Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تاکتے رہتے تم کو شام سویرے

by مئی 26, 2016 مزاح
تاکتے رہتے تم کو شام سویرے
Print Friendly, PDF & Email

Maaida Mahmood"ہاتھ سے بنی ہوئی چق کے پیچھے سے جھانکتی وہ دو مخملی آنکھیں اور لہراتا ہوا لال آنچل” ایسا پرانے زمانے میں ہوتا تھا۔
پچھلے زمانوں میں چق کا رواج عام تھا، کھڑکیوں برآمدوں اور خاص طور پر بالکنی میں چق ضرور لگوائی جاتی۔ ہو سکتا ہے کہ چق کا مقصد دھوپ کو روکنا یا گھر کی خواتین کا پردہ ہوتا ہو، لیکن بہرحال عاشقی معشوقی میں بھی چق کا کردار بہت اہم رہا۔ مزید یہ کہ چق کے پیچھے چپ کر دوسروں پر نظر بھی رکھی جا سکتی تھی۔ پڑوسن کتنے بجے گھر سے نکلیں، کتنے بجے واپس آئیں، بازار سے کیا خریدا، کچھ نہیں خریدا تو کیوں نہیں خریدا۔
” اچھا تو پالک اور گاجرلائی ہیں، لیکن اس دن تو کہہ رہی تھیں کہ ان کے سسرال میں پالک نہیں کھائی جاتی۔ یعنی کوئی میکے والا آ رہا ہے، ساتھ میں گاجر کا حلوہ بھی بنائیں گی۔”
اور اس دوران اپنے کچن میں چولہے پر چڑھا آلو گوشت جل رہا ہے تو جلے۔
لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ نیا دور نیا پاکستان۔ سل بٹے کی جگہ گرائنڈر آ گیا، انگیٹھی کی جگہ ہیٹر اور رشتوں کی جگہ واٹس ایپ کو مل گئ۔
اب سوچئے چق کی جگہ کس نے لی؟ ہم سب کے پیارے راج دلارے فیس بک نے۔ عاشقی معشوقی ہو یا پڑوسن پر نظر رکھنا، اب ہر پریشانی کا حل بابا عامل فیس بک سائیں کے پاس موجود ہے۔ چق کے پیچھے سے جھانکتے ہوۓ تو شائد کوئی راہ گزر سایہ دیکھ لے لیکن فیس بک سے جھانکتے ہوئے کو توبس اللہ میاں ہی پکڑ سکتے ہیں۔
عام زبان میں ان تانکنے جھانکنے والوں کو سٹاکرز کہتے ہیں، اور یہ مضمون انہی تمام افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہے جو اپنے قیمتی وقت کا بیشتر حصّہ ہم جیسے ناچیزوں کی پروفائل کو دیکھنے میں صرف کرتے ہیں۔
جس طرح لڑکیوں کو تاڑنے والے لوگ ایک تو وہ ہوتے ہیں جو کھلے عام "واہ کیا حسن ہے، ماشاللہ، تر مال” کہہ کر تاڑتے ہیں اور ایک وہ جو کنکھیوں سے دیکھتے ہیں اور بیچارے صرف دل میں ہی "ماشاللہ، آئٹم ہے” کہہ کر گزارہ کرتےہیں، بالکل اسی طرح سٹاکرز کی بھی دو اقسام ہیں۔ ایک تو وہ جو کھلے عام آپ کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔
ایسوں کو عادی مجرم کہا جائے تو بہتر ہو گا۔ اگر آپ ایسے کسی سٹاکر کو جانتے ہیں تو پہلی فرست میں ان سے اپنے فیس بک کے تمام کوائف چھپا لیجیے، کیونکے یہ وہ قوم ہے جو کھلے عام آپ کی پروفائل پکچرمیں پیچھے رکھی میز پر رکھے گلدان کے اندر رکھے پیلے پھول کی ٹہنی پر چپکے کیڑے سے لے کر آپ کے 5 دفعہ پہنے ہوۓ کپڑوں تک پر تبصرہ کر سکتے ہیں۔
نیز پرسوں جو آپ نے وو شعر لکھا تھا ناں:
؎
یہ بھی نوبت آ گئی اکثر مرض عشق میں
ہاتھ تو اٹھے مگر مانگی دعا کچھ بھی نہیں
اس پر آپ کی ہاتوں کی ٹی بی کے لیے دعاۓ صحت کا اہتمام بھی کر سکتے ہیں۔
امام بارگاہ پر حملے کی مذمّت پر پوسٹ لگائی تو آپ شیعہ مسلک کے ہو جائیں گے اور
مولانا طارق جمیل کا کوئی قول لگایا تو سنّی ہو جائیں گے۔25 دسمبر کو میری کرسمس لکھ دیا تو کرسچین ہو جائیں گے اور اگر دوست کو ہولی کی مبارکباد دے دی تو بس سمجھیے "رام نام ستے ہے”۔ آپ نے وہ پیج بھی لائک کیا ہوا ہے ناں "آرمی براٹس”، یقیناۤ بچپن سے فوج میں جانے کے خواہشمند ہون گے لیکن بھرتی نہ ہو پاۓ۔ بہر حال اس قسم کے سٹاکرز کے لیے بس یہی کہنا چاہیے کہ "احتیاط علاج سے بہتر ہے”۔
سٹاکرز کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو "چپ بابے” کہلاتے ہیں۔ یہ بیچارے وہی ہوتے ہیں جو سڑک پر چلتی لڑکی کو سیٹی مارنے کے خواہشمند تو ہوتے ہیں لیکن اس کے بھائیوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ ان افراد کا تعلق سوشل میڈیا کے اس گروہ سے ہے جو قدرےعام اور غیر سوشل ہوتا ہے۔ چپ چاپ اپنے کام سے کام رکھنے والے یہ لوگ کاکروچ کی طرح اندھیرے میں اپنا مشن شروع کرتے ہیں۔ اور اس کو پایا تکمیل تک لانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیات کو مصرف میں لاتے ہیں۔
اور خوبی یہ کہ "اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لاعلم” ۔۔۔
اور پھر ایک سٹاکرز کی تیسری جنس ہوتی ہے۔ اب اس قوم کو کیا نام دیں کہ جو خود تو فیس بک پر موجود نہیں، نہ ہی ان کا کوئی پروفائل ہے، نہ ہی کوئی نام و نشان، لیکن ان کے تعلقات سٹاکرز کے اعلی حکام سے ہوتے ہیں۔ اور اس طرح وہ "ہر خبر پر نظر” کے مترادف اپنی نوکری بخوبی انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ تیسری قِسم والے قَسم سے بہت خطرناک ہوتے ہیں۔
بہرحال سٹاکنگ کرنا اتنا بھی برا نہیں۔ یقین جانیے اس کے بہت سارے فوائد بھی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو سٹاکنگ کرنی آتی ہے تو آپ ایک اچھی سی خوش شکل، خوش ذائقہ بریانی بنانے والی بہو ڈھونڈ سکتے ہیں، ایک پیارا سا کماؤ داماد ڈھونڈ سکتے ہیں (اور بوقت ضرورت اس کو ٹانک بھی سکتے ہیں)۔ مزید یہ کہ اگر آپ کی بہو اور بیٹا گھر پر نہیں تو دور بیٹھے ہی سہی، کم ازکم نظر تو رکھ سکتے ہیں ناں۔ اور اگر آپ خود بہو یا داماد ہیں تو اپنے سسر ساس پر بھی نظر رکھ سکتے ہیں (اور بوقت ضرورت لائک یا کمنٹ کر کے اچھی بہو اور داماد کا ٹائٹل لے سکتے ہیں)۔ اگر بیگم نے کھانے میں ٹینڈے ٹماٹر بناۓ ہیں تو "آفس میں کھا کر آؤں گا” کہہ کر راستے سے متین کی بریانی کھاتے ہوۓ آ سکتے ہیں، اور اگر آپ کے شوہر نے "لیونگ آفس” کا سٹیٹس 9 بجے لگایا اور گھر وہ ١٠ بجے پہنچے جب کہ راستہ صرف 10 منٹ کا ہے تو سمجھ لیجیے کہ کلاس تو بنتی ہے۔
اور آخر میں سب سٹاکرز کے لیے ایک بری خبر کہ فیس بک کی سیکورٹی سیٹنگز اب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہو گئی ہیں۔ یعنی جراثیم کا 99.99 فیصد تک خاتمہ۔ یہ بات اور ہے کہ وہ آخری 01۔0 فیصد والا معصوم سا جرثومہ بھی بسر اوقات کام کر جاتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
1343
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پانی پانی کرگئی مجھ کو ’جاپانی ‘کی یہ بات - گل نوخیز اختر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: