا ہے-جنرل راحیل شریف کا روالپنڈی میں ڈیوڈ ہیل کے ساته ملاقات میں اس واقعے پر اظہار تفکر اور وزیر داخلہ چوہدری نثار نے منگل کو ہونے والی نیوز کانفرس میں ان حملوں کو پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے لیے شدید خطرہ قرار دیا ہے-امریکہ کا اس سلسلے میں یہ کہنا ہے کہ اس نے اس حملے سے اپنے اور اپنے اتحادیوں کے راستے سے ایک ایسے کانٹے کو صاف کیا ہے جو سب کے لیے خطرے کا باعث تها-ایران نے ملا منصور کے ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہونے کی واضع نفی کر دی ہے جبکہ افغانستان نے اس سلسلے میں واضع تردید نہیں کی ہے-خطے میں بحالئ امن کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والے کوششوں کو افغانستان شک کی نگاہ سے دیکهتا ہے جبکہ امریکہ "ڈو مور ” کی پالیسی پر کاربند ہے اور پاکستان کا اس سلسلے میں موقف یہ ہے کہ وہ ایک حد سے زیاده طالبان پر دباؤ نہیں ڈال سکتا-
پاکستان اور امریکہ بظاہر دہشت گردی کی جنگ میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں لیکن ان کے مابین اکثر معاملات پر ہم آہنگی کا فقدان ہے اور بعض معاملات میں غلط فہمیاں بهی واضع نظر آتی ہیں-پاک امریکہ تعلقات گزشتہ چند ماہ سے خاصی سردمہری کا شکار ہیں-گانگرس کی مخالفت سے پاکستان کو ایف 16 طیارے بهی نہیں مل رہے اور کولیشن سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والی امداد بهی بعض پابندیوں سے مشروط کر دی گئی ہے جس سے دو طرفہ تعلقات مزید گرما گرمی کا کا شکار ہو گئے ہیں-پاکستان کو افغان طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے نئے سرے سے کوششیں کرنا ہوں گی پاکستان اس سلسلے میں چار ملکی گروپ کے اندر اور باہر پہلے جو کردار ادا کر رہا تها اب امریکہ کی جانب سے ڈرون حملے جاری رکهنے کے عندیے سے اس میں بهی مشکلات درپیش ہوں گئیں اور سیاسی منظرنامہ بهی حکومت کے لیے دباؤ کا پیغام لائے گا-اصل درد سر خطے میں حالات کی بہتری کا ہے کہ اگر افغانستان کے حالات بہتر ہوتے ہیں اور طالبان کی نئی قیادت کو ان کے ملک میں "سٹیک ہولڈر” مان کر ان کے ساتھ مذاکرات کیے جاتے ہیں تو اس سے احسن تدبیر کوئی اور نہیں البتہ دوسری طرف صدر باراک اوباما نے ڈرون حملے جاری رکهنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اس سے حالات مزید الجهیں گے-امریکہ بظاہر تو اپنے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ ہٹا کر خوشیاں منا رہا ہے لیکن اگر ملا منصور کا جانشین پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ نہ ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ ایک جنگجو لیڈر کو ہلاک کرنے سے کوئی خاص مقصد حاصل نہیں کر پایا-
مستقبل کے لائحہ عمل کے تناظر میں پاکستان کو خطے کے وسیع تر مفاد میں سفارتی سطح پر کوششیں تیز کرنا ہوں گی پاکستانی اور افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا چین کی مداخلت سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرکے امریکہ پر دباؤ بڑھانا ہوگا کہ وہ خطے میں دیرپا امن کو ممکن بنانے کے لیے واضح و دو ٹوک پالیسی اپنائے تاکہ نہ تو ایک دشمن کو مارنے کے چکر میں ہزاروں مزید دشمن پیدا کرے اور نہ ہی شدت پسندوں کو ختم کرنے کے ارادے سے بے گناہ شہریوں کا قتل عام کرے –

Views All Time
Views All Time
414
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   نواب اکبر بگٹی سے میر اسد اللہ مینگل تک سب غدار کیوں؟ | انور عباس انور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: