کچھ فادرز ڈے پر

Print Friendly, PDF & Email

maaz bin mahmoodہمارے معاشرے میں والدین اور اولاد کے درمیان ادب اور تعظیم کا ایک ایسا سمندر دیکھا جاتا ہے کہ جس میں پھنس کے دونوں پارٹیاں کھل کے محبت کا اظہار بھی نہیں کر پاتیں. محبت کے اس عدم اظہار کے باعث شاید اولاد کو اپنی زندگی میں محبت کا جھوٹا یا سچا اقرار کرنے والی پہلی ذات میں وہ سب نظر آنے لگتا ہے جو وہ شعوری یا لاشعوری طور پہ والدین میں نہیں دیکھ پاتے. نتیجتاً نو عمری میں ملنے والی "پہلی محبت” کے لیے دعاؤں کے بعد پیدا ہونے والی اولاد دعا کے لیے اٹھنے والے ہاتھوں سے بھڑ جاتی ہے. یہ وہ وقت ہوتا ہے جب والدین خاص کر کے باپ کے عادات و اطوار اتنے پختہ ہو چکے ہوتے ہیں کہ انہیں بدلنا ناممکن ہوتا ہے. ایسے حالات میں والدین کو جب Due Respect نہیں ملتی اور اولاد ان کی امیدوں کے برخلاف بغاوت پہ اترنے کو تیار ہوتی ہے تو اناؤں کی ایک لامتناہی جنگ کا آغاز ہوتا ہے جس میں جیت کسی کا مقدر نہیں بنتی. دونوں فریقین ایک دوسرے سے بڑھ کے نقصان اٹھاتے ہیں یہ جانتے بوجھتے بھی کہ جس سے لڑ رہے ہیں وہ بھی اپنے ہی جسم کا ایک ٹکڑا ہے. ایسے حالات میں قسمت والے ہی اپنی انا کو والدین یا اولاد کے عشق کے حق میں قربان کر کے دنیا و آخرت میں سرخرو ہوتے ہیں. ایک بڑی تعداد اپنی غلطی پہ ندامت کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتی ہے لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے.
ایک باپ کا بیٹا اور ایک بیٹے کے باپ ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کی ایسے حالات میں غلطی کسی ایک کی نہیں بلکہ عموماً دونوں کی ہی ہوتی ہے. انا کی جنگ میں قسمت کے دھنی والدین بھی ہو سکتے ہیں اور اولاد بھی کیونکہ اس جنگ میں بہرحال دونوں ہی غلطی پہ ہوتے ہیں. اصل فاتح انا قربان کرنے والا قرار پاتا ہے.
والدین اور اولاد کا ایک دوسرے کے لیے اظہار محبت ابتدائی طور پر میں کافی زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے تاہم اس میں بتدریج کمی آتی رہتی ہے. بڑے بتاتے ہیں کہ وہ اس کمرے میں جانے سے گریز کیا کرتے تھے جہاں ان کے والد بیٹھے ہوں. ایسا کسی زمانے میں شاید کارگر ثابت ہوتا ہو لیکن آج گلوبل ولیج میں ایسا کرنا والدین اور اولاد کے درمیان خلیج کو بڑھانے کا موجب بنتا ہے. کچھ عمل دخل یہاں کلچر اور تمدن کا بھی ہے. مثال کے طور پر پختون کلچر میں باپ اور اولاد کے درمیان یہ فاصلہ کافی زیادہ مگر نارمل جبکہ اردو سپیکنگ کلچر میں ایسا نسبتاً کم ہوتا ہے. بین الاقوامی سطح پر میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ عرب ممالک اور یورپین کلچر بھی اولاد کو والدین کے نسبتاً قریب آنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے. مدرز اور فادرز ڈے پر اولاد کا والدین کو کارڈز دینا یا کھل کے اس کا اظہار کرنا ایک عام سی بات ہے.
اس ضمن میں ہمارے ملک کی روایات فی الوقت اس مقام پہ نہیں پہنچ سکی جہاں ہم والدین کو خاص کر کے والد کو ان کی زندگی میں کھل کے ہیپی فادرز ڈے کہہ سکیں اور اس طرح ان کی تعظیم سے ایک قدم آگے بڑھ کے ان سے محبت کا اظہار کر سکیں. اس بات سے اختلاف کی صورت میں اپنی فیس بک کھولیے اور پچھلے تین دن اپنی ٹائم لائن پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیے کہ فادرز ڈے وش کرنے والے کتنے لوگوں کے والد حیات ہیں اور کتنوں کے اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں.
اللہ. تعالى ہم سب کو اپنے والدین کی زندگی مین ان سے محبت کا کھلا اظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ اسی میں ان کا خون بڑھنے کا موقع ہے اور اسی میں ہماری بھلائی. آمین.

Views All Time
Views All Time
484
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   نقرئی خوابوں کے کھوٹے سِکّے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: