مذہبی منافرت کی ہوا اورگلگت بلتستان

Print Friendly, PDF & Email

shair-ali-anjumیہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے خطے کے عوام نے جب کبھی حق کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کی کوشش کی تو انھیں آپس میں لڑایا گیا۔راقم نے اس سلسلے میں گلگت بلتستان امور کے کچھ ماہرین سے رابطہ کرکے جاننے کی کوشش کی کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ اس خطے کیساتھ یہ زیادتی کیوں ہورہی ہے۔ جوابا جو معلومات حاصل ہوئیں وہی لفظ بہ لفظ قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔ 
کہتے ہیں گلگت بلتستان میں پہلی قبائلی فرقہ وارانہ یلغار کی کوشش سابق وزیر اعظم بھٹو نے فاتح گلگت بلتستان کرنل حسن خان کی زندگی میں ان سے ناراضگی کے بعد 1973 ۔ 1974 میں کی مگر ناکام رہے لہذا فرقہ واریت کو ہوا دینےکےلئے باہر سے فرقہ باز سرکاری مولویوں کو بلوا کر خوب آگ بھڑکائی گئی ۔گلگت میں جلوس عاشورہ پر کرنل حسن کی موجودگی میں فائرنگ کروائی گئی اور پھر کرنل حسن کو پونے دو سال قید کیاگیا۔ جنرل یحیٰ نے اپنے بڑے بھائی کو بھیج کر کرنل حسن کو مظفرآباد میں صدر آزاد کشمیر بننے کی بھی پیشکش کی جسے اُنہوں نے ایکٹ 67 / 68 ختم کرنے کی شرط پر مسترد کر دیا تھا۔اسی طرح کرنل حسن خان کے بڑے دو بیٹوں کو بھی اقتدار دینے کی پیشکش کی خبریں ماضی کاحصہ ہیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نےبین الاقوامی سیاسی حیثیت کے مطابق حقوق نہ دینے پر انکار کیا تھا۔ 1987  کے الیکشن میں وجاہت حسن خان کو ہرانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ماہرین امور گلگت بلتستان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگست ستمبر 2009  میں کرنل نادر سے کہا گیا کہ جی ایچ کیو گلگت بلتستان کو ایک پیکج دے رہا ہےجو پیپلز پارٹی کے نام پر دیا جائیگا۔ آپ ہماری کشتی میں سوار ہو جائیں اور گلگت حلقہ سے الیکشن جتوا کر آپ کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا لیکن شرط یہ رکھی کہ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں۔ساتھ یہ بھی کہا تھاکہ یہ پیکیج اُن کی جدوجہد کی وجہ سے دیا جا رہا ہے اگریہ بات نہیں مانیں گے تو پیپلز پارٹی کے نام پر اتنا ڈھنڈورا پیٹیں گے کہ آپ بغلیں بجاتے رہ جائینگے۔لیکن اس بار بھی کرنل حسن خان کے بیٹے نے بین الاقوامی قوانین سے مشروط کرکے صاف انکار کیا۔ کہتے ہیں یکم نومبر47کی حکومت کو بھی انگریز نے غلط طور پر شیعہ حکومت گردان کر ختم کیا اور اس بات کو دیگر مسالک کے علماء بھی تسلیم کرتے ہیں اور اس حوالے سے کتاب بھی آچُکی ہے۔ اسی طرح سانحہ 1988 بھی گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم آج بھی اس سانحے کا ذمہ صرف مقامی افراد کو ٹھہراتے ہیں۔لیکن حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔ہمارا چونکہ مختلف فورمز پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں سے بحث مباحثہ چلتا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ گذشتہ مہینوں میں جب کسی فورم پر سانحہ 1988 زیر بحث آیا تو بااثر مقامی اہل قلم حضرات نے سیخ پا ہوکر اس مسئلے کو مقامی سطح پرمسلکی فساد قرار دینے کی کوشش کی ۔ایک کشمیری لیڈر نے انہیں ٹوک کراصل کہانی کچھ اسطرح بیان کی۔ بقول انکے کرنل حسن خان کے بیٹے پاکستان آرمی میں اعلیٰ عہدوں پر ملازمت کے ساتھ ساتھ مسئلہ گلگت بلتستان کے حوالے سے شروع دن سے ہی فعال رہے ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب افغانستان میں طالبان کا عروج اور پاکستان مارشل لاء کا دور دورہ تھا اور لوگ بلند آواز کے ساتھ بات کرنے سے بھی خوف محسوس کرتے تھے۔ اسی دوران مرحوم اقتدار حسن نے وزارت امور کشمیر میں اس مسئلے کو ایک بار پھر اُٹھانے کی کوشش کی اور بات ایوان صدر تک جا پہنچی۔جواب میں کہا گیا کہ آئینی حقوق سے ہٹ کر کچھ بھی مطالبہ کرو ہم تیار ہیں لیکن آئینی حقوق دینا ہمارے بس کی بات ہے نہ پالیسی کا حصہ لہذا ہم خود چاہتے ہیں کہ گلگت میں ترقی ہو جس کیلئے آئینی حقوق کا نعرہ لگانا ہمیں قبول نہیں۔ ایک بار پھر کرنل حسن خان کے بیٹے کو آئینی حقوق والے معاملے سے دستبردار ہونے کی شرط پر تخت گلگت بلتستان حوالہ کرنے کی آفر ہوئی۔یہ پیغام ملنا تھا کہ اقتدار حسن نے صاف انکار کیا کہ ہمیں آئینی اور قانونی حق جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہمیں حاصل ہے وہی چاہئیے مگر جواب یہ ملا کہ ایسا ممکن نہیں۔ یوں وزارت امور کشمیر کے دفتر میں بدمزگی پیدا ہوگئی اور ضیا الحق نے پیغام دیا اگر ہماری بات نہیں مانتے تو ہمیں بھی ان سے خوب نمٹنا آتا ہے۔ اس بات کو ابھی ایک ہفتہ گزرا نہیں تھا کوہستان میں لشکر تیار کئے گئے اوروہی لشکرگلگت بلتستان پر حملہ آور ہوئے اور اُن کیلئے جگلوٹ میں موجود ایمونیشن ڈپو کے دروازے بھی کھول دیے گئے ۔ یہی سلسلہ آج بھی کچھ رد بدل کے ساتھ جاری ہے۔ لہذا ہمیں ہر مسئلے پر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے ان عناصر اور ان کے سہولت کار، مقامی مہروں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو اس وقت سیاست دان، مولوی ،دانشور اور صحافی کے روپ میں اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے فرقہ واریت کے ناسور کو عوامی ذہنوں میں سرایت کرنے کیلئے پس پردہ کام کرتے ہیں۔ قراقرم یونیورسٹی میں یوم حسین ؑ منانے سے روکنے والے اور گلگت بلتستان کے ممتاز عالم دین مفسرقرآن اور سماجی خدمت گار شیخ محسن علی نجفی صاحب کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے والے بھی انھی افراد کی باقیات ہیں جو اس خطے کو جسےجعرافیائی ،سیاسی ،سیاحتی ،دفاعی اور چین کے ساتھ تجارت کے حوالے سے نہایت ہی اہم خطے کا درجہ حاصل ہے لیکن کچھ افراد کی خواہش ہے کہ یہاں امن قائم نہ ہو لوگ اصل ایشوز کو چھوڑ کر نان ایشوز کی طرف متوجہ ہو تاکہ پاکستان دشمن عناصر کو گلگت بلتستان کے بارے میں منہ کھولنے کا موقع ملے کیونکہ اس وقت کی صورت حال میں یہ بات ایک حقیقت ہے کہ ریفرنڈم کی صورت میں یہاں کے عوام پاکستان کےحق میں ووٹ دیں گے جو کہ کچھ پاکستان دشمن عناصر کیلئے قابل قبول نہیں۔لہذا پاکستان کے محب وطن عوام اور سول سوسائٹی کو بھی اپنے حکمرانوں سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اگر "کے -ٹو” آپکا فخر ہے تو اس پر بسنے والے عوام کون ہیں ؟ان کی شناخت کیا ہے؟ سیاچن آپ کی شان ہے تو سیاچن پر لڑنے والے جوانوں کو حق شہریت سے کیوں محروم رکھا ہوا ہے ؟یہ پورا خطہ اگر ممکت پاکستان کیلئے زیور کی حیثیت رکھتا ہے تو اس زیور کے مالکان کو مکمل قومی شناخت دینا بھی آپ کے فرائض میں شامل ہے۔ گلگت بلتستان سی پیک کا گیٹ سے ہے۔ اگر یہ درست ہے تو اس خطے کو برابری کی بنیاد پر اس پروگرام میں شامل کرنا بھی انصاف کا تقاضا ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ فرقہ واریت کے نام پر اس گریٹ گیم کو ختم کردینا چاہئیے کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام مزید لاشیں اُٹھانے کے متحمل نہیں۔

Views All Time
Views All Time
1250
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیا یہ ممکن تھا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: