اسلام کے صوتی علوم – اذان

Print Friendly, PDF & Email

aqeel-jafariصوتی علوم کے سلسلہ کی دوسری تحریر آپ لوگوں کی خدمت میں پیش ہے۔
اذان کے لغوی معنی اعلان کرنے یا با خبر کرنے کے ہیں۔ شریعت میں اذان سے مراد وہ خاص الفاظ ہیں جن کے ذریعے فرض نمازوں کی دعوت دی جاتی ہے۔اذان پانچوں فرض نمازوں اور جمعہ کی نماز کے لئے سنت مؤکدہ ہے۔ اس کے علاوہ بچے کی پیدائش کے وقت بھی اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے۔اذان دینے والے شخص کو اصطلاحاً موذن کہا جاتا ہے۔قاری کی طرح موذن کا بھی نہ صرف خوش الحان ہونا ضروری ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بلند خواں بھی ہو۔
اذان کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ سب لوگ مل کر ایک وقت پر نماز کے لئے جمع ہو سکیں۔ ہجرت کے بعد جب مسجد نبوی تعمیر ہوئی تو کچھ عرصہ تک نمازیوں کو اکٹھا کرنے کے لئے ان کے گھروں سے بلا لیا جاتا تھا۔کیونکہ ان کی تعداد اتنی زیادہ نہ تھی۔ لیکن جب یہ طریقہ ناکام ثابت ہوا تو پھر اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے نمازیوں کو اطلاع کی جا سکے ۔حضور اکرم ﷺ نے اس سلسلہ میں صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا۔ چنانچہ مختلف اصحاب نے مختلف مشورے دیئے۔ کسی نے کہا کہ کسی بلند جگہ آگ جلائی جائے تا کہ لوگ اسے دیکھ کر مسجد کا رخ کریں۔ کسی نے مشورہ دیاکہ نماز کے وقت مسجد پر ایک جھنڈا لہرا دیا جائے جس سے یہ سمجھ لیا جائے گا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ کسی نے کہا کہ اہل یہود و نصاریٰ کی طرح ناقوس یا گھنٹیاں بجائی جائیں جس کی آوازسن کر تمام افراد نماز کے لئے جمع ہو جائیں مگر حضور اکرم ﷺ نے ان تمام تجاویز کو مسترد فرما دیا۔
دوسرے دن صبح کے وقت حضرت عبداللہ بن زید انصاریؓ بارگاہ نبوی ﷺمیں حاضر ہوئے ،انہوں نے فرمایا کہ آج خواب میں مجھے ایک اجنبی شخص نے نمازیوں کو اکٹھا کرنے کے لئے چند الفاظ تعلیم فرمائے ہیں ۔اسی دوران حضور اکرم ﷺ کو بھی وحی کے ذریعہ ان الفاظ سے آگاہ کیا جا چکا تھا چنانچہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زیدؓ کی تائید فرمائی اور کہا کہ وہ حضرت بلالؓ کو ان الفاظ کی تعلیم دیں کیونکہ ان کی آواز زیادہ بلند، نرم اور شیریں ہے۔حضور اکرم ﷺ کے حکم پر حضرت بلالؓ نے مسجد نبوی میں پہلی اذان دی، یہ واقعہ سن ۲ ہجری کا ہے۔
اگرچہ اذان کے لئے کوئی لے مقرر نہیں ہے تاہم موذن کا خوش الحان ہونا ضروری ہے۔ ایک روائت کے مطابق موذن کو ۵۵ نمازوں کے برابر ثواب ملتا ہے۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص متواتر بارہ برس تک اذان دے گا اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔ جو شخص اذان کا مکمل جواب دیتا ہے اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور حضرت ابو ہریرہؓ کے بقول وہ شخص جنت میں ضرور جائے گا۔
اذان ایک اہم ترین ذریعہ تبلیغ بھی ہے اور ایک اہم ذمہ داری اور مشکل فن بھی۔اذان کے لئے تمام معیار،شرائط اور لوازمات تقریباً وہی ہیں جو فن قرات کے مخصوص رہے ہیں۔ یعنی صحیح تجوید اور صحیح تلفظ کے ساتھ الفاظ کی ادائیگی۔ البتہ بلند خوانی وہ اضافی مگر بنیادی صفت ہے جو ایک موذن کے لئے بے انتہا ضروری ہیں۔اذان کے سات کلمات ہیں۔ جن میں سے پہلا کلمہ چار مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔ باقی کلمات دو ،دو بار اور آخری کلمہ صرف ایک بار کہا جاتا ہے، وہ کلمات یہ ہیں۔
اللہ اکبر۔اشہدان لا الہٰ الا اللہ۔اشہدان محمد الرسول اللہ۔حی علی الصلوٰۃ ۔ حی علی الفلاح۔ اللہ اکبر اور لا الہٰ الا اللہ
صبح کی اذان یعنی نماز فجر کی اذان میں حی علی الفلاح کے بعد دو مرتبہ الصلوٰۃ خیر من النوم کا کلمہ پڑھا جاتا ہے ۔ اس کلمے کے معنی ہیں ’’نماز نیند سے بہتر ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھئے:   رمضان کی آمد آمد ہے

 

Views All Time
Views All Time
847
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: