Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جنوبی وزیرستان کے متاثرین کی حالت زار

جنوبی وزیرستان کے متاثرین کی حالت زار
Print Friendly, PDF & Email

کچھ عرصہ پہلے لوگوں کے چہروں پر مایوسیاں تھیں اور یہی باتیں اکثر سننے کو ملتی تھیں کہ بارشیں نہیں ہو رہی اور محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں بھی کچھ ایسی ہی تھیں،بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں اکثر بچے اور بوڑھے بیمار تھے لیکن خدا کا کرنا یوں ہوا کہ بارشوں کا ایک سلسلہ ہی نہیں بلکہ بہت سے علاقوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔ان میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں پچھلے دس سالوں میں برف باری نہیں ہوئی تھی۔کل جنوبی وزیرستان سے میرا دوست منظور احمد جو گومل یونیورسٹی میں پڑھتا ہے مجھ سے ملا وہ کہہ رہا تھا کہ میں ابھی اپنے گاؤں سے آرہا ہوں،میں نے پوچھا سناؤ گاؤں کے کیا حالات تھے،اس نے کہا موسم کا تو مت پوچھو ہر طرف سفیدی ہی سفیدی نظر آرہی ہے وہی علاقے جہاں برسوں برف باری نہیں ہوئی دو دو،تین تین فٹ برف باری ہوئی ہے،اور سردی کی شدت میں حد درجے کا اضافہ ہوا ہے،اس سے میں نے پوچھا ویسے اکثر دیکھا اور سنا ہے کہ جن علاقوں میں برف باری ہوتی ہے تو وہاں خوردو نوش کی قلت،بجلی منقطع،سڑکیں اور آمدورفت کے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ تو اس نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں تو برف باری ہونے سے پہلے کے حالات اس سے بھی خراب تھے،اب برف باری ہونے کے بعد سردی کی شدت میں اضافے کیساتھ مسئلے اور بھی بڑھ گئے ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ویسے تو تمام قبائلی علاقے متاثر ہوگئے،لیکن ان قبائلی علاقوں میں جنوبی وزیرستان کا انفراسٹرکچر مکمل ختم ہوگیا،لوگوں کے گھر تباہ،زمینیں اور کاروبا رمکمل ختم،غرض جنوبی وزیرستان کے مکین ازسرنوع اپنی زندگی کی ابتداء کررہے ہیں۔پچھلے دنوں ایک خبر سننے میں آئی جس میں گورنر خیبرپختونخوا نے ہدایات جاری کی کہ قبائلی علاقوں کے ساتھ جنوبی وزیرستان کے وہی علاقے جو کھولے جا چکے ہیں ،ٹی ڈی پیز یکم فروری تک اپنی رجسٹریشن اور واپسی یقینی بنائیں ورنہ جانے والے ٹی ڈی پییز کو دی جانے والی مراعات ختم کر دی جائیں گی،ہمارے گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا صاحب کو ٹی ڈی پیز کی کافی فکر ہے مگر سوچنے کا مقام یہ ہے کہ ان سات آٹھ سالوں میں حکومت نے متاثرین کو دیا کیا ہے،اگر تھوڑی بہت ریلیف دی بھی گئی ہے تو وہ بھی این جی اوز کی طرف سے لیکن ان این جی اوز نے بھی متاثرین کے نام پر آنے والی امداد میں جو کرپشن کی وہ بھی ریکارڈ سطح پر۔ہاں اگر ان اداروں کی کارکردگی دیکھنا چاہیں تو صرف (صباؤں)نامی ادارے نے جنوبی وزیرستان میں ترقیاتی منصوبوں پر جو کام کیا ہے اسکے کئے ہوئے پروجیکٹس کی انکوائری کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے،اور ان کی کارکردگی کو سامنے رکھ کر باقی اداروں کی بعد میں تحقیقات کی جاسکتی ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان اداروں کو کرپشن کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ان کیلئے احتساب کا کوئی نظام ہی نہیں۔ یہاں پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بے گھر اور متاثرہ لوگوں کے نام پر آنے والی امداد کی اس کرپشن میں نا صرف حکومتی ادارے بلکہ یہاں کے سیاسی قائد ین بھی برابر کے شریک ہیں،اور اب یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ ان منتخب نمائندوں نے بھی اپنے نام این جی اوز کے ادارے تک بنا رکھے ہیں،تاکہ ان متاثرہ اور بے گھر خاندانوں کے نام آنے والی امداد میں کرپشن شفاف طریقے سے کر سکیں،ہمارے خاندان کی جنوبی وزیرستان واپسی آٹھ سال بعد ہوئی۔اتفاق سے یا اپنے پیشے کی مجبوری کی وجہ سے میں اپنے گاؤں نہ جا سکا،چھوٹے بھائی نے جب اپنے گھر او ر گاؤں کی صورتحال بیان کی اور ان تباہ شدہ مکانات کی تصویریں میرے ساتھ شیئر کیں تو یقین جانئے اس دن میری حالت ایسی تھی،جیسے میرے گھر سے میرے بیٹے کا جنازہ نکلا ہو۔اس نو دس سالہ صحافتی دور میں بہت تلخ حقائق دیکھے لیکن یہ بھی ان میں یہ ایک صبر آزما مرحلہ تھا،جنوبی وزیرستان کی اس واپسی کے موقع پر میری یہ حالت تھی تو میرے وزیرستان اور دوسرے قبائلی بھائیوں کی حالت کیا ہوگی، شاید اس سے بھی بدتر۔کیونکہ وہاں کے مکان بالکل رہنے کے قابل ہی نہیں تھے۔بہت سے خاندانوں نے گاڑیوں سے سامان تک نہیں اتارا اور واپسی کرلی،کیونکہ وہاں پر انکے گھر رہنے کے قابل ہی نہیں تھے،سارے مکان منہدم ہوچکے تھے۔ہماری فیملی نے کچھ دن گزار کر واپسی کی راہ لی کیونکہ بارشیں بہت تیز تھیں اور وہاں پر رہنے کا کوئی مناسب انتظام نہ تھا۔ مجبوراً ہماری فیملی نے بھی واپس آنا مناسب سمجھا اور ایسے بہت سے خاندان وہیں پر رہ گئے جن کا بندوبستی علاقوں میں مزید وقت گزارنا محال تھا،یہ منظر شاید کسی نے نہ دیکھا ہویہ بہت تکلیف دہ اور صبر آزما مرحلہ ہے۔اللہ کسی دوسرے بھائی کو اپنا گھر ایسی حالت میں نہ دکھائے،اب ایک این جی اوز کی طرف سے مکمل گھر تباہ ہونے والوں کو چار لاکھ اور گھر کو جزوی نقصان پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار کا معاوضہ دے کر ان بے گھر قبائلیوں کے ساتھ مذاق کیا جا رہاہے۔یہ معاوضہ تو ان قبائلیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے برابر ہے،اس چار لاکھ سے تو ایک کمرہ نہیں بن پاتا، یہ تو اس وقت کے حالات تھے اب تو بہت سے علاقوں میں برف باری ہوچکی ہے،وہاں کے متاثرہ لوگوں کو اب سردی اور برف باری سے بچاؤ کیلئے گرم خیمے، کمبل اور کپڑوں کی اشد ضرورت ہے،جنوبی وزیرستان کے سراروغہ،سروکئی،تیارزہ کے مختلف علاقوں میں قائم ہسپتال اور بی ایچ یوز اکثر بند اور عملہ غائب رہتا ہے اگر ان میں سے کوئی آباد بھی ہے تو ان میں ادویات کی شدید قلت ہے اور وہاں کے رہنے والے بچے زیادہ تر سینے اور جلد کی بیماری اور نمونیہ جیسے امراض میں مبتلا ہیں۔ان علاقوں میں واقع صحت کے تمام مراکز میں ایک بھی لیڈی ہیلتھ ورکر موجود نہیں،اکثر اوقات جب ڈیلیوری کیس ہوتا ہے تو انکو بندوبستی علاقوں ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان لانا پڑتا ہے ۔ فاصلے کی دوری کی وجہ سے اکثر مریض راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں،جنوبی وزیرستان میں آپریشن سے پہلے بھی زندگی کی بنیادی سہولیات جیسے مسائل کم نہ تھے لیکن اب اس آپریشن کے نتیجے میں ان مسئلو ں کا بچی کھچی کسر بھی پوری ہوگئی ۔میں جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ اور موجودہ حکومت کی توجہ بھی اس طرف دلانا چاہتا ہوں کہ جبکہ علاقہ کلئیر ہے لیکن پھر بھی مختلف علاقوں میں مائن بلاسٹ یعنی بارودی سرنگ کے بیس سے پچیس تک کے دھماکے رپورٹ ہوچکے ہیں جس میں اب تک ایک عورت اور ایک بچی جاں بحق ہوچکے ہیں اور باقی کے تمام مرد، عورت اور بچے معذوری کے شکار ہیں۔ان تمام افراد کی تفصیلات میرے پاس موجود ہیں۔اور ساتھ ساتھ ایک دوسرا مسئلہ بھی توجہ طلب ہے وہی علاقے جہاں متاثرین کی واپسی ہوچکی ہے وہاں جنگلی سور،ریچھ اور بندر وں کے انسانوں پر جاں لیوا حملے جیسے بیسیوں واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں،ان میں بھی دو افراد جاں بحق اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ایسے اور بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے جو رپورٹ تک نہیں ہوئے۔ خدارا گورنر صاحب واپس نہ جانے پر مراعات کو ختم کرنے کی بات نہ کریں ۔ان مسئلو ں پر توجہ دیں،ان بے گھر لوگوں کی اگر امداد نہیں کرسکتے تو کم از کم ان کے منہ سے یہ بچا کھچا نوالہ تو نہ چھینیں،ایک طرف کہہ رہے ہیں قبائلیوں نے اس ملک کیلئے قربانی دی اور دوسری طرف انکی قربانیوں کا یہ صلہ دے رہے ہیں۔

نصیر اعظم محسود

Views All Time
Views All Time
236
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   Tirade War or a Trade War?
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: