Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

فیصلہ میری مرضی کا | سبطین نقوی امروہوی

by جولائی 12, 2017 بلاگ
فیصلہ میری مرضی کا | سبطین نقوی امروہوی
Print Friendly, PDF & Email

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی علاقے میں بہت سے وڈیرے رہتے تھے. یہ سب ہی ایک دوسرے سے لڑتے رہتے لیکن کبھی کبھی اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیے خود کو باہم شیر و شکر بھی ظاہر کرتے تھے. اسی علاقے میں باہمی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے قضاوت کا سلسلہ بھی تھا. ایک دفعہ اس ادارہ قضاوت پر کچھ حرف آیا تو ان وڈیروں میں سے ایک اس ادارے کی سر بلندی کے لیے سڑکوں پر یہ کہہ کر نکل آیا کہ عدلیہ کی سربلندی میں ہی ہماری سربلندی ہے. اور بالاخر عوام نے اس کا ساتھ دے کر اس ادارے اور اس کے متعلقین کی مانگوں کو پورا کر دیا…
پھر کافی وقت بیت گیا… ایک بار ایسا ہوا کہ اسی وڈیرے پر عوامی مال کی لوٹ کھسوٹ اور ناحق دھن دولت اکھٹا کر کے اپنے بچوں کی جیبیں بھرنے کا الزام لگا… اسی قضاوتی ادارے نے فریقین کے دلائل سننے کے لیے پنچائیت بنا دی… اس وقت تو وڈیرے اور اس کے طرفداروں نے یہ کہا: جو کچھ بھی عدالتی ادارے فیصلہ کریں گے ہمین دل و جان سے قبول ہو گا… پنچائیتی سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ کچھ یوں آیا…
دو نے کہا: ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ گناہگار ہے لیکن تین نے کہا: ہمیں ان کے بےگناہ ہونے پر یقین نہیں اس لیے ایک اور عدالتی چھنّا لگنا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے…
پنچایتی بہت پڑھے لکھے تھے اس لیے انہوں نے مذکورہ فیصلہ انگریزی میں سنایا تھا لیکن چونکہ وڈیرا خود اور اس کے جیالے بھی انگریزی اچھے سے سمجھ نہیں سکتے تھے لہذا وہ یہ سمجھ کر کہ یہ انکی بےگناہی کا اعلان اور فتح کا نقارہ ہے، دنیا بھر میں مٹھائیاں بانٹتے دکھائی دیے…
لیکن خوشی کے یہ نقارے زیادہ دیر تک باقی نہ رہے… وڈیرے کے ساتھیوں کا کہنا تھا: ہمیں اس عدلیہ پر یقین تھا یہ حق کا ساتھ دے گی… حق کی فتح ہوئی …
لیکن ان کے کچھ پڑھے لکھے افراد نے انہیں بتایا کہ قبلہ… آپ کیچڑ سے نکل کر دلدل میں پھنس گئے ہیں..
پھر ہوا یوں کہ بار بار ان وڈیروں اور ان کے بچوں اور ان کے بنا پیسوں کے وکیلوں کو بلوا بلوا کر تفتیشیں ہونے لگیں اور انہیں اپنی ناؤ ڈوبتی دکھائی دی. بس پھر کیا تھا ابھی فیصلہ آیا بھی نہیں تھا کہ پنچایتیوں کے خلاف دے بیان پر بیان…
وہی ادارہ جو کچھ عرصے پہلے عدالت کا سر چشمہ تھا وہی ظلم و استبداد کا مرکز ہو گیا…
نتیجہ: عدالت اگر کسی اور کے خلاف یا ہماری امنگوں کے حساب سے فیصلہ سنائے تو عدل و انصاف کا پتیک لیکن اگر ہمارے خلاف یا کسی اور کے حق میں فیصلہ سنائے تو یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے… ہمیں بتا تو دو کہ ہمارا قصور کیا ہے… ہم نے کیا کیا ہے… ہم نے وہ قرض بھی اتار دیے جو واجب بھی نہیں تھے…!

Views All Time
Views All Time
591
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   این آر او کی بازگشت | اکرم شیخ - قلم کار
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: