Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بچا سکو تو بچا لو۔۔۔۔۔! | سبطین نقوی امروہوی

by جولائی 24, 2017 تاریخ
بچا سکو تو بچا لو۔۔۔۔۔! | سبطین نقوی امروہوی

تاریخ ایک ایسا دفتر ہے جس کا کھولنااور اس سے درس ِعبرت حاصل کرنااس لیے بھی ناگزیر ہے تاکہ اس چراغ کی روشنی میں آئندہ کے لیے راہیں روشن تر ہوجائیں۔ تاریخ پڑھنے سے گزشتگان کی غلطیوں کو جان کر ان میں دوبارہ مبتلا ہونے سے دامن بچایا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے ابوابِ تاریخ میں ایک تلخ باب و درس عبرت، سقوط اندلس ہے؛ اندلس (جدید نام اسپین) جو کسی دور میں جہان اسلام کا حصہ ہوا کرتا تھا، مگر مسیحیوں نے اس پر ایسا ہجوم کیا کہ مسلمانوں کو اسے ہاتھ سے دیتے ہی بنی۔ اندلس کی تاریخ اور وہاں رونما ہونے والے حالات میں تامل کرنے سے ہمیں بہت سے عبرت آموز درس مل جائیں گے ، جس کی بنا پر ہم مغربی یلغار اور ان ممالک کی سازیشوں کو سمجھ سکتے ہیں جو بالخصوص اسلام کو اپنے لیے خطرۂ جان جانتےہیں اور اس طرح ہم اپنی مذہبی اقدار و ثقافتی انداز کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں ۔

پہلی صدی ہجری کے آواخر میں موسی بن نُصیر افریقیہ اور مغرب کا حاکم تھا ، آج کل افریقیہ کو تیونس کہتے ہیں، جبکہ مغرب وہ نام ہے جو عربیوں نے شمالی افریقہ کو دیا تھا۔ اس دور میں مراکش اور الجزائر جیسے ممالک ہر حال میں اندلس پر اپنا تسلط جمائے رکھنا چاہتے تھے کہ انہیں "ویزگوئٹ” کہتے ہیں۔ "ویزگوئٹ” کی حکومت ، عوام کے طبقاتی نظام سے ناراضگی، عقائد کی تفتیش، جاسوسیوں، گرفتاریوں، یہودیوں کے قیدخانوں اور اقتصادی وضیعت کے ضعف کی وجہ سے کمزور ہو گئی تھی۔ موسی بن نصیر نے طارق بن زیاد کو 92 ہجری میں حکم دیا کہ 1000 افراد کے لشکر کے ساتھ ایک تنگ مقام کہ جس کا بعد میں نام "جبل الطارق” پڑ گیا، سے گزر کر اندلس پر دھاوا بول دے اور اسے فتح کرے۔ طارق اپنی اس لشکرکشی میں کامیاب رہا اور اندلس فقط ایک سال کے عرصے میں جنوب سے شمال تک مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔

اندلس میں جن چند سالوں میں اسلامی حکومت رہی ، انہی ادوار میں یورپ جہالتِ قرون وسطی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ اندلس میں کئی زمینوں اور علوم میں خاطر خواہ ترقی دیکھی گئی جیسے علوم قرآنی، علوم حدیث، علم فقہ، علوم تجرباتی، طب، فلسفہ، کلام، شعر و ادبیات، تعمیرات، خطاطی وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ یہ ترقی اندلس اور یورپ کے درمیان ایک واضح فرق کا پتیک تھی اس لیے بطور عنوان کتابخانۂ قرطبہ کا نام لیا جا سکتا ہے کہ جس میں اس وقت چار لاکھ کتابیں موجود تھیں۔ قابل ذکر بات یہ کہ اس وقت یورپ کے سارے ممالک میں موجودہ کتابوں کی تعداد اس کے برابر نہ تھی۔ بعض کا کہنا ہے کہ اس وقت یورپ کے کل کتابخانوں میں دس ہزار کے لگ بھگ کتابیں ہونگی۔

اندلس جو کئی صدیوں تک مسلمانوں کے تحت حکومت رہا ، آہستہ آہستہ عیسائیوں کے حملوں کا نشانہ بننا شروع ہو گیا ۔ نتیجتا اس کے مختلف مغربی و مشرقی علاقے، مسلم حکمرانوں کے ہاتھ سے جاتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 898 ہجری میں "غرناطہ” شہر سقوط کر گیا، اور کُل کا کُل اندلس مسلمانوں کے ہاتھوں سے چلا گیا۔ اگر آج اسپین مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہوتا تو شاید تاریخ جہان کچھ اور ہوتی۔

آج بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ اگر بنو امیہ، جنہوں نے خلافت اسلامی کو بادشاہت اور مورثی سلطنت میں تبدیل کر کے عوام کے منافع سے زیادہ اپنا فائدہ دیکھا ، کی جگہ عدالت علوی حاکم ہوتی اور اندلس مردان خدا کے ہاتھوں ، ایمان اور عدالت کے شہ پروں پر پرواز کرتا ، نہ کہ بربریت سے لبریز حاکموں کے ذریعے جو عیاشی کے دلدادہ ، ظلم کرنے میں طاق اور فقط ظاہرا مسلمان تھے ، تو کوئی وجہ نہ تھی کہ اس وقت یورپ میں بھی اسلام کا پرچم لہرا رہا ہوتا۔

آج ہم مسلمانوں کے لیے جو چیز باعث تامل ہے وہ یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کے باعث اسپین مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں سے کھونا پڑا؟ صاحبان نظر نے اس بارے میں مفصل گفتگو کی ہے مگر یہاں اجمال کے ساتھ کچھ عوامل گنواتا چلوں:

اندلس اُس وقت دائرہ حکومت اسلامی میں داخل ہوا جب بنو امیہ کے نااہل حکمران خلافت کو بندر بنا کر اس سے کھیل رہے تھے۔ بنو امیہ کے دُورِ پُر فتن میں سب سے زیادہ اسلامی تہذیب و تمدن کے گلے پر خنجر چلے، انھوں نے جانشینی رسولؐ کو سلطنت اور بھائی چارے اور مساوات کو دشمنی اور نژاد پرستی میں تبدیل کر دیا۔ ان کے دور میں نظام حکومت اسلامی جو کہ لوگوں کی بیعت سے منعقد ہوتا تھا ، ایک حکومت استبداد و استعمار میں تبدیل ہو گیا۔ حکومت حاکم کی ہوا و ہوس کی تابع تھی نہ کہ فرمان خدا کے، مساوات و برابری کی جگہ نژاد پرستی کا راج تھا، بیت المال اور حکومتی درآمدات جن پر تمام لوگوں کا یکساں حق تھا صاحبان اقتدار کے لیے خاص ہو چکی تھیں۔ حکمرانوں کی دیکھا دیکھی دنیا کی محبت عوام میں سو سو جلوں سے رونما ہو چکی تھی، زہد و تقوی اور فکر آخرت نے اپنی جگہ خوش خوراکی ، تجمل لباس ، آرائش مکان ، مے نوشی ، خواتین کی صحبت ، کنیزوں کی خرید و فروخت اور گانے والیوں کےبالا خانوں کو دے دی۔ حبس بے جا ، طوق و سلاسل، کشت و کشتار سلاطین حکومت بنو امیہ کے معمولی ہھتکنڈے تھے جن سے وہ مخالفین حکومت کے سروں کو کچل دیتے۔

یہاں سے بہت آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جب فاتح اس کیفیت کے ساتھ کسی بیگانے ملک پر حکومت کریں گے ، تو وہاں کے باسیوں کو کس طرح ان سے بیزار اور متنفر نہیں ہوں گے، اور طرہ یہ کہ یہ سب کچھ اسلام کے کھاتے میں لکھا جاتا رہے گا۔ وہ فاتحین جو ظاہرا لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے، مگر حقیقت میں دنیا طلب، فاسد و فاسق و فاجر، عیاش اور ظالم تھے ، نے اپنے ہی ہاتھوں سےاپنی حکومت کے تختے کے الٹنے کا بندوبست کر دیا تھا۔

یہ تو تھے اندرونی عوامل اور بیرونی عوامل میں عیسائیوں نے اندلس کو مسلمانوں کے ہاتھ سے نکال لے جانے کے لیے دو حربے استعمال کیے؛

پہلا، فوجی حملہ اور دوسرا تہذیب پر حملہ:

یہاں پر جو چیز ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہے وہ یہی تہذیبی ہجوم ہے ۔ فوجی حملے میں دشمن کا چہرہ سامنے نظر آ رہا ہوتا ہے اور وہ پہچانا جاتا ہے، اور دیکھنے والے سمجھ لیتے ہیں کہ کہاں سے حملہ ہورہا ہے اس لیےاس کا تدارک کرنا نسبتا آ سان ہے، مگر تہذیبی حملے میں دشمن کا چہرہ اشکار نہیں ہوتا۔ عیسائی پادریوں نے مسلمان حکمرانوں میں پائے جانے والے اختلاف سے خوب فائدہ اٹھایا۔ ان سرداروں میں سے ایک "براق بن عمار” تھا۔ اس نے مسیحی سرداروں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایک پیمان باندھ لیا جس میں وہ تین شرائط کو تسلیم کر بیٹھا: ایک یہ کہ مسیحیوں کو ان کے دین کی تبلیغ کی کھلی چھوٹ ہو گی، دوم یہ کہ وہ مسلمانوں کو آزادانہ اپنا مذہب سیکھا سکتے ہیں ، اور سوم یہ کہ انہیں ہر قسم کی تجارت کرنے میں آزادی ہو گی۔ اندلس کے فرمانروا اس دام میں پھنس گئے اور اس صلح سے موافقت کرتے ہوئے قول و پیمان باند ھ بیٹھے، یوں اسلامی تہذیب و تمدن کو پھونک ڈالنے کا بندوبست کر دیا گیا۔ اجازت کیا ملی عیسائیوں کی تو چاندی ہو گئی، یہ ان کے لیے ایک بیش بہا فرصت تھی تاکہ وہ مسلمانوں کو ہر قید سے آزاد لااُبالی بنا ڈالیں اور ان کے معاشرے اور تہذیب کا رہا سہا جنازہ بھی نکال دیں۔ اس آزادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی مبلغین نے آہستہ آہستہ مسلمانوں میں نفوذ شروع کر دیا۔ انہوں نے سیر تفریح کے لیے بہترین جگہیں تعمیر کیں اور دلبربا و دلفریب ماحول میں مسیحیت کی تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ مسلمان ان باغوں اور تفریحی مقامات پر جاتے جہاں ان کی تفریح کے لیے بےحجاب و خوش شکل خواتین کے جلوے دیکھنے کو ملتے۔ تجارت میں آزادی کی وجہ سے ولایتی شراب نے بھی اندلس میں اپنے قدم جما کر خوب خریدار پیدا کیے۔ مسلمان جوانوں میں بادہ کشی نے جڑ پکڑ لی ، یہاں تک کہ کچھ عرصے بعد اگر کوئی جوان شراب کو منہ نہ لگاتا اور اپنے وسوسۂ نفسانی کے مقابل قیام کرتا تو اسے کہنہ پرست اور متعصب کے القاب سے نوازا جانے لگا ۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ جوان جو شراب کے نشے میں دھت ، نامحرموں کی محفلِ تنہائی میں لذت محسوس کرنے کا عادی ہو جائے اس کے لیے اعتقادات دینی کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ وہ مسجدیں جو مومن جوانوں سے پُر دکھنی چاہیے تھیں، فقط کہن سال افراد کی جائے آمد و رفت بن گئیں۔ لیکن جوان کہاں تھے؟ وہ تو مراکز فتنہ و فساد و عشر ت و نوش میں مگن، تجملات دنیا کے زرخرید بنے ہوئے تھے۔دنیا پرستی نے لوگوں میں شدت اختیار کر لی۔جب کچھ افراد نے دیکھا کہ اپنی زندگی کو عیش و نشاط سے گزارنے کے لیے وسائل کی کمی کا سامنا ہے تو انہوں نے غیر شرعی کمائی کا دروازہ کھولا، جس سے رشوت خوری اور غبن کا دور چلنے لگا۔ اس مکر و حیلے کے ساتھ مسیحیوں نے اندلس کے مسلم معاشرے کو باطنی کثافت سے لبریز کر دیا ، اور پھر کچھ فوجی افسران کی خیانت کی مدد سے فوجی حملہ کر کے اندلس کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

آج ہم مسلمانوں کو خود سے پوچھنا چاہیے:

کیا آج بھی کچھ سود جو، حکومت طلب اور طاقت کے نشے میں چور بد مست فیل ممالک، فساد و تباہی جنسی جو اب ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت تک آن پہنچی ہے، اور شراب خوری جو کہ مسلمان ممالک میں پانی کی طرح عام ہوتی جا رہی ہے، کے ذریعے ہمارے معاشرے اور تہذیب کو پھونکنا تو نہیں چاہتے؟ کیا ہم پھر سےدنیائے اسلام کے ہر خطے میں سقوط اندلس کا ایک تازہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔؟

 

Views All Time
Views All Time
363
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: