قد جاءکم من اللہ نور

Print Friendly, PDF & Email

"والقلم” نے "والنجم” کی افشاں سے "والیل” کی مانگ کو "سراجا منیرا” کی آمد کے پیش نظر بھر دیا۔ "خیر من الف شھر” نے "لیلۃ القدر” سے "داعیا الی اللہ” کے لیے "و رفعنا لک ذکرک” کو کسب کیا۔ "تلک رسل فضلنا بعضھم علی بعض” نے "رب العالمین” و "احسن الخالقین” کے کارخانہ تخلیق سے "فکان قاب قوسین او ادنی” کی بدولت "وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین” کے نقارے پر چوٹ ماری۔ "طوبی لھم” اور ” شجرۃ طیبۃ” نے "یخرج منھما اللؤلؤ و المرجان” نثار کر کے "قد افلح المومنون” کا مژدہ سنایا۔ "و البحر المسجور” نے "کتاب مستور” سے "و طور سنین” کی چھوٹ ڈال کر "والنھار اذا تجلی” کی زبان سے "فبای الا ربکم تکذبان” کا ورد کیا۔

اور بالاخر "والقمر” نے اپنی جگہ "والشمس” کو دی اور "و ضحاھا” نے "ورق منشور” اور "وما یسطرون” کی آواز میں "قد جاءکم من اللہ نور” کا اعلان کر دیا۔

Views All Time
Views All Time
633
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   شعور کی ضرورت یا نئے پاکستان کی ؟ | یاسر حمید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: