Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اسلام کے صوتی علوم – نوحہ خوانی

by اکتوبر 12, 2016 اسلام
اسلام کے صوتی علوم – نوحہ خوانی
Print Friendly, PDF & Email

aqeel-jafariاسلام کے صوتی علوم کے سلسلے کی دسویں اور آخری تحریر آپ سب کی خدمت میں پیش ہے۔
نوحہ کے لغوی معنی تو بین کرنا، گریہ و بکا، آہ و زاری اور نالہء و فریاد کے ہیں، لیکن ’’نوحہ خوانی‘‘ کی اصطلاح عام طور پر شہدائے کربلا پر برپا ہونے والے مظالم کا منظوم بیان کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔اس اصطلاح نوحہ گوئی کا آغاز تو عاشورہ کے روز خود امام حسین علیہ السلام کے کلام سے ہو جاتا ہے جسے آپ کی ہمشیرگان ذی وقار، حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا نے مزید وسعت دی۔
غم شبیر میں نوحہ خوانی کی تاریخ چودہ سو برس پرانی ہے اس کی باقاعدہ تاریخ کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب واقعہء کربلا اور شام و کوفہ کی اسیری کے بعد امام حسین ؑ کا لٹا پھٹا قافلہ مدینہ پہنچا۔ امام زین العابدین ؑ نے بشیر ابن جزکم کو اس بات پر مامور کیا کہ وہ آگے بڑھ کر اہل مدینہ کو نظم اور لحن میں خانوادۂ بتول کی آمد کی اطلاع دیں ۔اس کلام اور لحن کو ’’سنانی‘‘ یا ’’سواری‘‘ کہا جاتا ہے اور اسی پر فارسی روضہ خوانی ،اردو نوحہ و سوز خوانی اور پنجابی و سرائیکی ذاکری کی بنیاد ہے۔انیس ویں صدی میں اردو زبان میں نوحہ خوانی کا آغاز بر صغیر سے ہوا۔سوز خوانی کی طرح اردو نوحہ خوانی نے بھی اودھ میں عروج پایا اور پھر پورے بر صغیر میں پھیل گئی۔
اردو نوحہ خوانی کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کا آغاز لکھنؤ میں مختلف ماتمی دستوں اور انجمنوں سے ہوا۔ یہ ماتمی دستے صرف نوحے پڑھتے تھے جو مسلسل نظمیں ہوتی تھیں اور ہر نظم کربلا کے کسی ایک شہید کے بارے میں ہوتی تھی۔ان نوحوں کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہ عورت کی زبان سے کہے جاتے تھے اور یہ کوشش رہتی تھی کہ زبان سادہ ہو اور الفاظ پر درد ہو۔
قبر اصغر پہ کہتی تھی مادر،گھر چلوشام ہوتی ہے اصغر
خاک پر نیند آئے گی کیوں کر،گھر چلو شام ہوتی ہے اصغر
رات اندھیری ہے سونا یہ بن ہے،یاں مسافر کو رنج و محن ہے
کیوں لگایا یہاں تم نے نشتر،گھر چلو شام ہوتی ہے اصغر
رفتہ رفتہ نوحہ خوانی میں سینہ زنی کا آغاز ہوا پھر لے اور دھن کا اضافہ ہوا اور نوحوں کے بجائے ماتم پڑھے جانے لگے۔ یہاں تک کہ پرانی طرز کے نوحے اب خال خال ہی سنائی دیتے ہیں۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی عزاداری سید الشہدا کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جو آج تک نہ صرف جاری و ساری ہے بلکہ اس میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔قیام پاکستان کے بعد لکھنؤ کی نوحہ خوانی نے کراچی میں قدم جمائے اور پھر پاکستان کے طول وعرض میں پھیل گئی۔کراچی میں ماتمی انجمنیں قائم ہوئیں۔ جنہوں نے شب بیدارریوں کا رواج ڈالا۔ ان شب بیداریوں اور محرم کے جلوسوں نے نوحہ خوانی کے فن کو بڑا فروغ دیا۔کراچی میں جن نوحہ خوانوں نے نوحہ خوانی کو بام عروج تک پہنچایا ان میں استاد صادق حسین چھجن صاحب،سید عالم واسطی چھمن،آفاق حسین رضوی،آغا عزت لکھنوی،ناظم حسین،جعفر حسین کاظمی، مشتاق حسین شبر، سانولے آغا،خوش رخ مرزا،حسین قیصر علی کے علاوہ سید علی محمد رضوی سچے کا نام سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
جعفر کاظمی صاحب نے تنہا پڑھنے کا رواج ڈالا۔ انہوں نے اگرچہ مدحیہ و منقبتی کلام وغیرہ بھی پڑھا لیکن عمومی طور پر المیہ اور بینیہ کلام اور روایتوں کو ترجیح دی۔جعفر کاظمی صاحب کی تنہا پڑھنے کی روایت آگے بڑھی اور اسی کی دہائی میں حسن صادق، علی ضیا رضوی، ندیم رضا سرور،ناصر حسین زیدی اور نعیم حسین روفی نے سینئرز کی راہ پر چلتے ہوئے ماتم شبیر کا علم بلند رکھا۔
پہلے پہل کراچی، عزا داری کا مرکز بنا اور ایام عزا میں تمام تر نوحے کراچی سے شروع ہوتے تھے اور پھر پاکستان بھر میں گونجا کرتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ پنجابی۔ سرائیکی اور ہندکو کا انداز نوحہ خوانی بھی مقبول ہونا شروع ہوا۔اس وقت جناب حسن صادق، حب علی، فرح خانم،سید ناظم حسین، ناصر اصغر، بھولا پارٹی، در بتول والے، بارہ امام والے،غلامان حسنین، وغیرہ پاکستان کے مقبول نوحہ خوانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ نوحہ خوانی کی ایک شکل وہ بھی ہے جو ریڈیو اور ٹیلی وژن کے سامعین اور ناظرین تک جناب ناصر جہاں کے ذریعہ پہنچی اور ان کی وفات کے بعد ان کے صاحب زادے اسد جہاں اور اشرف عباس زندہ رکھے ہوئے ہیں ، لیکن نوحہ خوانی کا یہ انداز صرف الیکٹرونک میڈیا تک ہی محدود ہے۔
اکیس ویں صدی میں ندیم سرور کے صاحب زادوں سمیت کئی دیگر نوجوان صاحب بیاض نوحہ خواں بھی نوحہ خوانی کے اس سفر میں شریک ہوئے اور نہ صرف اندرون ملک شہرت حاصل کی بلکہ بیرون ملک بھی عزاداری سید الشہدا کی ترویج میں اپنا کردار ادا کیا، ان نوحہ خوانوں میں میر حسن میر، شادمان،عرفان حیدر،شاہد بلتستانی،رضا عباس زیدی،میثم، رضا عباس شاہ، فرحان علی وارث اور ندیم سرور کے صاحب زادوں علی جی اور علی شناور سمیت بہت سے نوحہ خواں شامل ہیں

Views All Time
Views All Time
1219
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   قرآن کا سائنسی مزاج-مہتاب پیامی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: