Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سندھ دھرتی، صوفی اور سوشلسٹ

by ستمبر 25, 2016 کالم
سندھ دھرتی، صوفی اور سوشلسٹ
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: شاداب مرتضٰی
ہماری ایک بہت عزیز دوست کہتی ہیں کہ سندھ میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کی ذمہ داری سوشلسٹوں پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ سندھ کے صوفیاء اور دھرتی شاعروں ،کنور بھگت رام، صوفی شاہ عنایت، شاہ لطیف بھٹائی، سچل سرمست وغیرہ اور قوم پرست رہنماؤں، مثلا جی۔ایم۔سید، کا ٹھٹہ اڑایا، ان کی مخالفت کی۔ جس کے نتیجے میں سندھ میں صوفی روایت کمزور پڑی ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے مسائل کا حل صوفیت اور قوم پرستی کی جانب واپس لوٹنے میں ہے۔ ان کا خیال یہ بھی ہے کہ جب یہ "حقائق” سوشلسٹوں کے سامنے لائے جاتے ہیں تو وہ انہیں تسلیم کرنے کے بجائے فرار کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
گزارش یہ ہے کہ سوشلسٹ عموما تصوف پر یقین نہیں رکھتے لیکن میں نے اپنی تمام عمر میں آج تک کوئی ایک ایسا سوشلسٹ نہیں دیکھا جو صوفیاء کا یا دھرتی شاعروں کا مذاق اڑائے۔ البتہ میں ایسے بہت سے سوشلسٹوں یا مارکسسٹوں سے واقف ہوں جو صوفیاء کے خیالات اور خصوصا ان کی شاعری کے مداح اس لیے ہیں کہ ان میں انسان دوستی کے اور ملائیت اور مذہبی تنگ نظری کے خلاف عمدہ خیالات پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض خود صوفیت کے احیاء کی تحریک چلانے کے خواہشمند بھی ہیں۔
شاہ لطیف اور سچل سرمست کے بے شمار مداح سوشلسٹ ہیں۔ شاہ لطیف کا اردو ترجمہ کرنے والے ایک سوشلسٹ ٹریڈ یونین لیڈر سے میں ذاتی واقفیت رکھتا ہوں۔
صوفی شاہ عنایت شہید کو سوشلسٹ سندھ دھرتی کا پہلا کمیونسٹ سمجھتے ہیں اور ان پر بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے ظالم سندھی حکمرانوں کی جانب سے سندھ کے سندھی کسانوں پر ظلم کے خلاف مسلح جدوجہد کی اور اس جہدِ عظیم میں شہید ہوئے۔
کنور بھگت رام مسجد منزل گاہ پر ہندو مسلم بلوے میں جان بحق ہوئے۔ ڈاکٹر در محمد پٹھان کے بقول منزل گاہ کے واقعے کی ذمہ دار سندھ مسلم لیگ تھی جس کے کلیدی رہنما حاجی عبداللہ ہارون (سرمایہ دار) جی۔ ایم۔سید (پیر) اور ایوب کہڑو (جاگیردار) تھے جن کا مقصد، بقول ڈاکٹر در محمد پٹھان، سندھ کے سندھی ہندوؤں اور سندھی مسلمانوں کے درمیان مذہبی تفریق پیدا کر کے سومرو حکومت کو ختم کر کے مسلم لیگ کی حکومت قائم کرنا تھا۔
سندھ میں قوم پرستی کی تحریک پاکستان کے قیام کے بعد سے موجود ہے اور سندھ کی سب سے گہری سیاسی، سماجی اور ثقافتی تحریک ہے۔ لیکن اب تک سندھ کی قوم پرست تحریک سندھ کی اکثریتی آبادی یعنی سندھ کے سندھی کسان اور سندھی مزدوروں کو سندھ کے ظالم و جابر سندھی وڈیروں اور سندھی سرمایہ داروں کے ظلم و جبر سے آزادی کے لیے کچھ نہیں کر سکی۔ چمبڑ میں سندھی آبادگاروں کی ایک میٹنگ میں ایک سندھی آباد گار کے یہ جملے اس خاکسار کے کانوں میں ابھی تک گونجتے ہیں کہ "جو وڈیرہ میری زمین کا پانی چراتا ہے وہ بھی سندھی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر یہ سندھی قوم پرستی کس چیز کا نام ہے؟”
سندھ کے دسیوں لاکھوں سندھی کسان اور سندھی مزدور اپنی ہی قوم کے وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کیا سندھ کے لاکھوں کسان اور مزدور سندھی نہیں ہیں، سندھی قوم کا حصہ نہیں ہیں؟
ان کے حق اور آزادی کی آواز سندھ کے سوشلسٹوں نے اٹھائی۔ حیدربخش جتوئی کو سندھ کے سندھی وڈیروں نے درختوں سے باندھ کر مارا، سندھی کسانوں پر اپنے حق کی جدوجہد کرنے کی پاداش میں کتے چھوڑے گئے، مائی بختاور سندھ ہاری تحریک کی پہلی شہید عورت بنی لیکن سندھ کے کسان سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دے کر سندھ ٹیننسی ایکٹ منظور کروانے میں کامیاب ہوگئے۔ سندھ کے قوم پرست سندھ میں زرعی اصلاحات کا سوال اٹھانے اور سندھ کے کسانوں کو ان کا حق دلوانے کے لیے مہم چلانے پر راضی نہیں ہیں۔
سندھ کے مزدوروں کو منظم کرنے، ان کی ٹریڈیونین بنانے، ان کو سیاست میں لانے کا مقدس ترین جمہوری فریضہ بھی سندھ کے سوشلسٹوں نے انجام دیا۔ عزیز سلام بخاری سے لے کر نذیر عباسی تک یہ سوشلسٹ تھے جو سندھ کے جمہور، سندھ کی اکثریتی آبادی، کے حق کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کر گئے اور جان پر کھیل گئے۔ سندھ کے قوم پرستوں کی طرح نہ ان کے پاس بنگلے تھے اور نہ ڈبل کیبن بیش قیمت گاڑیاں اور نہ اردگرد ملازموں کے جتھے۔
سندھ کی جمہوری طلبہ تحریک کی بنیاد بھی سندھ کے سوشلسٹوں نے رکھی۔ سندھی قوم پرستوں نے طلبہ تحریک کو غنڈہ گردی، اوباشی، بدمعاشی، منشیات فروشی جسی لعنتوں کا شکار بنا دیا۔
سوشلسٹ قوم پرست نہیں ہوتے۔ قوم ملکیتی اور غیر ملکیتی طبقوں میں بٹی ہوتی ہے۔ قوم پرستی میں طبقاتی جدوجہد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ قوم پرستی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ قوم کو ایک کل تسلیم کیا جائے اور اس میں موجود طبقاتی تقسیم کو نظر انداز کیا جائے۔ قوم کے اندر موجود ظالم اور مظلوم طبقے کے فرق کو رد کرتے ہوئے قوم کے ہر فرد سے یکساں محبت کی جائے۔ سوشلسٹ بین الاقوامیت پسند ہوتے ہیں۔ وہ ہر قوم کے مظلوم طبقے کے حمایتی اور ظالم طبقے کے مخالف ہوتے ہیں۔ وہ ہر قوم کے محنت کش طبقے کو دوسری قوم کے محنت کش طبقے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر قوم کے محنت کش طبقے کو اپنی قوم اور ساری قوموں کے ظالم طبقے کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ سوشلسٹ ظالم قوم کے خلاف مظلوم قوم کی جدوجہدِ آزادی اور خود اختیاری کے علمبردار ہوتے ہیں۔ لیکن قومی آزادی کی جدوجہد میں وہ کبھی قوم پرست نہیں بنتے بلکہ اپنی قوم کے اندر موجود ظالم طبقے کے خلاف مظلوم طبقے کی آزادی کے لیے بھی مستقل لڑتے ہیں۔
قوم پرست اپنی قوم کے مظلوم طبقے کا استحصال جاری رکھنے اور اسے چھپانے کے لیے مظلوم طبقے کو قوم پرستی کا، قومی محبت اور یگانگت کا فریب دیتے ہیں تاکہ قومی بھائی چارے اور قومی ہم آہنگی کے پرفریب خیالوں سے متاثر ہو کر مظلوم طبقے کے لوگ اپنی ہی قوم کے ظالم طبقے کے ظلم کے خلاف بغاوت نہ کر سکیں، آواز نہ اٹھا سکیں۔
قوم کے اندر موجود ظالم طبقہ، ایک زبان، ایک ثقافت، ایک تاریخ، ایک علاقے کے نعروں کو قوم کے اندر موجود مظلوم طبقے کو اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم اور استحصال کو برداشت کرنے یا اس ظلم کے خلاف ان کے اندر پیدا ہونی والی نفرت، غم و غصے اور بغاوت کو دوسری قوم کے لوگوں کی جانب منتقل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔
تصوف ظالم طبقے کو مظلوم طبقے پر ظلم کرنے سے نہیں روک سکتا۔ سندھ کے وڈیرے، سرمایہ دار اور بیوروکریسی سندھ کے صوفیاء کے خیالات اور شاعری سے ناواقف نہیں ہیں۔ صوفیانہ کلام کہیں بھی ان کے طبقاتی مفاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ صوفیانہ کلام سندھ کے محنت کشوں کو طبقاتی جدوجہد اور انقلاب کے لیے آواز نہیں دیتا۔ صوفیانہ کلام مذہبی انتہا پسندی کے خلاف رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو تقویت ضرور دے سکتا ہے لیکن یہ معاشی مسائل کو حل کرنے کا کوئی راستہ فراہم نہیں کرتا۔ سندھ کے محنت کش عوام کا استحصال اس وقت بھی جاری تھا جب سندھ میں مذہبی انتہا پسندی موجود نہیں تھی۔ تصوف کوئی معاشی ،سیاسی فلسفہ نہیں ہے۔
سندھ میں مذہبی انتہا پسندی کی لہر اسٹیبلشمنٹ اور سندھ کے حکمران طبقے کے مفادات کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ سندھ کی وڈیرہ شاہی اور اس کی معاون فوجی مقتدرہ سندھ میں مذہبی انتہا پسند اور دہشت گرد قوتوں کو منظم کرنے میں ملوث ہے۔ سیاسی حکومت اس خطرناک عمل کو روکنے سے لاچار اور ان کی سہولت کاری پر مجبور ہے۔
عرض یہ ہے کہ سندھ کے مسائل کا حل نہ ہی تصوف ہے اور نہ قوم پرستی۔ تصوف کے ذریعے ریاست کی جانب سے منظم کردہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے آگے بندھ باندھنا ممکن نہیں۔ یہ سیاسی معاملہ ہے۔ سندھ کے مسائل کو حل کرنا تو کجا، قوم پرستوں نے سندھ کی صورتحال کو خراب تر کیا ہے۔ سندھ کے مسائل کو طبقاتی جدوجہد کے زریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اور طبقاتی جدوجہد کے نزدیک سندھ کے حقیقی مسائل وہ مسائل ہیں جن کا تعلق سندھ کے محنت کش طبقوں سے ہے۔ مڈل کلاس طبقے کی قوم پرستانہ جذباتیت بذاتِ خود ایک مسئلہ ہے مسائل کا حل نہیں۔
مڈل کلاس ظالم اور مظلوم طبقے کے درمیان میں کھڑی ہے اور تذبذب کا شکار ہے۔ یہ اپنی بقاء کے لیے ظالم طبقے کی دی گئی معاشی مراعات پر انحصار کرتی ہے اس لیے اس کی جانب جھکتی ہے۔ لیکن مظلوم طبقے کے دگرگوں حالات سے پیدا ہونے والی سماجی ابتری سے متاثر بھی ہوتی ہے۔ یہ سماج کو اس انتشار کی کیفیت سے نکالنے کے لیے ظالم اور مظلوم طبقوں میں "بھائی چارہ اور قومی ہم آہنگی” قائم کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کے لیے لے دے کر اس کے پاس سوائے "قوم پرستی” کے کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں بچتا جس کے زریعے یہ سماجی برابری، مساوات اور انصاف کے آدرشوں کو حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ سماج میں حقیقی طور پر موجود طبقاتی تضاد کو قوم پرستی کی خیالی خواہشوں اور جذباتیت سے ختم کرنے کے خواب دیکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   یہ کسی کے مفاد میں نہیں | اکرم شیخ

بشکریہ: محمد عامر حسینی

Views All Time
Views All Time
992
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: