Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سکردو روڈ کے ٹینڈر پر لیگیوں کی دھمال کیوں؟ – شیر علی انجم

by نومبر 14, 2016 بلاگ
سکردو روڈ کے ٹینڈر پر لیگیوں کی دھمال کیوں؟ – شیر علی انجم
Print Friendly, PDF & Email

shair-ali-anjumگلگت سکردو روڈ کا بنایا جانا باشندگان متازعہ بلتستان کے عوام کابنیادی حق تھا جس سے آج تک محروم رکھ کر نہ صرف کئی سو جانیں گنوائی گئیں بلکہ عوامی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ سڑک دفاعی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس سڑک کے نہ بننے کے پیچھے،مقامی حکومت کی ناکامی اور کچھ مقامی اور وفاقی بیوروکریسی کے درمیان کمیشن فکس نہ ہونے کی باتیں بھی حقیقت کا ایک رخ ہیں۔ اس سڑک کے حوالے سے مشرف سے لیکر نواز شریف تک کے عہد حکومت میں عوام کو گمراہ کرکے سڑک کی تعمیر کے نام پر عوام سے ووٹ بھی حاصل کئے جاتے رہے لیکن عوام سے کئے گئے ان وعدوں پر کبھی خاطر خواہ عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ بالآخر "کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے” کے مصداق آرمی چیف کی مداخلت سے اس سڑک کا ٹینڈر پاس ہونا ایک اچھی بات ہے۔ اگر "ایف- ڈبلیو- او” اس سڑک کی تعمیر کے حوالے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بروقت تکمیل کو یقینی بناتا ہے تو یقیناً بلتستان کے محروم عوام کی محرومیت کا کچھ حد تک ازالہ ہوسکے گا۔ لیکن اس سڑک کے ٹینڈر کے بعد جی جی برگیڈ کے مقامی ملازمین کے نجی کارکنوں کا نواز شریف کی تعریف میں آسمان زمین ایک کردینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے اس سڑک کی تعمیر کیلئے فنڈز سرکاری خزانے سے خرچ نہیں ہو رہے بلکہ بلتستان کے عوام کو اتفاق فانڈری اور نیلسن کمپنی سے زکوۃ اور صدقہ دیا جارہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بادشاہ کے کچھ آزاد قیدی جیل میں موجود دوسرے قیدیوں کو رہائی کی نوید سنا کر بادشاہ سلامت کی سلامتی کیلئے زبردستی کی دعا منگوا رہے ہیں حالانکہ اس سڑک کو آج سے دہائیوں پہلے بن جانا چاہئے تھا کیونکہ گلگت بلتستان کی متازعہ حیثیت کے پیش نظر عوام کو بنیادی سہولت فراہم کرنا، بطور منتظم پاکستان کی قانونی ذمہ داریوں میں شامل ہے لیکن یہ باتیں کرنے کیلئے بھی قومی درد رکھنے والے جرات مند افرد کی ضرورت ہے۔ مگر شو مئی قسمت کہ اس حوالے سے ہمارے ہاں چونکہ قحط الرجال ہے لہذا کچھ ابن الوقت جو مقامی زبان میں سیاست دان کہلاتے ہیں نے کبھی بھی عوام کو ان عہدوں اور مراعات پر فوقیت نہیں دی۔ اسی سبب سے یہ سڑک گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک طرح سے موت کا کنواں ہی بنی ہوئی ہے۔ اب جبکہ آرمی چیف نے اپنے وعدے کے مطابق شاہی حکومت پر دباؤ ڈالا ہے تو اسے نواز شریف کا کارنامہ سمجھ کر شادیانے بجانے والے احمقوں کی دنیا میں جشن منا رہے ہیں ۔ ایسے افراد کی سوچ پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے جو اس سڑک کی تعمیر سے پہلے ہی اس کا نام "نواز شریف ایکسپریس وے” رکھنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے حوالے سےنواز شریف کے ریکارڈ کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تخت رائیونڈ کے بادشاہوں نے کبھی بھی گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور آج جبکہ دو مولویوں کی لڑائی میں مرغی حلال ہو گئی ہے اور انکو گلگت بلتستان پر حکومت کرنے کا موقع ملا ہے تو ایسے میں عوام میں اک بے چینی کا سا سماں ہے۔ لوگ پہلے سے زیادہ تذبذب کا شکار ہیں اور خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ قاری اور اسکے حواری کبھی گلگت بلتستان کو تقسیم کرنے کی باتیں کرتے ہیں تو کبھی انکا مطالبہ اسے آزاد کشمیر میں ضم کرنا یا عبوری اور خصوصی صوبے کا قیام عمل میں لانا ہے۔ ان باتوں نے نئی نسل کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ہماری اپنی بھی کوئی تاریخی شناخت ہے؟ یا ہماری شناخت، دوسروں کے رحم کرم پر ہی رہے گی؟صرف یہ نہیں بلکہ "سی پیک” میں جہاں پاکستانی میڈیا بشمول سنئیر سیاست دانوں اور تجزیہ نگاروں کااس اہم پروجیکٹ میں گلگت بلتستان کو دور رکھنے کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تو دوسری طرف مقامی حکومت کی یہ ضد کہ گلگت بلتستان کو بھی فائدہ ہو ،اس خطے کے بیس لاکھ عوام کی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں لوگ اگر مقامی حکومت کے خلاف منہ کھولنے کی کوشش کریں تو انھیں حکومت کی جانب سے غیرقانونی دفعات لگا کر ہراساں کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف آئینی صوبہ کے- پی- کے کو تمام ترحقوق کی ضمانت ہونے کے باوجود "سی پیک” میں نظرانداز کرنے پر عدالت کا دروازہ کھٹکٹانے کی بات ہورہی ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم مقامی صحافتی کردار پر بات کریں تو یہ بات ایک حقیقت ہے کہ متازعہ خطے کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کے مندرجات میں صحافتی آزادی کا حق شامل ہے لیکن یہاں مقامی صحافت کو بھی یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ پیٹ پالنے کی مجبوری نے مقامی صحافت کو چُپ کا روزہ رکھنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ ہمارا موضوع چونکہ سکردو روڈ کی تعمیر کے حوالے سے حکومتی راگنی کا ہے لہذا اسے بجانے والوں کو چاہیئے کہ اس سڑک کے نام پر سیاست کرنا چھوڑ دیں کیونکہ یہ سڑک اگر بن جاتی ہے تو کسی کا احسان نہیں بلکہ عوامی شدید احتجاج پر غضب شدہ عوامی حقوق کا دیر سے حاصل ہونا ہے لہذا عوام کو چاہیئے کہ ایسے افراد کو مسترد کریں اور اگلے مرحلے میں” کارگل سکردو روڈ” کی بحالی کیلئے کوشش تیز کردیں تاکہ سالوں سے منقسم خاندانوں کے ملاپ کے علاوہ تجارت کا راستہ بھی کھل سکے ۔ آخر میں ایک بار پھر یہ عرض گوش گذار ہے کہ سکردو روڈ کسی کی خالہ جی کا صدقہ نہیں بلکہ عوام کا حق ہے اس حق کے حصول کیلئے بلتستان کے عوام نے ایک طویل جدوجہد کی ہے جسکا کریڈٹ یہاں کے عوام کو جاتا ہے نہ کہ تخت رائیونڈ کے بادشاہوں اور انکے مقامی چمچوں کو۔ اللہ ہم سب کو سچ اور حق بات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Views All Time
Views All Time
338
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاکستان کا غزہ پارا چنار | تصور حسین نقوی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: