Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا ہم پر بھی بےحیاؤں کی مہر ثبت ہوگئی۔؟-اسری غوری

by اپریل 27, 2017 معاشرہ
کیا ہم پر بھی بےحیاؤں کی مہر ثبت ہوگئی۔؟-اسری غوری

”کچھ عرصہ پہلے مجھے سکول میں جاب کا شوق ہوا، یہ کوئی گلی محلے کا اسکول نہیں بلکہ ایک منظم اور ہمارے یہاں کے ویل ایجوکیٹڈ کلاس سمجھے جانے والے ایک ادارے کا اسکول تھا. میرا پہلا دن تھا، کلاس دوم دی گئی تھی، بچے بچیاں سب ہی تھے، سب سے تعارف ہوا، جب پیریڈ ختم ہونے لگا تو کچھ بچے قریب آئے، میں کاپیز چیک کرنے میں مصروف تھی کہ ایک آواز آئی
ٹیچر!
میں نے گردن اٹھائے بغیر جواب دیا، جی بیٹا جان بولیے۔
مگر میرے ہاتھ سے پین گرا اور میں بہت دیر تک اسے اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔ یہ کیا سنا تھا میرے کانوں نے. ایک اور بچہ جو شاید اس بچے کے ساتھ تھا، اس سے بولا
”اوئے ہوئے، دیکھ تجھے جان بولا ٹیچر نے، چل اب تو ایک پھول لا کر دے ٹیچر کو.“
دوسری جماعت کا وہ بچہ جو میرے اپنے بیٹے سے عمر میں چھوٹا اور شاید سات سال کا تھا۔ ایک بار جی چاہا کہ زوردار تھپڑ لگاؤں مگر اگلے ہی لمحے خیال آیا کہ یہ معصوم ذہن ہے، اس کا کیا قصور؟ تھپڑ کے مستحق تو وہ ماں پاب، وہ معاشرہ، وہ میڈیا ہے جس نے ان پاکیزہ اور فرشتہ صفت ذہنوں کو اس قدر پراگندہ کر دیا کہ رشتوں اور رتبوں کا تقدس سب جاتا رہا۔
مجھ میں مزید کچھ سننے کی سکت نہیں تھی۔ دکھ اور افسوس کی کیفیت میں بریک میں بھی کلاس ہی میں بیٹھی رہی کہ اسٹاف روم جانے کی ہمت نہیں تھی۔ اچانک میری نظر کھڑکی کے باہر کی جانب پڑی تو وہی بچہ ہاتھ میں پھول لیے کھڑا تھا، اس کی دیکھا دیکھی اور کئی بچے اور بچیاں بھی ہاتھوں میں پھول لیے کلاس روم میں داخل ہوئے، ٹیبل پر رکھے اور کہا، ٹیچر یہ آپ کے لیے۔ اب وہ سب منتظر تھے کہ ٹیچر خوش ہوں گی۔ میں نے تھینکس کہا اور پڑھائی شروع کرا دی۔
چھٹی ٹائم ایک بچی قریب آئی اور بڑے سلیقے سے سارے پھولوں کو گلدستہ کی شکل دے کر میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بڑے لاڈ سے بولی، ٹیچر! یہ لے جانا مت بھولیےگا. اس کے ساتھ باقی سارے بچے بھی میرے گرد جمع ہوچکے تھے، میں نے وہ گلدستہ ہاتھ میں لیا اور کھلتے ہوئے رنگ برنگے پھولوں کو دیکھا، پھر ایک نگاہ ان معصوم پھولوں پر ڈالی جن کی معصومیت، پاکیزگی کو کس بےدردی سے کچلا جا رہا ہے، اور اس گلستاں کا مالی کس قدر بے خبر ہے۔ مالی تو اپنے باغ کے ایک ایک پھول سے باخبر ہوتا ہے اور کوئی پھول ذرا وقت سے پہلے مرجھانے لگے تو مالی کی جان پر بن آتی ہے مگر میرے گلشن کا یہ کیسا مالی ہے جس کو خبر ہی نہیں کہ اس کے باغ کو کوئی اجاڑ رہا ہے، برباد کر رہا ہے۔
دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
سارا دل داغ داغ ہوگیا،پھاہا کہاں کہاں رکھوں“

یہ سچا واقعہ سنا تو مجھے سمجھ آئی کہ میڈیا پر ایک انجن آئل کے اشتہار اور ایک روپے کی ٹافی تک میں عورت کی اس نمائش اور ڈراموں میں حیا سوز منظردکھائے جانے کے اس نسل پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہم تو ابھی انھی زخموں کو سہہ نہیں پائے تھے کہ ایک اور کاری ضرب اس لادین میڈیا نے عشق ممنوع جیسے کئی ڈراموں کی صورت میں ہمارے رشتوں پر لگائی۔ بخدا مجھے اس لائن سے آگے لکھنے کے لیے اپنی ساری قوت جمع کرنی پڑی کہ
چچی اور بھتیجے کا رشتہ، یا میرے خدایا۔ ماں کے برابر رشتے کی ایسے آبروریزی۔
یعنی اب ہمارے خاندان کے تقدس کو اس طرح پامال کیا جائے گا؟
پھر ایک وقت میں کئی کئی عشق کیے جانے کا سبق، کم عمر اور کچے ذہنوں کو کس بری طرح اس دلدل میں دھکیل دے رہا ہے۔

یہ بہت پرانی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کا بچہ اپنے سے ذرا بڑی لڑکی کو باجی اور تیس سے اوپر کی خاتون کو آنٹی کی نظر سے دیکھتا اور کہتا تھا. آج میڈیا اسے سکھاتا ہے کہ بڑا اور چھوٹا کچھ نہیں ہوتا، عورت بس عورت ہوتی ہے جس میں صرف کشش ہوتی ہے، اسے اسی نگاہ سے دیکھو، اس سے کسی بھی عمر میں عشق کیا جا سکتا ہے۔ باجی، بہنا، سسٹر، آنٹی، خالہ، یہ سب بس القابات ہیں، ان کے کوئی حقیقی معنیٰ نہیں۔

جس بات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا چناؤ انتہائی دشوار ہو جاتا ہے، میڈیا دن رات ایک کرکے اسی کوشش میں ہے کہ یہ دشواری ختم ہو جائے، کسی کو بھی کچھ سوچنا نہ پڑے بلکہ ”سب کہہ دو“ یعنی ہر شخص مادر پدر آزاد ہو جائے، جو جس کے جی میں آئے، وہی کرے اور وہی بولے،کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ میڈیا اس حدیث نبوی ﷺ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے کہ ”جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمھارے جی میں آئے کرو۔ (بخاری، باب الرفیق والحیاء)“
یعنی حیا ہی دراصل وہ رکاوٹ ہے جو انسان کو بر ے اور فحش کام کرنے سے روکتی ہے۔ وہ تصویر کئی بار سامنے آئی جس میں اس وقت ”عشق ممنوع“ کے نام سے چلنے والے ترکی کے مشہور اور حیا باختہ ڈرامے کی مذمت کی گئی، چونکہ ڈرامہ نہیں دیکھا، اس لیے اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں، مگر جب تفصیلات معلوم ہوئیں تو جو کچھ سنا اسے بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

کون ہے جو اس تباہی کا جائزہ لے کہ کس طرح باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ خاندانی نظام کو بھی کس پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، اور پھر اس کی روک تھام کےلیے اور متبادل کےلیے عملی اقدامات بھی کرے۔

سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ کیا سارا قصور میڈیا کا ہی ہے؟ کیا اس جرم میں ہم بھی برابرکے شریک نہیں؟ جب چھوٹے چھوٹے بچے ہاتھوں میں آئی فون، ٹیب اور آئی پیڈ لیے ان میں ہمہ وقت مگن اور مصروف نظر آتے، مہارت دکھاتے ہیں، اور ان کی ماؤں کی اکڑی ہوئی گردن،گویا وہ اپنے بچوں کے اس کارنامے پر فخر کرتی ہیں، نظر آتی ہے تو دکھ کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے کہ کیسے اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کو انگاروں پر انگارے لاکر دیے جا رہے ہیں اور ناداں ایسے کہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔یہ تو رونے کا مقام ہے کہ اک بچہ جسے اللہ کا پتہ نہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا، وہ بالی وڈ اور ہالی وڈ کے ہیروز کا فین ہے، اور فٹ بال کے کھلاڑیوں کا پورا بائیو ڈیٹا منٹوں سیکنڈوں میں نکال کر سامنے رکھ دیتا ہے۔ اس کے سر پر آدھے بال انڈین فلم کا ہیرو لے گیا، اور ماں باپ اس کے ان کارناموں پر فکرمند ہونے کے بجائے پھولے نہیں سماتے۔

جب تک غلط باتوں کو اسی طرح ٹھنڈے پیٹوں ہضم کیا جاتا رہے گا، یہ یلغار یوں ہی جاری رہےگی، کیا تیسرے درجے ﴿ یعنی تھرڈ کلاس﴾ کا ایمان بھی باقی نہیں رہا کہ کم از کم برائی کو برائی سمجھا جائے، اپنے رب کی وہ تنبیہ بھی یاد کر لیجیے کہ ”جو لوگ اہل ایمان میں بے حیائی کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ (النور؛ ١۹)“
کیا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ خوفزدہ نہیں کرتے کہ ”اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔“
دل خوف سے ڈوبنے لگتا ہے کہ کیا ہمارے لیے بھی فیصلہ کر دیا گیا؟
کیا ہم پر بھی بےحیاؤں کی مہر ثبت ہوگئی۔
اس سے آگے میں کچھ نہیں سوچ پائی۔ آپ اگر سوچ سکیں تو ضرور سوچیے، اس سے پہلے کہ سوچنے کی مہلت بھی جاتی رہے۔

Views All Time
Views All Time
319
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: