Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

صابر چشتی کے ساتھ گزری کچھ یادیں

by جون 20, 2016 کالم
صابر چشتی کے ساتھ گزری کچھ یادیں
Print Friendly, PDF & Email

aamirصابر چشتی کے ساتھ میری پہلی ملاقات روزنامہ خبریں ملتان کے دفتر میں ہوئی تھی-اس وقت یہ دفتر چوک نواں شہر کے ساتھ ایک کالونی میں کرائے کی بلڈنگ میں تھا-وہ اس اخبار کے میگزین سیکشن میں تھے-اور وسیب سنگ نامی ایک ایڈیشن کے انچارج تھے-میں ان دنوں ایک طرف سرائیکی زبان کو پڑھنا سیکھ رہا تھا اور دوسری طرف اس زبان میں ادب کی صورت حال کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہا تھا-اس سلسلے میں پہلی مرتبہ صابر چشتی سے ملاقات ہوئی- دھان پان سے تھے-ڈریس پینٹ اور شرٹ پہنے ہوئے تھے-میں نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھے سلام کیا-نمانتا کا یہ انداز مجھے بہت بھایا تھا-بہت دھیمی آواز کے ساتھ اور عاجزانہ لہجے میں انھوں نے بولنا شروع کیا تو مجھے حیرت ہوئی کہ کیا یہ وہی صابر چشتی ہے جس کو سیاسی سرگرمیوں کی بنا پر میڈکل کالج سے نکال دیا گیا تھا-خیر صابر سے یہ پہلی ملاقات ان سے کئی اور ملاقاتوں کا سبب بن گئی-اور اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے نام کے ساتھ چشتی کا لفظ اتفاق یا رسمیه نہیں ہے-بلکہ وہ اپنی اس نسبت کے مطابق صلح کل مسلک کے قائل ہیں-
صابر چشتی کو سندھی ،سرائیکی ،پشتو اور بلوچی شاعری کے تمام اہم ماخذ کا علم تھا-وہ اردو ادب سے بھی اچھی طرح واقف تھے-انگریزی ادب سے بھی ان کو شناسائی تھی-یہی وجہ ہے کہ وہ سرائیکی ادب کو عالمی ادب کے تناظر میں دیکھا کرتے تھے-اور سرائیکی ادب پر لکھتے ہوئے ان کے قلم سے جوتحریرنکلتی تھی وہ ان کے اس تقابلی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہوا کرتی تھی-
ان سے بہت ساری ملاقاتیں مظفر بخاری کی رہائش گاہ پر بھی ہوئیں-بہت سارے رت جگے ہم نے اکھٹے گزارے-بہت سے یاد گار رت جگے تھے جن میں صابر کے ساتھ رفعت عباس ،شمیم عارف قریشی ،جاوید چانڈیو ،اسلم جاوید ،مظہر خان،عاشق بزدار،حفیظ خان ،جہانگیر مخلص ،حسن رضا بخاری ،مظہر عارف ،عباس تابش ،عزیز شاہد ،اشو لال فقیر ،غضنفر عباس ،لطیف بھٹی اکھٹے تھے-ان رت جگوں میں دنیا جہاں کی باتیں ہوا کرتی تھیں-صابر چشتی کو مظفر بخاری ان کے کمرے سے لال کرتی کے پاس سے کار میں بیٹھا کر لاتے اور وہ جب بھی جانے کی بات کرتے ان کو روک لیا جاتا-پھر وہ اخبار کے دفتر جانے کی اجازت مانگتے تو واپس آنے کی شرط پر ان کو جانے دیا جاتا-کبھی کبھی چشتی صاحب کمرے میں جاتے ہی نہیں تھے-اور ہم کار میں بیٹھ کر ان کی طرف جاتے تو کمرے کو تالہ لگا دیکھ کر سمجھ جاتے کہ چشتی صاحب فرار ہوچکے ہیں-چشتی صاحب کا جانے پر اصرار اور مظفر بخاری کا رکنے پر اصرار بہت خوش کن صورت حال پیدا کر دیتا تھا -پھر جب شمیم عارف سرائیکی زبان میں مشتاق یوسفی سٹائل میں بات بات میں چٹکلے چھوڑتے تو عام طور پر سنجیدہ رہنے والے صابر چشتی کی ہنسی روکے نہیں رکتی تھی-خوشی کے بہت سارے رنگ ان کے چہرے پر پھیل جاتے اور ان کو ہنستا دیکھ کر نجانے کیوں میرے اندر سکون کی لہر دوڑ جاتی تھی-مجھے بہت زیادہ اطمینان ہوتا تھا-
Sabir Chishtiمیری ایک فنتاسی بھی سنتے چلیں -صابر چشتی کا رنگ سیاہ تھا-اور قد بھی بس ٹھیک ہی تھا-رفعت اکثر مقامیت پر بات کرتے ہوئے مقامی آدمی کے کالے ہونے کا ذکر کرتے-اور وہ جب اس مقامی آدمی پر ہونے والے ظلم کی متھ بناتے تو میں صابر چشتی کو اس کالے آدمی کے سانچے میں رکھ دیتا تھا-مجھے کئی مرتبہ ایسا لگا کہ صابر ہی رفعت عباس کا نقلی ہے-اور صابر ہی ان کی گھومتی زمین پر والی نظموں کا مرکزی کردار ہے-مجھے ایسا کیوں لگتا تھا میں آپ کو بتا نہیں سکتا-
صابر کی شاعری کی ایک ہی کتاب سامنے آئی-صابر سے اصرار کیا جاتا تو سناتا تھا مگر خود سے اپنے شعر کبھی نہیں سناتے تھے-میں نے جب ان کی نظمیں سنی تو مجھے پتہ چلا کہ صابر کی نظموں میں ان کی جنم بھومی کا بہت ذکر ہے-اور وہ اپنے بچپن کو بہت زیادہ مس کرتے ہیں-انہیں اس بات کا بھی بہت زیادہ احساس تھا کہ ان کے وسوں کو ماحولیاتی تباہی نے بہت نقصان پہنچایا ہے-وہ اس کا زمہ دار سرمایہ داری نظام کو ٹھہراتے تھے-وہ کسی حد تک مثالیت پسند بھی تھے-وہ سبز ماضی کو ماحول دوست فضاء کو واپس لانا چاہتے تھے-کہیں کہیں ٹیکنالوجی سے بے زاری کا اظہار بھی کرتے تھے-
صابر چشتی اپنی دھرتی سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے-اور وہ اس بات کے بھی شاکی تھے کہ ان کی دھرتی کو ابھی تک حملہ آوری کا سامنا تھا-ان کا خیال یہ تھا کہ ماضی میں تلوار کے زور پر قبضہ کر لیا جاتا تھا-اب یہ قبضہ گیری اور حملہ آوری الاٹمنٹ لیٹر ساتھ لیکر آتی ہے-صابر چشتی سچا اور مخلص قوم پرست ادیب اور شاعر تھا-
آخری دنوں میں بہت چپ چپ رہنے لگا تھا-کوئی شے اندر ہی اندر اس کو ختم کر رہی تھی-یار لوگ کہتے ہیں کہ وہ مجازی عشق کی وادی میں جا نکلا تھا-عجب بات ہے کہ صوفی لوگ مجاز سے حقیقت کی طرف سفر کرتے ہیں مگر وہ تو حقیقت سے مجاز کی طرف جا نکلا تھا-یہی وجہ ہے کہ اس کا دل بہت کمزور ہوگیا تھا اور اس عمر میں عشق کا بوجھ نہیں سہار سکا-
صابر چشتی ایک روز چپکے سے رخصت ہوگیا-میں نے اس کی وفات کے بعد اس کی جنم بھومی دیکھی-دائرہ دین پناہ کی ایک بستی-جس کا تذکرہ میں نے اس سے بہت مرتبہ سنا تھا-اور اس بستی میں اس کی بچپن کی یادیں بھی اس کی زبان سے سنی تھیں-وہ کہتا تھا کہ پہلی مرتبہ جب وہ اپنی بستی سے شہر گیا تو اس کو احساس ہوا کہ مضافاتی زندگی کا مطلب کیا ہوتا ہے-اس نے ایک وقت اسلام آباد بھی گزارا تھا-اور اس کو اپنے وسوں کی پسماندگی اور اس میں پھیلی غربت کی بہت شت سے یاد آئی تھی-
وہ اور شاعروں کی طرح اپنی قوم کا درد محسوس کرتا تھا-اور اپنے وسوں کی خوش حالی دیکھنا چاہتا تھا-اس نے بہت سارے خواب دیکھے تھے-یہ خواب اب بھی زندہ ہیں-صابر چشتی ہم میں موجود نہیں مگر اس کی اس،امیدیں،خواب سبھی ہمارے پاس اس کی امانت ہیں-جن کو حقیقت کا روپ دینا ہم سب کا فرض بنتا ہے-
سرائیکی خطہ جب بھی قومی جبر سے آزاد ہوگا تو صابر چشتی کا نام اس خطہ کی نجات کے لئے کام کرنے والوں کی فہرست میں بہت نمایاں ہوگا-
میں اب جب کبھی لال کرتی سے گزرتا ہوں تو بالی کے ہوٹل پر رکھی ایک میز پر میری نظریں جم جاتی ہیں-میں کچھ دیر اس میز پر بیٹھ جاتا ہوں-چائے کا ایک کپ سپ کرتے ہوئے صابر چشتی کو اپنے سامنے والی کرسی پر بیٹھے دیکھتا ہوں-اس کی خاموشی زبان بن جاتی ہے-پھر جب اس گلی سے گزرتا ہوں جس کے ایک چوبارے پر صابر چشتی رہتا تھا تو مجھے وہ منظر یاد آتا ہے کہ میں اور دیگر دوست زینہ چڑھ کر اس کے پاس جاتے تو وہ ہاتھ جوڑ کر ہم سب کو سلام کرتا اور اپنی نمانتا کا اظہار کرتا-میں نے اس کے چہرے پر کبھی بیزاری نہیں دیکھی-دوستوں سے اوب جانا نہیں دیکھا-ایک عجب سی بےنیازی اس کے چہرے سے جھلکتی رہتی تھی-آج جب یہ سطور لکھنے بیٹھا ہوں تو اس کا بےنیاز چہرہ اور نمانتا سے بھرا ہوا سلام میری آنکھوں کے سامنے ہے-افق پر کہیں دور بیٹھا وہ مسکرا رہا ہے-اور ہلکے سے مجھے کہہ رہا ہے-چھوڑو حسینی ………..ان لفظوں سے تم کیا نکالو گے-میں کسی کی پکڑ میں نہیں آنے والا-ٹھیک ہی تو کہتا ہے وہ کب کسی کی پکڑ میں آنے والا تھا-اتنی خاموشی سے چلا گیا کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلنے دیا-اس نے جی کا جانا ٹھہرتا ہوا دیکھ کر کسی کو خبر بھی نہیں کی-کسی کو نہیں بتایا کہ کوئی دوست صبح پہرہ دے لیتا تو کوئی شام -اس کے جانے کے بعد صبح ویسے ہی ہوتی ہے جیسے پہلے ہوتی تھی-شام بھی اور رات بھی-نجانے کیوں نہ صبح ویسی لگتی ہے اور نہ ہی شام و رات-اس کے جانے کے بعد کئی رت جگے ہوئے-یاروں کی منڈلی پھر بیٹھی-شمیم عارف نے مشتاق یوسفی کا کاسٹیوم پھر بزبان سرائیکی پہنا اور محفل کئی بار کشت زعفران بنی لیکن ویسی نہیں جیسی صابر کے ہوتے بنتی تھی-

Views All Time
Views All Time
388
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بادشاہ ، جرنیل اور منتخب آمر کبھی غلط نہیں سوچتے | حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: