Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کر بھلا سو ہو بھلا-سہیل احمد

کر بھلا سو ہو بھلا-سہیل احمد
Print Friendly, PDF & Email
”بچپن کی فلم‘‘ اکثر ہمارے ”یادوں کے سینما‘‘ میں زیرِ نمائش رہتی ہے۔ اس میں کئی دفعہ ایسے منظر کا فیتہ بھی یادداشت کے پروجیکٹر پر چڑھ جاتا ہے جس میں پائے جانے والے سنگی ساتھی یا بزرگ کرداروں سے ہماری بالمشافہ سالہا سال سے ملاقات نہیں ہوئی ہوتی‘ یا پھر وہ اس دنیا سے کوچ کر چْکے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود آج بھی ان کی آواز اور چہرے کے تاثرات ہماری آنکھوں اور کانوں میں تر و تازہ ہیں۔ بچپن کی اس فلم میں سب سے زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ اس میں صرف ہیرو ہوتے ہیں، ”مین ہیرو، سائیڈ ہیرو، کامیڈی ہیرو‘‘… یعنی یہ فلم اکثر ولن کے بغیر ہوتی ہے، کیونکہ ہر ”منفی عمل‘‘ میں اتنی شدت آ چْکی ہوتی ہے کہ بچپن کے ولن پر معصومیت کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔ وہ منفی کے بجائے مثبت محسوس ہونے لگتا ہے۔ مْختصراً عرض یہ ہے کہ ہر شخص کو دور حاضر کے مقابلے میں اپنا بچپن ہی اچھا لگتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدّت کا آنا بھی ہے‘ کیونکہ آج تک کی تاریخ تو ہمیں یہی بتاتی ہے کہ ایجادات نے ”انسان‘‘ کو فائدہ مگر ”انسانیت‘‘ کو نقصان پہنچایا ہے۔
ہمارے گھر کے نزدیک جموں کشمیر کے مہاجروں کا ایک کیمپ تھا، جس کی آبادی ہزاروں میں تھی۔ یہ بے سر و سامان ہجرت کر کے آنے والے تمام لوگ اردگرد کے آبادکاروں کی محبت اور احساسِ ذمہ داری کی وجہ سے خوش و خْرم زندگی گزارتے تھے۔ آس پاس کے لوگوں میں اپنے مْحلے داروں کی دیکھ بھال کا احساس اس قدر شدید تھا کہ اپنے بچوں سے زیادہ اْنہیں ان کی فکر ہوتی، اور یہ فکر تقریباً ہر گھر میں پائی جاتی تھی۔ یہ تمام مْخیر حضرات کسی شوگر مل، کاٹن مل یا سٹیل مل کے مالک نہیں تھے اور نہ ہی جاگیروں یا پلازوں کے‘ سب سفید پوش تھے مگر ان کے خون سفید نہیں تھے، ان کی جائیداد انسانیت تھی، یہ اپنی جیب بھرنے سے پہلے دوسرے کا پیٹ بھرتے، لوہے کے مضبوط صندوقوں میں انہوں نے فالتو کپڑوں کے نکلنے کا ”آسان راستہ‘‘ رکھا ہوتا، ان مڈل کلاس خاندانوں میں ایسی برکت تھی کہ ہر گھر سے ”بھلا‘‘ نکل کر چْپکے سے کسی دوسرے گھر میں گھْس جاتا کیونکہ ان لوگوں کا شیوہ تھا ”کر بھلا سو ہو بھلا‘‘۔
بھلا کرنا تو دور کی بات دوسروں کا بھلا سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے ہم لوگوں نے۔ امیر نے اپنی سہولت کی خاطر غریب کی ضرورت بھی چھین لی ہے۔ بند ڈبوں میں دودھ، دہی، لسّی اور مکھن خرید کر لوگ ”بند ڈبوں‘‘ میں گھس جاتے ہیں۔ ان کے کانوں میں اردگرد کسی بچے کے بِلکنے یا کسی بزرگ کے کراہنے کی آواز ہی نہیں پڑتی۔ گھروں کی دیواریں جْڑی ہوئی مگر گھر والے ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ سائنس نے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے لوگوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا مگر احساس یگانگت ہزاروں میل دور چلا گیا۔ جِدّت نے ”انسان‘‘ کو بہت آسانیاں دی ہیں مگر ”انسانیت‘‘ کو مْشکل میں ڈال دیا ہے۔ ایجادات کے غلط استعمال نے ذاتی مفادات کو جنم دیا ہے اور اب ہم مفادات کی ان زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں!
خاص طور پر تیسری دنیا کے لوگ ایجادات کا استعمال کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ ان سے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہوتے ہیں‘ جیسے ہمارے ہاں ریفریجریٹر پہنچنے کے بعد ہم نے ایک دوسرے کی بھوک کو محسوس کرنا چھوڑ دیا۔ فریج گھنٹوں کے استعمال کے لئے تھی‘ لیکن ہم نے اسے مہینوں کا ”کولڈ سٹور‘‘ بنا لیا۔ ہمارا فالتو کھانا اردگرد کسی انسان کی بجائے اب اس کے پیٹ میں چلا جاتا ہے اور مہینوں پڑا رہتا ہے۔ کئی دفعہ تو اس کھانے کے ریفریجریٹر میں قیام کو اتنا عرصہ بیت جاتا ہے کہ ہم سالن کا نام بھی بھول جاتے ہیں‘ اگر تعارف کے لئے اسے ناک کے قریب کیا جائے تو ناک باقاعدہ ناراض ہو جاتی ہے۔ آخرکار یوم صفائی مناتے ہوئے ہم اسے کوڑے دان کی نذر کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف بھوک جیسا اہم مسئلہ‘ جو عوامی سطح پر ہی حل ہو جایا کرتا تھا‘ اب وطن عزیز میں سر اْٹھائے کھڑا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ریفریجریٹر نے سارے عوام کو ذخیرہ اندوز بنا دیا ہے۔ ناقابلِ یقین بات ہے کہ ایسے ملک کے اندر جہاں ارب پتی لوگ موجود ہیں جن کی نظرِ کرم سے دنوں میں مہنگے ترین ہسپتال کھڑے ہو جاتے ہیں‘ جن کی شفقت سے زلزلہ زدہ پورے پورے شہر دوبارہ قائم ہو جاتے ہیں‘ اسی ملک کے اندر انسان دو روٹیوں کی وجہ سے مر رہا ہے‘ یہ کیسے ممکن ہے؟ کیسے مانا جا سکتا ہے؟ کیسے ہو سکتا ہے؟ مگر یہ ہو رہا ہے!
چند دن پہلے مجھے ایک ایسے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا‘ جس کا موضوع ”ملک میں غذائیت کی بڑھتی ہوئی کمی‘‘ تھا۔ یہ فکر انگیز اجتماع ایم پی اے سائرہ افتخار اور صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ساتھ مل کر منعقد کیا تھا۔ محکمہ صحت بھی شریک تھا‘ جس کی نمائندگی خواجہ عمران نذیر کر رہے تھے۔ وہاں موجود ماہرین نے پاکستان کے اندر غذائیت میں کمی کے حوالے سے جو معلومات پیش کیں وہ فکر انگیز بھی تھیں اور قابلِ شرم بھی۔ وہاں بیٹھے میں مْسلسل ان بزرگوں کو یاد کرتا رہا‘ جو اپنے سے پہلے دوسروں کا خیال رکھتے۔ جن کے دستر خوان پر اپنے لئے کھانوں کے ساتھ دوسروں کے لئے خیر موجود ہوتی تھی۔ بہرحال یہ بیٹھک قابل ستائش تھی کہ حکمرانوں نے ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دی جس کا سیاست کی ریٹنگ سے تعلق نہیں!
اپنے اردگرد کی غْربت کا ذمہ دار ہر وہ شخص ہے جس کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ پڑا ہو‘ اور وہ غریب تک نہ پہنچائے۔ رزق بانٹنے سے ہی ملتا ہے، روکنے سے روٹھ جاتا ہے۔ جیسے بھوکے کا پیٹ رزق کو ترستا ہے اسی طرح رزق بھوکے پیٹ کو ترستا ہے۔ اس سے پہلے کہ رزق ناراض ہو جائے اسے بھوکے تک پہنچانا چاہیے!؎
اج سماں کْجھ ہور فقیرا کل سماں کْجھ ہور 
پلّے ہوندیاں منگن والا خالی ہتھ نہ ٹور
dunya.com.pk

Views All Time
Views All Time
307
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: