Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کچھ اپنے بارے میں

by مئی 28, 2016 مزاح
کچھ اپنے بارے میں
Print Friendly, PDF & Email

Rao-Saqib-300x300خوش گمانی انسان کا خاصہ ہے۔
حسنِ ظن انسان کی فطرت میں ہے۔وہ جسے نہیں جانتا اسے اچھا جانتا ہے، اور جسے اچھے سے جان جاتا ہے اسے پھر کبھی اچھا نہیں جانتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ مجھے بھلا کہنے والے میری شخصیت سے ناواقف تھے ، اور جنہیں میری ذات سےشناسائی نصیب ہوئی انہوں نے زندگی بھر میرا قصیدہ نہیں پڑھا۔
آج ان لوگوں کو اپنے بارے بتانا چاہتا ہوں جو مجھے نہیں جانتے۔ امید کرتا ہوں کہ آئندہ وہ بھی میری بے جا تعریف کرنے کا کفارہ ادا کریں گے۔
یوسفی صاحب لکھتے ہیں کہ "جسے پہلا پتھر پھینکتے وقت اپنا سر یاد نہیں رہتا اسے دوسرں پر پتھر پھینکنے کا کوئی حق نہیں۔”
اسے میرا پہلا پتھر تو نہیں البتہ "پہلا کنکر ” سمجھیے۔
اسمِ گرامی؛-
خاکسار کو ثاقب بہت کم لوگ کہتے ہیں۔ نام بگاڑنے کو ہمارے ہاں مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بگڑے ہوئے بندے کے بھی بہت سے بگڑے ہوئے نام ہیں جو یہاں بوجوہ نہیں لکھے جاسکتے۔
نام کے معنی چمکتا ہوا ستارہ ہیں کے ہیں۔ نام تجویز کرنے والے کو ہمارے بچپن کے کارناموں کو دیکھ کر ہی اپنی سنگین غلطی کا احساس ہو گیا ہوگا۔
——–
=> ولادت بے سعادت:
22 اور 23 دسمبر کی درمیانی شب کو ” گوگیہڑیا” خاندان کے افق پر بمطابق نام "چمکتا ہوا ” اور بمطابق کام بد قسمتی کا ستارہ نمودار ہوا۔
مورخ لکھتا ہے کہ یہی وہ دن تھا جب گوگیہڑیا عہد کے زوال کا آغاز ہوا۔ عاجز کی تاریخِ پیدائش کو آج بھی خاندان کی اجتماعی بد قسمتی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔
——–
=> شجرہِ نسب:
فقط باپ، دادا اور پڑدادا کے اسماءِ مبارک سے واقفیت ہے۔ قیاس کہتا ہے کہ کہیں نہ کہیں سے ہوتے ہوئے اس شجر کی جڑیں حضرت آدم سے ملتی ہیں۔ یہی میرے اشرف المخلوقات میں سے ہونے کی”واحد” دلیل ہے۔
——–
=> علمی قابلیت بلکہ نا قابلیت:
راقم کو بچپن ہی سے اول، دوم، سوم آنے کا بیحد شوق رہا ہے۔ جب کبھی پوزیشن لینے میں ناکام رہے، تو ڈنکے کی چوٹ پہ گھر والوں کے سامنے اسے ممتحن کی نااہلی اور نا عاقبت اندیشی قرار دیتے ہوئے ایک ذہین طالبِ علم پر ظلم کا نام دیا۔
حال مختصر یہ کہ بندہ کسی نہ کسی طرح ایف ایس سی تک پہنچ چکا ہے۔ تعلیمی مصروفیات کے باعث معاشرتی میل جول میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ جسے دوسروں کے ساتھ ساتھ میں نے خود بھی محسوس کیا ہے۔ اکل خورا ہو گیا ہوں۔ انسانوں سے زیادہ کتابوں سے دوستی ہے۔ یاد رہے دوستی فقط ادبی کتابوں سے ہے، نصابی کتب سے ہمارا تعلق شریکے کا سا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جھیلنا پڑتا ہے۔
———
=> پسندیدہ:
مضامین میں پسندیدہ مضمون ریاضی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ اس کا میرے(ایف ایس سی) سلیبس میں شامل نہ ہونا ہے۔
پسندیدہ مشاغل میں ادبی کتب کے علاوہ فیس "بک” کا مطالعہ شامل ہے۔ نثر نگاری میں صفحے کالے کرنے علاوہ ماورائے بحور و عروض، بے معنی و بے وزن اور نا قابلِ نشر واشاعت شعر بھی کہتا ہوں۔
پسندیدہ کھیلوں میں کرکٹ اور والی بال کے علاوہ فٹ بال محض دیکھنے کی حد تک پسند ہے۔ بلکہ پسند نہیں مجبوری ہے۔ فٹ بال سے لگاؤ رکھنے والے نامراد دوستوں کی محفل میں ذلت سے بچنے واسطے کبھی کبھار دیکھا کرتا ہوں۔ رونالڈو اور میسی کے ناموں کے علاوہ فٹ بال بارے صرف اتنا جانتا ہوں کہ غالباً 45-45 منٹ کے دو ہاف ہوتے ہیں اور کھلاڑی کا کام بس کک لگانا ہے پھر وہ زوردار کک دوسرے کھلاڑی کے بجائے فٹ بال کو لگ جائے تو غنیمت ہے۔
کھانوں کے معاملے میں میری پسند بہت محدود ہے۔ نمکین ماکولات میں صرف اور صرف چکن بریانی ، چکن پلاؤ ، چکن قورمہ، مٹن قورمہ، ساگ(لسی ساتھ ہونی چاہیے)، مرغوب ہیں۔ اس کے علاوہ بھنڈی گوشت، توری گوشت، گوبھی گوشت اور ہر وہ سبزی جس میں گوشت ڈال کر پکایا جا سکتا ہو ( سبزی کو باعزت طریقے سے ایک طرف کر کے باقی شے ) نہایت شوق سے کھاتا ہوں۔ میٹھےمیں صرف وہی شے پسند ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہو۔ لیکن دل رکھنے خاطر اس کے علاوہ بھی کوئی چیز اگر کوئی پیار سے کھلائے تو کھا لیتا ہوں۔
پسندیدہ پھلوں کا ذکر کیا جائے تو کون بد ذوق ہے جسے آم پسند نہ ہوں؟ البتہ اس عاجز کی پسند صرف آم پر موقوف نہیں۔ اگر کوئی اچھے دل سے کھلائے ( یا برے دل سے ہی کھلائے ) تو ہر پھل کو قابل الاکل سمجھتا ہوں۔
رنگوں میں سرخ رنگ اور پھولوں میں گلاب کا پھول پسندیدہ ہونا اس عاجز کے "مسلمِ عاشق مزاج ” ہونے پر دال ہے۔ اسی مزاج کا اثر سمجھیے کہ دس سال سے اٹھارہ سال کی عمر کے دوران سات محبتیں "زیب من” کر چکے- یہ تو ایف ایس سی نامی ولن کی عشق دشمنی آڑے آئی جو قلت وقت کے باعث پچھلے دو سالوں میں صرف ایک ہی محبت کر پائے، وگرنہ ہماری ہر سالگرہ کے کیک پر عمر کے ساتھ ساتھ عشق کی موم بتیوں میں بھی ایک کا اضافہ ہوا کرتا تھا- اس مسلسل جدو جہد کی وجہ یہ ہے کہ جس پر بھی نظر پڑی اسی کے ساتھ منگنی ہوگئی (کسی اور کی)- اب تو یہ حال ہے کہ جن لڑکیوں بالیوں کے رشتے نہ ہورہے ہوں تو ان کے والدین اس خاکسار کی چوکھٹ پہ ان سے "وقتی” محبت کر لینے کی درخواست اس امید کے ساتھ لے کر آتے ہیں کہ
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
خیر ان تمام حالات اور پے در پے شکست کا سامنا کرنے کے باوجود کبھی ہار نہیں مانی- ہر بار یہی سوچ کر کہ
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
پھر سے اسی عزم و ہمت، جرات و استقامت اور بلند حوصلے کے ساتھ نئے میدان محبت کو فتح کرنے کے لیے معرکہ آرا ہوجاتےہیں –
اب تک نتیجے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مستقبل اللہ بہتر جانے-
اور آخر میں اپنے اثاثہ جات کی تفصیل میں ایک سیاسی بیان کہ بدن پر موجود لباس، اور پاؤں تلےموجود جوتوں کے علاوہ کسی شے کو "اپنی” کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ کوئی آف شور کمپنی بھی نہیں ہے۔
——–
اس طویل تعارف کے بعد ایک وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ یہ کہ اپنے متعلق میں نے جو برائیاں کیں، ان کو بنیاد بنا کر کسی کو انگشت نمائی کا حق بالکل نہیں ہے۔ سچ کہوں تو چونکہ بڑے لوگ اکثر خود کو چھوٹا کہتے ہیں۔ لہذا میری اس کسرِ نفسی کا مقصد بھی خود کو بڑا ثابت کرنا تھا۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Views All Time
Views All Time
286
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: