کوفی کبّار پیروان علیؑ امام حسین ؑکی مدد کو کربلاء کیوں نہ پہنچ سکے ؟

Print Friendly, PDF & Email

aamir hussainiکوفہ کے رہنے والوں پہ سب سے زیادہ تنقید اور سب سے زیادہ ان کی مذمت امام حسین علیہ السلام کی شہادت پہ کی جاتی ہے اور اس حوالے سے پورے کوفہ کو مطعئون کیا جاتا ہے۔کوفہ والوں کی مذمت کرنا تو اصل میں ایک بہانہ ہے ، اس کی آڑ میں امویوں کے حامی اصل میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور آئمہ اہل بیت اطہارؑ کے ان محبان کو ردی ثابت کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے علوی کیمپ کو اختیار کیا اور اموی کیمپ کو بے نقاب کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔اور اس حوالے سے ان شخصیات کو خاص طور پہ نشانے پہ لایا جاتا ہے جو علوی کیمپ میں اور علی شناسی میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔امام حسین علیہ السلام کو کوفہ آنے کی دعوت دینے کے لئے اہل کوفہ کے خطوط کا بڑا ذکر کیا جاتا ہے اور بصرہ میں بھی اہل بیت اطہارؑ کے حامیوں کے خط کاذکر بھی ملتا ہے۔لیکن سب سے زیادہ ذکر اس خط کا ہوتا ہے جو حضرت سلیمان بن صرد الخزاعی ،المسيَّب بن نَجَبَۃ بن ربيعۃ بن رياح بن عوف بن ہِلال بن شَمْخ بن فزارۃ،رفاعۃ بن شداد البجلي الفتياني اور حبیب ابن مظاہر اسدی و دیگر شیعان کوفہ نے امام حسینؑ کو ارسال کیا تھا۔اور جنہیں یزید کو قتل حسینؑ کے الزام سے بری کرنے کا بہت ہی شوق ہے (اکثر کا تعلق دیوبندی اور سلفی اہلحدیث مکاتب فکر سے ہے ) وہ اس خط کو بہت زیادہ سامنے لاتے ہیں اور ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے یہ سلیمان بن صرد الخزاعی ، مسیب بن نخبۃ ، رفاعۃ بن شداد البجلی اور حبیب ابن مظاہر نے ان کو کوفہ بلانے پہ اصرار کرنے کے بعد ان سے پیٹھ موڑ لی تھی اور ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔خاص طور پہ سلیمان بن صرد الخزاعی ، مسیب بن نخبۃ اور رفاعۃ بن شداد البجلی کے بارے میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انھوں نے دھوکہ دیا امام حسینؑ کو۔حالانکہ ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ لوگ جنگ سے بھاگنے والے تو ہرگز نہیں تھے اور انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ جنگ جمل ، صفین اور نہروان میں شرکت کی اور اس سے پہلے یہ جنگ قادسیہ سمیت عراق کی فتوحات کی سبھی جنگوں میں شریک رہے تھے اور ایک بھی موقع پہ پیٹھ نہیں دکھائی تھی۔اور اگر آپ کتب تواریخ کا مطالعہ کریں تو ان سب سے ان تین بزرگوں کے بارے میں یہ بات بہت ہی زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہے کہ ایک تو یہ نہایت پرہیز گار ، راستباز اور بہادر انسان تھے اور کسی ایک نے بھی ان کی دیانت و امانت پہ انگلی نہیں اٹھائی اور کسی نے ان کو غیر مستقل مزاج ، راہ اعتدال سے ہٹا ہوا قرار نہیں دیا۔اور پھر یہ جو سلیمان بن صرد الخزاعی تھے یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بہت پرانے صحابی تھے۔ ان کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے تعلق مکّہ ہی میں بن گیا تھا ،جہان یہ پیدا ہوئے تھے اور پھر یہ کوفہ میں آبسے تھے اور یہاں جب حضرت علیؑ تشریف لے آئے تو انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے لئے اہل عراق اور کوفہ کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اور پھر پوری طرح ثابت قدم رہے ۔اس حوالے سے جب میں نے ان تین اصحاب کے حالات زندگی تلاش کرنے کی کوشش شروع کی اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ کیا کسی نے ان تین اصحاب کے کربلاء میں حاضر نہ ہوپانے اور حضرت امام حسینؑ کی مدد نہ کرپانے کے اسباب جاننے کی کوشش کی تو میں نے یہ پایا کہ طبقات ابن سعد اور الکامل الاثیر دونوں نے سلیمان بن صرد الخزاعی اور ان کے دیگر دو ساتھیوں کے بارے میں یہ لکھا کہ انہوں نے امام حسینؑ کو خط لکھ کر بلایا اور جب امام حسینؑ کربلاء پہنچ گئے تو ان کے ساتھ شرکت نہ کی ۔لیکن طبقات ابن سعد ہو کہ الکامل الاثیر ہو یا کوئی اور کتاب جو سلیمان بن صرد الخزاعی سمیت ان تین اصحاب کے بارے میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوگ جان بوجھ کر خوف کی وجہ سے کوفہ سے نہیں نکلے ، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ وہ احباب ہیں جنہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا مکمل ساتھ دیا ، بہترین لڑاکے ہونے میں بھی کوئی شک نہیں تھا اور پھر یہ احباب امیر شام معاویہ ابن ابی سفیان کے زمانے میں اموی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کی پاداش میں امیر شام کے حکم پہ حضرت مالک الاشتر کے بیٹے ابراہیم الاشتر کے ساتھ جیل میں قید بھی کرڈالے گئے تھے اور اس انتہائی جبر اور خوف کے ماحول میں بھی ان اصحاب نے علوی کیمپ سے دستبرداری اختیار نہ کی تھی ، بلکہ ان کو ہم ان علی شناس لوگوں میں شمار کرسکتے ہیں جنہوں نے اس زمانے میں بھی مصلحت اختیار نہ کی جب خود علوی کیمپ کے مرکزی آئمہ اپنے پیروان کو جان بچانے کے لئے زیر زمین جانے کا درس دے رہے تھے۔اور ہمیں تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ سلیمان صرد الخزاعی ان اصحاب میں شامل تھے جو جنگ صفین کو اس کے منطقی انجام تک لیجانے کے خواہاں تھے اور پھر جب حضرت امام حسنؑ نے صلح کا معاہدہ کیا تو انہوں نے اس معاہدے کو نہ کرنے کی رائے امام حسن ؑ کو دی تھی۔تو یہ بات قرین قیاس نہیں ہے کہ سلیمان بن صرد الخزاعی سمیت دیگر اصحاب نے خوف ، لالچ ، بزدلی کے سبب کوفہ سے باہر نکلنا پسند نہ کیا ہو۔یہ بات کسی بھی طرح سے قرین قیاس نہیں ہے ۔ اہل تشیع میں سے عبداللہ المقانی نے اپنی اسماء الرجال کی کتاب ” تنقیح المقال ” میں اور اللہوف في قتلى الطفوف میں ابن طاؤس نے ، اور حکایۃ المختار فی الاخذ الثار میں یہ لکھا کہ حضرت سلیمان بن صرد خزاعی کو عبیداللہ ابن زیاد نے جيل میں ڈال دیا تھا اور وہ وہاں سے یزید کی موت کے بعد نکلے (أنّ سليمان بن صرد كان في حبس ابن زياد ثم خرج بعد موت يزيد)
محمد مظفر عراقی شیعہ مجتہد عالم نے اپنی کتاب ” تاریخ الشیعۃ ” میں سلیمان بن صرد الخزاعی اور دیگر کباّر پیروان علوی فی الکوفۃ کی کربلاء نہ پہنچ پانے بارے توجیہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :
“تغيّرت الأوضاع في الكوفۃ بعد مجيء عبيد اللہ بن زياد, فاتّجہت نحو ما فيہ ضرر للشيعۃ. قرّر عبيد اللہ التخلّص من مسلم وأتباعہ, فسجن عدداً كبيراً من الشخصيّات الشيعيّۃ19. وعلى الرغم من أنّ المصادر التاريخيّۃ المعتبرۃ لم يتحدّث أيّ منہا عن وجود سليمان، والمسيّب، ورفاعۃ والقادۃ الآخرين من التوّابين في السجن، إلّا أنّ بعض علماء الشيعۃ يعتقد بأنّ أمثال سليمان لم يتمكّنوا من نصرۃ مسلم, بسبب وجودہم في السجن, وبذلك لم يتمكّنوا من الحضور في كربلاء. ويقول بعض الباحثين في تاريخ الشيعۃ: “ومن ثَمّ تجد قلّۃ في أنصارہ مع كثرۃ الشيعۃ بالكوفۃ, ولقد كان في حبسہ اثنا عشر ألفاً كما قيل, وما أكثر الوجوہ والزعماء فيہم, أمثال المختار, وسليمان بن صرد الخزاعي, والمسيّب ابن نجبۃ, ورفاعۃ بن شدّاد, وإبراہيم بن مالك الأشتر”
عبید اللہ ابن زیاد کے کوفہ میں آجانے کے بعد حالات میں بڑی تبدیلی آئی اور اس نے ایسے اقدامات کی طرف توجہ کی جس سے علیؑ کے پیروان کو زیادہ سے زیادہ ضرر پہنچے ، عبیداللہ ابن زیاد نے مسلم بن عقیلؑ اور ان کے پیروان میں علیحدگی کرنے والے اقدامات اٹھائے ، تو اس نے علوی کیمپ کی بڑی بڑی شخصیات کو جیل میں بند کردیا۔تاریخ کے جو معتبر مصادر ہیں اگرچہ وہ قید ہونے والوں میں سلیمان بن صرد الخزاعی ، رفاعۃ اور دوسرے اٹھ کھڑے ہونے وائے قائدین تحریک توابین کے ناموں کاذکر نہیں کرتے لیکن بعض شیعی علماء کا یہ اعتقاد ہے کہ سلیمان جیسے لوگ مسلم بن عقیلؑ کی مدد اس لئے نہ کرپائے کہ وہ جیل میں بند تھے ،اور اسی وجہ سے وہ کربلاء بھی نہ پہنچ پائے۔اور تاریخ شیعہ میں بعض بحث کرنے والوں نے یہ بھی کوفہ جو پیروان علیؑ کی اکثریت کا شہر تھا وہاں ان کی نصرت کرنے والے قلت میں اسی وجہ سے ہوئے اور قریب بارہ سال یہ لوگ قید میں رہے اور اکثر کے کربلاء نہ پہنچ پانے کی یہی وجہ ہے اور ان میں سلیمان بن صرد الخزاعی، مسیب ابن نخبۃ ، رفاعۃ بن شدّاد اور ابراہیم بن مالک الاشتر بھی شامل تھے۔
جیسا کہ میں نےذکر کیا کہ جن اصحاب آئمہ اہل بیتؑ پہ بے وفائی ، بزدلی اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا جارہا ہے ، ان کی زندگی کا احوال ہی یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے کہ امام مظلوم ؑان کو اپنی مدد کے لئے بلائیں اور وہ سکت و استطاعت رکھتے ہوئے بھی نہ جائیں ۔اس حوالے سے ایک صاحب نے لکھا ،
“ويؤيّد ہذا الإحتمال مجموعۃ من الشواہد التاريخيّۃ:
أ۔ إذا أخذنا بعين الاعتبار التاريخ المشرّف لہؤلاء العظماء, بالأخصّ في ملازمتہم لأئمّۃ الشيعۃ, وحضورہم البارز في الساحات العسكريّۃ, بل والثبات العظيم لبعضہم في ميادين القتال۔ كما سبق وأشرنا, وقد تجلّى ذلك بوضوح في ثورۃ التوّابين الداميۃ۔ فمن البعيد جدّاً أن يكونوا قد سمعوا نداء مظلوميّۃ واستغاثۃ سيّد الشہداء وسفرائہ, ثمّ, وبسبب الخوف أو التردّد, تركوا إمامہم وحيداً مع أنّہم أصرّوا على دعوتہ في بادئ الأمر.
Please See link: http://www.almaaref.org/…/…/nahdat_ashouraa/page/lesson8.htm
تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام اپنے ساتھیوں سمیت کربلا کے مقام پہ آکر ٹھہر گئے تو عبیداللہ ابن زیاد نے اہل کوفہ سے خطاب کیا اور ان کو کربلاء میں امام حسین علیہ السلام سے لڑنے کے لئے شامی لشکر میں شامل ہونے کی دعوت دی اور سخت ڈرایا اور کہا کہ جو بھی اس لشکر سے پیچھے رہے گا تو اس کی جان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جائے گی ۔اور پھر کوفہ شہر کے اندر کرفیو لگادیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ اگر کوفہ کے گردونواح میں کربلاء جانے والے راستے پہ جاتا کوئی بھی شخص دکھائی دیا تو اسے قتل کردیا جائے گا اور ایسا ہوا بھی کہ قبیلہ ہمدان کے لوگ کربلاء کے راستے سے پکڑے گئے اور ان کو عبید اللہ ابن زیاد کے پاس لیجایا گیا ، جس نے ان کو قتل کروادیا۔ علامہ ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ الامم و الملوک کی جلد 4 اور ص 263 مطبوعہ بیروت میں تفصیل سے درج کیا کہ ابن زیاد نے اہل کوفہ کو امام حسین علیہ السلام سے کوفہ سے نکل کر کربلا جاملنے سے روکنے کے لئے کیسے اقدامات کئے ۔طبری نے لکھا ہے ابن زیاد نے کوفہ کو کنٹرول کرنے کے لئے انتہائی سختی سے کام لیا۔ اس نے اپنے وہ اعمال جو کوفہ میں بسے قبائل اور حکومت کے درمیان رابطے کی ذمہ داری رکھتے اور کوفہ کی ایڈمنسٹریٹو تقسیم کے ذمہ دار تھے جن کو “نقباء ” کہا جاتا ہے کے ذمہ لگایا کہ وہ اہل کوفہ کی جو کہ لشکر شام کا حصّہ نہیں بنے تھے گھروں میں موجودگی یقینی بنائیں ، ان کے پاس کسی قسم کا اسلحہ اگر ہے تو اس کی تفصیل معلوم ہو اسے حکومتی تحویل میں لے لیا جائے۔ان نقباء نے اہل کوفہ کو بتایا کہ جس کی وفاداری پہ ذرا سا بھی شک ہوا ، اس کا گھر جلادیا جائے گا اور اسے اس کے اہل خانہ سمیت قتل کردیا جائے گا۔اور ان نقباء کو بھی شدید ڈرایا گیا کہ اگر انہوں نے کوئی بات مخفی رکھی تو ان کو بھی قتل کردیا جائے گا۔ اور جس پہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تعاون کا ذرا سا بھی شک پڑا ، اسے بھی فی الفور قتل کردیا جائے گا۔ عبید اللہ ابن زیاد نے ریگولر پولیس سے ہٹ کر بھی پرائیوٹ /نجی مسلح کمیٹیاں تشکیل دیں جن کو کوفہ کے داخلی و خارجی راستوں پہ تعنیات کردیا گیا اور حصین بن نمیر کو عبید اللہ ابن زیاد نے قادسیۃ اور ققطانۃ کے درمیان نگرانی سخت کرنے کا حکم دیا تاکہ حجاز مقدس کو عبور کرکے کوئی بھی امام حسین علیہ السلام کی مدد کو نہ آسکے۔اور اس نے والی بصرہ کو لکھا کہ وہ کوفہ اور کربلاء آنے والے راستوں کی نگرانی سخت کرے اور جگہ جگہ چیک پوسٹ قائم کرے جبکہ جو بھی ان راستوں کو عبور کرنے کی کوشش کرے ،اسے گرفتار کرلیا جائے۔اور اسی طرح سے اس نے واقصۃ شام اور بصرہ کے درمیان والے راستے کی نگرانی کرنے اور کسی کو بھی اسے عبور کرنے کی اجازت نہ دینے کا حکم دے ڈالا۔کوفہ و بصرہ ،حجاز سے کربلاء تک آنے والے راستوں کی نگرانی کی سختی کا یہ عالم تھا کہ حبیب ابن مظاہر قبیلہ بنی اسد کے 70 افراد کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلاء میں مل جانے پہ راضی کرنے ميں کامیاب ہوگئے لیکن ان ستر افراد کو ابن زیاد کے لشکر نے کربلاء پہنچنے نہ دیا۔حصین بن نمیر نے قادسیۃ اور قطقانۃ کے مقام پہ 4000 ہزار سے زائد شامی لشکر کے ساتھ حجاز سے کوفہ کی طرف آنے والی شاہراہ پہ پٹرولنگ شروع کی ہوئی تھی۔حضرت امام حسین نے الحاجر کے مقام پہ پہنچ کر مکّہ سے روانگی کے بعد چوتھا پڑاؤ پہ قیس بن مسہر الصیداوی کو حضرت مسلم بن عقیلؑ کے مراسلے کا جواب دیکر روانہ کیا۔قیس بن مسہر الصیداوی کے بارے میں کچھ باتیں یہاں پہ ذرا تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہیں ۔ ایک تو یہ بات کہ قیس بن مسہر الصیداوی خالد بن جندب کے بیٹے تھے اور ان کا تعلق بنو اسد عرب قبیلے کے ان گھروں میں سے تھا جو کوفہ کے اندر رہائش پذیر تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے والے گھرانے تھے۔قیس بن مسہر الصیداوی اغلب امکان یہ ہے کہ سلیمان بن صدر الخزاعی کے گھر جو اجتماع منعقد ہوا ، جس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ کر کوفہ بلایا جائے ، اس میں شریک تھے اور پھر یہ مکّہ ان لوگوں کے ساتھ آئے تھے جنہوں نے مکّہ پہنچ کر امام حسین علیہ السلام کے احوال کی خبر لی تھی ۔ اور قیس بن مسہر ہی ان لوگوں کے ساتھ کوفہ کے راستے میں مسلم بن عقیلؑ کا خط لیکر پہنچے تھے جنہیں مسلم بن عقیل ؑنے روانہ کیا تھا۔قیس بن مسہر کے ساتھ ابن زیاد کا ایک مکالمہ ان کی شہادت سے پہلے واقع ہوا
تھا۔جس کا یہاں ذکر ہمارے موضوع سے مطابقت رکھتا ہے۔
ابن زیاد نے کہا تو کون ہے؟
قیس نے کہا: میں حضرت علیؑ اور ان کے بیٹوں کا پیرو ہوں
ابن زیاد نے کہا : وہ خط کہاں ہے ؟اور اس میں کیا لکھا ہے ؟
قیس نے کہا: وہ خط امام حسین ؑکا زعماء اہل کوفہ و پیروان حضرت علیؑ کے نام ہے
ابن زیاد نے کہا : ان کے نام بتاؤ جن کے نام یہ خط ہے
قیس نے کہا : میں نہیں جانتا کہ یہ کن کے نام ہے۔
ابن زیاد اس پہ غیض و غضب کا شکار ہوا اور کہنے لگا کہ اگر تم نے نام نہ بتائے ، حضرت امام حسینؑ اور دیگر پہ لعنت نہ کی تو تمہاری جان نہیں چھوٹے گی بلکہ تمہارا عضو عضو الگ کردیا جائے گا۔
قیس نے کہا : نام تو میں نہیں جانتا ہاں لعن میں کرسکتا ہوں ، تم مجھے منبر پہ آنے دو ، قیس کو منبر پہ آنے دیا گیا تو قیس نے نہ صرف عبید اللہ ابن زیاد پہ لعنت کی بلکہ تمام شامی حاکموں کی مذمت کی ، اس نے ابن زیاد کو لال پیلا کردیا ، اس نے گورنر ہاؤس کی عمارت سے قیس بن مسہر الصیداوی کو گرانے کا حکم دے دیا جبکہ اس بلندی سے گرنے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی مگر اس کے بعد ابن زیاد نے قیس کے اعضا ء کاٹ ڈالے۔
امام حسین علیہ السلام کو قیس کی شہادت کی خبر زبلہ کے مقام پہ مل گئی تھی اور ساتھ ہی مسلم بن عقیل ؑو ہانی بن عروہ کی شہادت کی خبر بھی مل گئی ۔اس موقعہ پہ امام حسین علیہ السلام نے سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 23 تلاوت کی اور تلاوت آیت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام سبھی اہل کوفہ کو لائق ملامت اور دھوکہ باز خیال نہیں کرتے تھے۔یہاں پہ ایک اور بات بھی غور طلب ہے اور وہ یہ ہے کہ تین محرم کو حضرت امام حسینؑ نے حبیب ابن مظاہر کو خط لکھا اور اس خط کے متن میں آپ نے حبیب ابن مظاہر کو ایک تو عہد شکنی کا کوئی طعنہ نہ دیا اور ان کو اپنی طرف بلایا جبکہ ہمیں کسی تاریخی حوالے سے یہ خبر نہیں ملتی کہ آپ نے ایسا خط سلیمان بن صرد الخزاعی یا کوفہ میں اپنے کسی اور انتہائی معتبر بزرگ پیرو کے نام لکھا ہو۔مسلم بن عقیلؑ ، ہانی بن عروہ ، قیس بن مسہر کی شہادت ہوجانے کے بعد آپ نے کوفہ میں اپنے ساتھیوں کے نام کوئی خط نہ لکھا اور نہ ہی اپنے ان خطبات میں جن میں آپ نے کوفہ کے لوگوں کی سستی ، بزدلی ، عہد شکنی کی مذمت کی ، ان میں سلیمان بن صرد الخزاعی ، مسیب بن نخبۃ ، ابراہیم بن الاشتر و ديگر کا نام نہ لیا۔اس سے آپ کو اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کو مکمل طور پہ اس بات سے آگاہی ہوگئی تھی کہ کوفہ ، بصرہ اور دیگر عراقی علاقوں سے اگر لوگ امام حسینؑ تک کربلاء میں نہیں پہنچ پارہے تھے اس کی بنیادی وجہ کیا ہے۔امام حسین علیہ السلام اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے انتہائی قریبی ساتھی اور لیڈر و زعماء کو تو جیل میں ڈال دیا تھا جبکہ باقی کوفہ کی آبادی کو محاصرے میں رکھا گیا اور اس طرح سے عوام الناس میں حضرت علی ؑ اور ان کے بیٹوں کی جو حمایت کوفہ میں موجود تھی اسے دہشت سے کنٹرول کیا گیا۔ جب معاشی ناکہ بندیوں کا ہتھکنڈہ بھی اپنایا گیا۔عبیداللہ ابن زیاد نے عارفین / نقباء سمیت جتنی حکومتی مشینری تھی اس کو کوفہ کو سخت کنٹرول میں رکھنے کے اقدامات کئے اور ان اقدامات کی بناء پہ اس نے حضرت امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں تک افراد کا پہنچنا ناممکن بناڈالا تھا۔قبائلی اشرافیہ اور قبیلوں میں مالی وظائف کی تقسیم کرنے والے نقباء کے اندر امام حسین علیہ السلام کی جانب ذرا سا بھی جھکاؤ رکھنے والوں کو یا تو قتل کردیا گیا یا زبردست تشدد کے ذریعے سے اس کا راستہ بند کردیا گیا جبکہ جو قبائلی باقی ماندہ اشراف تھے ، انھوں نے مال و منال لیکر خاموشی اختیار کرلی ۔دراسات حسینیۃ میں یہ بات بھی درج کی گئی ہے کہ اکثر لوگوں کا خیال یہ تھا کہ شامی لشکر حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقاء کو شہید نہیں کرے گا ، یہ ویسے بھی محرم کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں جنگ جائز نہیں ہوتی ۔اس بات کی گواہی حر بن یزید ریاحی کی یوم عاشور کو لشکر شام چھوڑ کر امام حسین علیہ السلام سے آملنے سے بھی ملتی ہے۔ اس موقعہ پہ حر نے امام حسین علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ ان کا خیال نہیں تھا کہ عبید اللہ ابن زیاد کا مقصد شامی لشکر کو یہاں بھیجنے سے مراد خانودہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کرنا اور ان کو قتل کرنا تھا۔اور یہی رائے ہوسکتا ہے کہ کوفہ کے عوام الناس کی بھی ہو لیکن جب یہ واقعہ رونما ہوگیا تو لوگوں کو ایک شاک لگا اور اس موقعہ پہ تاريخ کے اندر موجود ردعمل سے پتا چلتا ہے کہ یہ انجام کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ان سارے حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے ، ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے جو سچے اور مرکزی پیرو تھے ان کی اکثریت تو جیل میں بند تھی یا گھروں پہ محصور تھی اور ان کا کربلاء تک پہنچنا ناممکن بناڈالا گیا تھا جبکہ عوام الناس کی اکثریت کو ڈرا دھمکا کر خاموش کردیا گیا تھا ، ہاں کوفہ میں قبائلی اشراف کی اکثریت نے موقعہ پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے لشکر یزید میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔اور اس سے حسین محمد جعفری ، مارٹن ہنڈز سمیت وہ سبھی لوگ سہمت ہیں جنہوں نے کوفہ کی سماجی ۔سیاسی ترکیب پہ لکھا اور جن کا حوالہ میں نے پہلے بھی دیا ہے۔

Views All Time
Views All Time
2049
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   جوانانِ جنت کے سردار، اِمام حسن المجتبی علیہ السلام ۔ حنان صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: