Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کربِ قندیل اور میں

by جولائی 21, 2016 بلاگ
کربِ قندیل اور میں
Print Friendly, PDF & Email

fazalیہ1995ء کی بات ہے. میں انیس سال کا تھا گندم کی کٹائی کا موسم تھا میں جو کہ کام چور طبیعت، سست اور خصوصاً گندم کی کٹائی کا شدید گرم موسم میرے لیے وبال جان تھا۔ خدا گواہ ہاڑ کے موسم میں کام سے بچنے کے لیے میں اکثر اپنے مرنے کی دعا مانگتا تھا مگر میری ماں کی دعا کی وجہ سے میری دعا اکثر آسمان تک نہ پہنچتی اور میں دل کے گھٹنے کےساتھ ساتھ دم گھٹنے کی تکلیف میں خود کو مبتلا کرلیا کرتا ۔ میں ایک دن دوپہر کے وقت درخت کے سائے میں لیٹا ہوا تھا سورج نے اپنی آتشیں آنکھوں سے مجھےاور میں نے چھ ایکڑ پر پھیلی ہوئی کٹائی پر تیار گندم کو دیکھا تو ماتھے سے پسینہ ٹپکنے لگا میرے ذہن میں سوالات گھومنے لگے اس بلا سے کیسے جان چھڑائی جائے۔ مختلف سوالوں کے بعد ایک سوال ذہن میں آیا کہ آج رات کے اندھیرے میں گھر سے فرار کرتے ہیں۔ کسی بڑے شہر میں کوئی ہلکی پھلکی مزدوری کرکے پندرہ بیس دن بعد جب فصل کی کٹائی ہو جائے گی واپس آجائیں گے۔ میں نے شام ہوتے ہی ایک کپڑوں کا جوڑا گھر سے چھپا کر ایک شاپر میں ڈالا اور 200/- روپے جو کہ جیب میں بغرض ضرورت رکھے ہوئے تھے سنبھالے۔ فصل کے درمیان سے چوروں کی طرح پاؤں پہ پاؤں رکھتا ہوا لنک روڈ تک پہنچا وہاں سے مین روڈ پر ایک ویگن پر بیٹھا اور ڈیرہ غازیخان لاری اڈا سے الحبیب نیازی ایکسپریس کی بس پر بیٹھ گیا سیٹ پر بیٹھتے ہی ادھر اُدھر کی سواریوں کو دیکھا تو ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے وہ تمام مجھے جانتے ہیں اور مجھے میرے کیے کی سزا دینے پر تلے بیٹھے ہیں۔ دل کی دھک دھک تیز ہوئی، ہاتھ میں عجیب کپکپی طاری ہوئی اور آنکھیں باطن میں برسنے لگیں، ڈر سے پسینہ بہنے لگا میں تھا جو بھیگنے کے ساتھ ساتھ ناک کے نتھنے کے کھلنے اور بند ہونے کی کیفیت میں مررہا تھا۔ ڈرائیور اپنی سیٹ پر بیٹھا کنڈکٹر نے ٹکٹ چیک کرنا شروع کیے، میری سیٹ پر آتے ہوئے میرے ساتھ والے آدمی جو کہ میری طرح مضافاتی اور بے حد سہما ہوا معلوم ہوتا تھا کا ٹکٹ چیک کیا اور آہ مجھے آواز دی ہاں ٹکٹ؟ میں نے ٹکٹ دکھایا۔ کنڈکٹر واپس چلا گیا اس کے بعد کچھ اطمینان محسوس کیا، گاڑی بس اڈے سے روانہ ہوئی رات کا وقت تھا (مگر مجھے آج بھی معلوم نہیں میں اس وقت 19 سال کا جوان تھا یا لڑکا) گاڑی نے دریائے سندھ کا (پل غازیگھاٹ) کراس کیا اس کے بعد معلوم نہیں کیا ہوا۔ لاہور لاہور کی آواز کانوں پر پڑی دیکھا تو دن چڑھا تھا اور سورج مجھے گھور گھور کے دیکھ رہا تھا۔ کنڈکٹر نے آواز دی گاڑی جلدی خالی کردو، میرے پاؤں جواب دے چکے تھے۔ پاؤں میں پڑی ہوائی چپل گھسیٹتے ہوئے نیچے اترا ، بھوک لگی ہوئی تھی۔ ہوٹل سے بیس روپے کی روٹی لی کیوں کہ جیب میں وہی بیس روپے بچ گئے تھے۔ روٹی کھانے کے بعد لوگوں کے چہروں کو دیکھاجو خوش و خرم اپنے اپنے گھروں کی طرف چل رہے تھے۔ تقریباً دن کے دو بج گئے تو مجھے خدا یاد آیا، مسجد کی طرف گیا، وضو کیا، میرے وضو کرنے پر دو تین آدمیوں نے میری طرف حیرت سے دیکھا، میں ڈر گیا وہ چلے گئے۔ میں نے مسجد کے ایک ستون کی اوٹ میں نماز پڑھی۔ مجھے نہیں معلوم کیا ہوا کہ سجدے میں جاتے ہی میری اچانک چیخ نکل گئی جس کی وجہ سے میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ نماز ختم کی تو ایک نرم دل، نرم خو آدمی میرے قریب آیا پوچھا بیٹا کیوں رو رہا ہے۔ میں نے موقع کا فائدہ اٹھایا بولا میری جیب کٹ گئی اور میں نے گھر ڈیرہ غازیخان جانا ہے (جو کہ میرا سفید جھوٹ تھا) کیونکہ وہاں رہنا تو مجھے عذاب لگ رہا تھا نہ کوئی بولتا تھا اور نہ میں بول سکتا تھا۔ پردیس کے منظر بڑے وحشت ناک ہوتے ہیں اور وہ بھی بچپنے میں۔ وہ شریف النفس انسان اسی ہوٹل کا مالک تھا مجھے ہوٹل پر لے آیا۔ روٹی دوبارہ کھلائی اور ایک آدمی جو کہ چارپائی پر لیٹ کے سگریٹ کے کش لے رہا تھا اسے کہا میرا عزیز ہے آپ نے اسے ڈیرہ غازیخان لے جانا ہے۔ کرایہ وغیرہ نہیں ہے اس لمبے چوڑے آدمی نے کہا استاد ایسی کوئی بات ہے، بس تیار ہوئی اور مجھے ڈرائیور کے ساتھ بٹھا دیا گیا۔ دوسری رات تقریباً ایک بجے ڈیرہ غازیخان واپس پہنچا، رات لاری اڈا پہ بسر کی دن کو گھس گھس کے پھر ماں کی آغوش میں پناہ لی کیونکہ میں مرد تھا اور مجھے اس بات کا ڈر نہیں تھا کہ میں واپس پلٹتے ہی مار دیا جاؤں گا کیونکہ میرا گھر سے نکلنا کوئی جرم نہیں تھا۔
qandeel balochاب جبکہ قندیل کی وحشت ناک کہانی میرے سامنے آئی تو میرے دل نے کرلاٹ شروع کردیا کہ ایک کمسن دلہن جس نے شوہر اور دیوروں کے ظلم سے تنگ آکر گھر چھوڑا ، وحشت ناک راتوں کے سفر کیے، کئی بھیڑیوں کے خونخوار پنجوں سے خود کو محفوظ کیا، زندگی کے کئی سندھ، چناب اور راوی پیاسے عبور کیے، کس ہنر کیساتھ بھوکے پیٹ پہ پتھر باندھے ہوں گے، پہلا شخص وہ جس سے بولی ہوگی ، کیا کہا ہوگا۔ اپنے کلیجے کو چباتی رہی ہوگی، اپنے دل کو کسطرح سنبھالا ہوگا، رتجگوں نے آنکھیں باہر نکال دیں ہوں گی، دن کی تھکن کس طرح اتارتی ہوگی، کس کے گھر کی نوکرانی رہی یا کسی ہوٹل کی بحری بنی، کتنے ایام اس وحشت ناکی میں گزرے ہوں گے، کتنی بے ظرف مجسموں کے دھکے کھائے ہوں گے، کتنی نیزہ نما زبانوں سے طعنے سنے ہوں گے، کتنی آنکھوں کے تیر سہے ہوں گے اور کیسے خود کو زمانے کے سپرد کردیا ہوگا۔ مدہوشی کے عالم میں کب شعوری آنکھ کھلی ہوگی اور اسے اپنا مستقبل سوائے ماڈلنگ کے کہیں نظر نہ آیا ہوگا تو اس نے اس خونخوار راستہ کا کٹھن سفر کتنا حوصلہ کےساتھ شروع کیا ہوگا۔ کتنی محنت کی ہوگی، کام کےساتھ ساتھ کسی گھر کی نوکرانی بھی ضرور رہی ہوگی۔ مجہول و محروم طبقہ سے نکلی ہوئی لڑکی کتنے خون خوار درندوں سے لڑی ہوگی مگر اس نے ٹھان لیا تھا کہ اب فوزیہ عظیم آتش انسانی کے ہول میں جل جل کے قندیل ہی بنے گی جو اس نے بن کر دکھایا۔ اگر قندیل زندہ رہتی تو یقیناًجس کرب سے گذری ہے اس کا ازالہ کرنے کے لیے وہ ضرور سیاسی قوت بناتی اور محروم و مجہول لوگوں میں مسیحائی کا کام سرانجام دیتی مگر شومئی قسمت جن درندہ صفت بھائیوں کو دن رات ایک کرکے کھلاتی پلاتی رہی انہیں کے ہاتھوں قتل ہوگئی جو کہ وسیب کا بہت بڑا نقصان ہوا۔ دھرتی کی آنکھیں نکال دی گئیں۔ خدا ہی جانے کیا چوٹ لگی میرے معصوم دل کو یہ میں رونے لگا زار و قطار اور میں ہائے ہائے کرکے رہ گیا۔ کھن سے چکنا چور ہوگیا، میرا ساغر سرشار اور چٹ سے ٹوٹ گیا، میرا جھماجھم کا تار، اب بھی مدفن مقتول پہ لوگوں کی ڈانٹ پھٹکار جاری ہے اور قاتل کے ہمدرد جوق در جوق اکٹھے ہورہے ہیں مگر میرا سوال ہے دوستو! جب ایک صنف نازک کے گلے پہ قاتل نے ہاتھ رکھ کر دبایا ہوگا کیا کہا ہوگا، مقتول نے، مقتول کے حلق سے کیسی آواز نکلی ہوگی اور کتنا تڑپا ہوگا وہ جسم جو اس قاتل کی مدد کیلئے رقص کیا کرتا تھا۔ بس اسی سوال کا جواب چاہیے مجھے۔
مرد گر انگوٹھی ہے عورت ایک نگینہ ہے
اس طرح تو دونوں کو ساتھ ساتھ جینا ہے
جاہلوں کی بستی میں باشعور لڑکی کا
جرم صاف گوئی تھا موت جس کا زینہ ہے
سر کی لاج بھائی تھا سر کا تاج بھائی تھا
اس کا دل کمینہ ہے جس میں بغض کینہ ہے
نفرتوں کے جبر میں قتل ہو کے کھو گئی
پر کسے معلوم تھا پیار کا خزینہ ہے
اس کی ایک خواہش تھی آسمان چھونا ہے
پر زمین والوں نے اس کا خواب چھینا ہے
دور تک جہالت ہے پھر قندیل بجھتی ہے
منزلوں کی لاشیں ہیں خون ہے پسینہ ہے
فلسفوں سے گھائل وہ بے خودی میں مائل وہ
خواہشوں کی دلدل میں پھر ظفرؔ سفینہ ہے

Views All Time
Views All Time
522
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ہم گناہ گاروں کا "من کنت مولا" تو بس یہی ہے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: