Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عشق | سبطین نقوی امروہوی

by جولائی 15, 2017 بلاگ
عشق | سبطین نقوی امروہوی
Print Friendly, PDF & Email

حمد اور حسن ایک ساتھ جامعہ (یورنیورسٹی) سے فارغ التحصیل ہوئے، احمد نے تعمیرات میں انجینئرنگ کی سند حاصل کی اور تعمیراتی کاموں میں مشغول ہو گیا اور اس طرح وہ ایک خطیر رقم کا مالک بن گیا ۔ اس کی زندگی میں تمام تر آسائشیں اور آسانیاں مہیا ہیں لیکن پھر بھی اس کی کوشش یہی رہتی ہے کہ کسی طرح اپنے دوست حسن پر سبقت لے جائے جو تجارت سے وابستہ اور اسی سبب سے زیادہ مال و دولت کا حامل بھی تھا۔
سارہ ٹی وی ڈراموں میں کام کرنے والی ایک فنکارہ ہے چونکہ ہر دل عزیز ہے بہت خوش ہے مگر پھر بھی راضی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس کے دل میں اپنی ساتھ کی ان فنکاراؤں سے رقیبانہ حسد ہے، جو اس سے زیادہ کماتی بھی ہیں اور زیادہ شہرت یافتہ بھی ہیں۔ اس کی آرزو یہ ہے کہ وہ شہرت کی بلندیوں کو چھوئے، ایسی بلندی جہاں وہ اپنے ساتھی اداکاراؤں کو پیچھے چھوڑ دے۔
کامران ایک سیاسی جماعت کا سرگرم کارکن ہے، ابھی کچھ ہی دن ہوئے کہ اپنی ایک ایسی خواہش سے ہم آغوش ہوا جو اس کے دل میں برسوں سے مچل رہی تھی۔ وہ چند دن پہلے بطور وزیر منتخب ہوا ہے۔ اس مقام سے اس کی قدرت اور جاہ و حشم میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے۔اب بھی وہ کبھی کبھی سوچتا ہے کہ اس کا بچپن کس طرح ایک غریب اور تنگ دست گھرانے میں گزرا تھا،لیکن اب وہ ایک طاقت ور شخص ہے ، اور چاہتا ہے کہ اس کی طاقت اس سے بھی بیشتر ہو جائے، اس لئے اب اس کی نظر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر ٹکی ہے۔
چند سال بیتے مریم کی شادی ہوئے ، اس کے شوہر کی آمدن اچھی ہے ۔ شادی کے پہلے سال ہی انہوں نے ایک خوبصورت اور وسیع و عریض مکان خریدا ، مگر کچھ عرصے بعد ہی وہ گھر مریم کے دل سے اتر گیا ہے، وہ گھر جس کے لیے اور بہت سے لوگ حسرت کرتے ہیں اور ان کا ارمان ہے کہ کاش ان کا گھر ایسا ہوتا ۔ وجہ یہ ہے کہ اس کی خالہ زاد بہن نے ایک عالی شان مکان بنوا لیا تھا جس میں آسائش و عیش و عشرت کے تمام وسائل مہیا ہیں نیز وہ جدید طرز تعمیر کا شاہکار بھی ہے اور آنکھوں کو بہت لبھاتا ہے۔ اب مریم کیوں کر برداشت کرے کہ اپنی خالہ زاد سے پیچھے رہ جائے، لہذا اپنے شوہر سے تقاضے پر تقاضہ کر کے دو ماہ قبل ہی اپنا پرانا گھر بکوانے اور خالہ زاد سے بڑا گھر خریدنے میں کامیاب ہو گئی ہے، مگر اب بھی ایک فکر ہے جو مریم کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے رشتےداروں یا میل میلاپ والوں میں سے کوئی اس سےبھی اچھا مکان بنا لے
سلیم کے والد احمد علی دو سال قبل ایک سڑک حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، وہ اور ان کی شریک حیات نہایت گراں قیمت گاڑی پر سوار ایک پہاڑی علاقے سے گزر رہے تھے کہ اچانک تیز رفتاری کے باعث ان کی گاڑی قابو سے باہر ہو کر ایک کھائی میں جا گری، گرتے ہی گاڑی کو آگ لگ گئی اور ان دونوں کی موت ہو گئی۔ سلیم کے ہاتھ بطور میراث کافی بڑی جائیداد لگی، جس میں اس کی بہن کا بھی حصہ تھا ۔اس نے کمال چالاکی سے اپنی بہن کا حصہ بھی ہڑپ کر لیا ، موصوف بہت ہی عیاش اور شاہ خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ جوئے کے بھی دلدادہ ہیں اور خود ہی بتاتے ہیں کہ اپنے اس شوق میں بہت پیسہ لٹا چکے ہیں۔
ایک مدت ہوئی کہ اسلم کو نہ دن کا پتہ ہوتا ہے نہ رات کا ، اس سے میل میلاپ رکھنے والے افراد اس کی زندگی میں ایک عجیب سی دگرگونی اور انقلاب کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جیسے ہی گھر آتا ہے اپنے کمرے میں گھس کر خود کو وہیں بند کر لیتا ہے۔ ایک ماہ ہوا کہ جامعہ میں ثریا پر نگاہ پڑ گئی تھی، بس دل ہار بیٹھے، اس سے پہلے ایسا تجربہ کبھی نہیں ہوا تھا بلکہ ہمیشہ اپنے ان دوستوں کا مذاق اڑاتے تھے جو مرض عشق کا شکار تھے، مگر اب جب خود اس سانپ کا نشانہ بنے تو بنا تڑپے نہیں بنتی۔
احمد و سارا و کامران و مریم و سلیم و اسلم یہ سب کے سب عاشق ہیں ۔ کیا اس کےعلاوہ کوئی اور بات ہے؟ ایک دولت کا عاشق ہے تو دوسرا قدرت کا دلدادہ، ایک جان جاناں کے جلوں کا اسیر ہے تو دوسرا ہوائے نفس کا بندہ، ایک شہرت کا دیوانہ تو دوسرا شہوت کے ذریعے لوگوں کو مجذوب کرنے میں مصروف، ایک جمال کے پیچھے ہے تو دوسرا دنیا والوں کے مال کے۔ یہ تمنائیں انسان کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیتیں۔ اور سونے پر سہاگہ وہ کم بخت شیطان جس نے پہلے دن سے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اس مصرعے کا مصداق بن کر کہ "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے” مسلسل بہکانے پر تلا ہوا ہے ، وہ دنیا کو خوبصورت، دولت اور شہرت کو مطلوب تر اور ہوائے نفس کو طاقت مند ترین بنا کر پیش کرتاہے۔
انسان کی داستان بھی بڑی دلچسپ ہے ، داستان جو مشتمل ہے جنت سے دربدر ہو کر زندان خاک میں چار قدرت مند طاقتوں کے چنگل میں گرفتار ہونے کی۔
ایک طرف سے نفس اور اس کی خواہشات، دوسری طرف لوگ اور ان کی باتیں، ایک طرف دنیا اور اس کے جلوے اور ایک طرف شیطان ، جو یہ بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کب ، کہاں اور کیسے نفس انسانی میں نفوذ کر کے اسے فریب دینا ہے۔
اگر ہم حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھیں اور فکر کریں تو ان جھوٹے معبودوں یعنی نفس، خلق، دنیا اور شیطان میں سے ہر ایک ہمارے دل میں خیمہ زن ہے ، جب بھی ہم ذرا ہمت جٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور خدا کی جانب قدم بڑھانا چاہتے ہیں، تو یہ خیمہ زن آرام سے نہیں بیٹھتے، ہمارے پیروں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں کہ کوئی قدم سوئے حق اٹھنے نہ پائے، وہاں جانے کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں ، مگر خدا اس ملک بدر، دربدر انسان کا مشتاق ہے ، اس نے اسے اکیلا نہیں چھوڑا ، اگر ہوائے نفس ہے، اگر لوگوں کی باتیں ہیں، اگر دنیا کے جلوے ہیں ، اگر شیطان کے وسوسے ہیں تو خدا کی ہدایت بھی ہے، اس کی دعوت بھی ہے ، تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی آواز پر لبیک نہیں کہتے؟ کیا ہم اس کے سوا کسی اور کے دسترخوان نعمت ہائے بے کراں پر پل رہے ہیں؟
احمد و سارا و کامران و مریم و سلیم و اسلم کی داستان، ایک عبرت ہے۔ ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اس پر قانع نہیں جو اس کے پاس موجود ہے ۔ ان میں سے ہر ایک کو جو کچھ بھی مل جائے پھر بھی ناشکری ہے کہ دامن نہیں چھوڑتی اور یہ اس سے بیشتر و بہتر کی ڈور دھوپ میں لگے رہتے ہیں۔ زیادہ اور بہتر طلبی اور لالچ کی یہی متحرک فطرت ہے جو مریم اور سلیم اور ان جیسے دوسروں کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیتی۔ یہ سب جس کے پیچھے دوڑ دوڑ کر تھک نہیں رہے، فانی ہے، نابود ہو جانے والا ہے ، شہرت، قدرت، دولت وغیرہ میں سے کون سی چیز ہمیشہ رہنے والی ہے؟ پھر انسان یہ بھی جانتا ہے کہ وہ جتنا بھی جی لے، چاہے عمر خضر ہی کیوں نہ مل جائے مگر ایک نہ ایک دن کاسۂ حیات لبریز ہو کے رہے گا ، موت کے پنجے سے کسے فرار؟ انسان کی سرشت میں زندہ جاوید رہنے کے میل کو گوندھا گیا ہے ، اب اس میل کے ہوتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے کہ ایک نہ ایک دن اس دنیا سے کوچ کا نقارہ بج جائے گا ، کیا چارہ رہ جاتا ہے؟ اسے کس معشوق کی تلاش میں نکلنا چاہیے؟ کون سی چیز ہے جو اتنی قیمت و وقّعت و اہمیت و ارزش رکھتی ہے کہ انسان اپنی عمر گران بہا اس تک پہنچنے میں صرف کرے۔؟
بہت ضروری ہے کہ انسان کچھ دیر اکیلا بیٹھ کر فکر کی وادیوں میں عقل کے سر پٹ گھوڑوں کو جولان دے، اور خود اپنی قدر و قیمت کو سمجھے کہ میں جن محبوبوں کے پیچھے دوڑ رہا ہوں ،ان کی ارزش زیادہ ہے یا خود میری؟ کیا مال و دولت، شہرت و قدرت وغیرہ مجھ سے بھی زیادہ ارزش مند ہیں؟ ذرا تصور تو کیجیے کہ آپ نے بہت سا مال اکٹھا کر رکھا ہے ، مگر اچانک آپ کی اپنی جان پر بن آئے،پھر اگر جان ہی چلی گئی پھر اس مال کو چاٹیں گے؟ کیا آپ تیار نہیں ہوں گے کہ اپنی ساری دولت لٹا کر بھی جان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے؟ یا کیا آپ شہرت کو اپنی جان پر فوقیت دے سکتے ہیں؟
اس سوچ کے ساتھ ساتھ تمام معبودوں اور معشوقوں کے بارے میں بھی سوچیے دنیا ، لوگ، نفس ، شیطان اور خدا ۔ اگر آپ ان کے بارے میں صحیح طرز پر سوچ پائیں تو جواب دیجیے کہ ان میں سے کون سا سب سے بہتر ہے؟ ان میں سے کون سا ہمیشہ رہے گا؟ اور ان میں سے سب سے زیادہ کون اس لائق ہے کہ اس سے علاقہ رکھا جائے؟
ہاں! یہ مت بھولئے کہ ہم نے خدا کے ساتھ عہد و پیمان باندھا تھا اور اس کی ربوبیت کو تسلیم کیا تھا، اور ساتھ ہی یہ قول بھی دیا تھا کہ شیطان کی پرستش نہیں کریں گے۔ اب اگر آج ذرا سی بھی منصف مزاجی ہم میں باقی ہے ، تواچھی طرح سوچیں اور فکر کریں، پھر ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا کے سوا کسی اور کو بطور محبوب اختیار کریں، خدا نے تو کبھی بھی انسان کو نہیں چھوڑا، وہ تو پہلے دن سے ہی سب کے دلوں میں ہے، ہرگز پوشیدہ نہیں ہوا، کبھی کہیں چھپا نہیں۔ اگر خدا کو محسوس نہیں کر پا رہے، اگر اس کے حضور کو سمجھ نہیں پا رہے، تو اس کی وجہ ہمارے دلوں پر چڑھی غفلت کی تہیں ہیں، کیونکہ ہم غیر خدا کے ساتھ اتنی زیادہ راہ و رسم رکھتے ہیں، ان کے ساتھ اتنا مشغول ہیں کہ اس کا حضور نہیں دیکھ پاتے جوکسی اور چیز سے زیادہ خود ہمارے دل میں جلوہ گر ہے، وہ تو جہان ہستی میں لاکھوں جلووں کے ساتھ جلوہ فگن ہے، وہ تو ہر ذرہ میں اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے، کون سی ایسی جگہ ہے جو اس کے وجود حضوری سے خالی ہو؟ وہ کون سی سمت ہے جہاں تو چہرہ کرے اور اس کا چہرہ مہربان تیرا منتظر نہ ہو؟ مگر کیا ہر آنکھ اس کے جلوے کو دیکھ سکتی ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ ہمارے دل تو بت کدے بن چکے ہیں، جن میں انواع و اقسام کے صنم رہتے ہیں، جب تک ابراہیم کی طرح ان بتوں کو چکنا چور نہیں کریں گے، اور اپنے دلوں کو بس ایک صنم کے لیے صاف نہیں کریں گے جس میں بس اسی ایک کا ذکر و فکر ہو، اس وقت تک جہان خلقت میں اس کا رخ زیبا دکھائی نہیں دے گا۔ ضروری ہے کہ دل میں موجود جھوٹے معبودوں کی بت شکنی کی جائے۔ مگر یاد رہے دل کو اُس کے غیر سے پاک کرنا اور بت شکنی آسان کام نہیں، اس کے لیے شجاعت درکار ہے، کیا ہر کوئی ایسی شجاعت رکھتا ہے؟ کیا سب یہ قوت رکھتے ہیں کہ ان وسوسوں سے ہوگزریں؟ سچائی تو یہی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ہمیشہ سے ایسے شجاع اقلیت میں ہی رہے ہیں اور اقلیت میں ہی رہیں گے جو مردانہ وار ان سب چیزوں سے ہو گزریں، دل کے سارے بتوں کو توڑ ڈالیں اور تنہا اس تنہا کو جگہ دیں جو اپنی تنہائی میں تنہا ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک راہزن تھا فضیل بن عیاض ، ایک عورت کا ایسا عاشق تھا کہ اس پر جان چھڑکتا تھا، یہاں تک کہ راہزنی سے جو بھی ہاتھ لگتا ، اس کو بھیج دیتا تھا ۔ ایک دن جب ایک قافلے کو لوٹنے کی غرض سے پہنچا تو کیا سنتا ہے کہ اس قافلے میں ایک شخص قرآن پڑھ رہا ہے:اس نے کان لگا کر سنا تو یہ آیت تلاوت ہو رہی تھی ” کیا ان کے لیے جو آیمان لائے ہیں، وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل یاد خدا سے نرم اور خاشع و متواضع ہو جائیں” (حدید۔16) یہ کلام فضیل کے دل میں نشتر کی طرح اترتا چلا گیا، کہنے لگا: ہاں ہاں آ گیا ہے ، وہ وقت آ گیا ، منقلب ہو گیا، راہزنی کو خیر باد کہا اور بس خدا کا عاشق ہو رہا، کیونکہ اس نے ایک ایسا دل پا لیا تھا جو عرش رحمن تھا۔

Views All Time
Views All Time
509
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   امریکی صدارتی مباحثہ اور پاکستانی سیاست - عاطف اقبال چوہدری
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: