انوکھی شادیوں کا فیشن اور غریب والدین کی پریشانیاں

Print Friendly, PDF & Email

مدینتہ الاولیا میں مہنگی اور نمودو نمائش سے بھرپور شادیاں فیشن اختیار کرتی جارہی ہیں گذشتہ دنوں ملتان میں ایک اور انوکھی اور مہنگی شادی نے دھوم مچا دی ہے ، اندرون شہر کے جیولر عربی قریشی کی شادی میں سفید گھوڑوں سے جتی ہوئی بگھیوں پر بارات میں دولہا نے سونے کا سہرا سجایا ہوا تھا جبکہ دولہا پر اس کے بھائی نے 5 سو اور ہزار کے نوٹ نچھاور کئے اس دوران باراتیوں میں موبائل فون اور سوٹ بھی بانٹے گئے جس کی وجہ سے مال مفت دل بے رحم کے مصدق  لوگوں کی بڑی تعداد امڈ آئی اور مفت موبائل فون اور سوٹ اڑا لے گئے اس سے قبل بھی ملتان میں شیر پر سواری ، لیموزین پر بارات اور بڑے پیمانے پر جہیز دیے جانے کی وجہ سے شادیاں مشہور ہوچکی ہیں۔ مہنگی اور نمودو نمائش والی شادیاں دیکھ کر جہاں لوگ محظوظ ہورہے ہیں۔

وہاں غریب اور عیال دار طبقہ کے پاس اس صورت حال سے کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ ان کے گھروں میں بیٹیاں شادی کے انتظار میں بیٹھی ہیں لیکن جہیز نہ ہونے سے ان کے ہاتھ پیلے کرنے میں انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمارا مذہب اسلام ہر شعبہ زندگی میں سادگی، اعتدال اور میانہ روی کی تلقین کرتا ہے۔ فضول خرچی، عیش و عشرت اور نمود و نمائش سے نہ صرف منع کرتا ہے بلکہ اس کی شدید مذمت بھی کرتا ہے.

اس کے باوجود المیہ یہ ہے کہ ہم ذاتی نمودو نمائش میں مصروف ہیں صاحب ثروت افراد کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ مہنگی شادیاں اور نموو نمائش کے بجائے غریب بچیوں کی شادیاں کرانے کے لیے والدین کا بوجھ بانٹیں اور نمودو نمائش جیسی رسومات کی اندھی تقلید سے گریز کریں، دوسری طرف محکمہ انکم ٹیکس کو بھی مہنگی شادیاں کرانے والے امراء کے گرد شکنجہ سخت کرنا چاہیے تاکہ رسومات کو روکا جاسکے ۔ فروری 2018 میں خیبر پختونخواہ اسمبلی نے صوبے میں جہیز پر پابندی ، شادی میں نمودو نمائش اور فضول اخراجات پر پابندی کی منظور دی تھی جس میں دلہن کے گھر والوں کی طرف سے صرف ایک لاکھ روپے تک کا تحفہ دینے کی اجازت دی گئی ، قانون کے مطابق شوہر کی طرف سے دیا جانا والا تحفظ بیوی کی ملکیت ہوگا اور واپس مانگنے پر شوہر کو دو لاکھ روپے جرمانہ یا تین ماہ قید ہوگی.

کے پی کے کی نسبت اگر پنجاب میں دیکھیں تو نہ صرف شادی میں نمود و نمائش جاری ہے بلکہ جہیز کی فرسودہ رسم بھی جاری و ساری ہے ۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے جہیز کی لعنت، نمودو نمائش کا خاتمہ کرنے کے لیے سخت قوانین بنا کر ان پر عملدرآمد کرانا ہو تاکہ نہ صرف مسلمان اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار کر اللہ تعالی کے سامنے سرخرو ہوں بلکہ بالوں میں چاندی لئے شادی کے انتظار میں بیٹھی بچیوں کو بھی سنت رسول کا فریضہ انجام دینے میں آسانی فراہم ہوسکے۔

Views All Time
Views All Time
384
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ایک ناراحت صبح

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: