Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا ترقی تہذیب و تمدن سے ماورا ہوتی ہے؟-شیخ خالد زاہد

کیا ترقی تہذیب و تمدن سے ماورا ہوتی ہے؟-شیخ خالد زاہد
Print Friendly, PDF & Email

کسی بھی تاریخی اہمیت کی حامل شے کو تلاش کرنے کیلئے اس دور کی کتابوں سے رجوع کیا جاتا ہے کیوں کہ اس وقت ان کتابوں کے منصفین کا ہونا تو ناممکن سی بات ہوتی ہے، مگر کتابوں میں جھانکے گا کون اور ان میں سے نکالے گا کون؟ پڑھنے والے نصاب کی سینکڑوں کتابیں پڑھ پڑھ کے اتنے اوب جاتے ہیں کہ، فارغ وقت میں کم از کم کتاب کو ہاتھ لگانے کو تیار نہیں ہوتے۔ ایسے میں حوالے کی تلاش کیلئے انٹرنیٹ کی دنیا میں بہت ہی جانا پہچانا جانے والا نام "گوگل” اور دوسری تلاش کرنے والی "ویب سائٹس” کا ہے۔ ان کی بدولت انسان کی کتاب سے دوستی اور تعلق ٹوٹنا شروع ہوا اور آہستہ آہستہ بالکل ختم ہوجائے گا۔ چونکہ گوگل اور دیگر تلاش کرنے والی سائٹز نے ہماری زندگیاں بہت آسان کردی ہیں۔ یہ بھی تکنیک کی ترقی کی ایک مثال ہے۔ آج انسان ترقی کی حدوں کو چھونے جا رہا ہے کائنات کے نئے راز افشا ہو رہے ہیں۔لگ یوں رہا ہے کہ دنیا اپنی تکمیل سے پیشتر ہی خاتمے کی جانب پیش قدمی کرنے والی ہے۔ طرح طرح کے مہلک ہتھیار بن چکے ہیں جو انسانوں نے انسانوں کو ہی نقصان پہنچانے کیلئے بنا رکھے ہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ زندہ وہ بھی نہیں بچا جس نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برسائے تھے اور نہ وہ زندہ ہیں جنہوں نے اس کام کا حکم دیا تھا۔ موت تو سب کو ہی آنی ہے تو پھر بم اور دھماکہ کس لئے کس بات کی جلدی ہے۔
بظاہر یہ لگتا ہے کہ ترقی نے تہذیب کے پرخچے اڑادئیے ہیں یا پھر ترقی تہذیب کو کھا کر پروان چڑھی ہے۔ آپ اپنا موازنہ کرکے دیکھ لیجئے، کیا آپ اپنے بڑوں کے سامنے ایسے ہی برتاؤ کیا کرتے تھے جیسے آج ہمارے سامنے ہمارے چھوٹے یا ہمارے بچے کر رہے ہیں۔ ہم آپس کی (بہن بھائی) گفتگو کیلئے بھی ایسی جگہ کا انتخاب کرتے تھے جہاں بڑوں کی گفتگو میں خلل نہ پڑے یا انکا دھیان نہ بٹے۔ جی ہاں یہ کوئی انیس سو ڈیڑھ کی بات نہیں ہے بس یہ موبائل اور انٹرنیٹ کے آنے سے پہلے تک کا تذکرہ ہے۔
آج ہمارا معاشرہ بے ہنگم ہوا جا رہا ہے، ہم نے بے پردگی، بے حیائی، بد زبانی اور بے لگامی کو ترقی کرنے کے بنیادی اجزائے ترکیبی سمجھ لیا ہے اور ہم اپنی نسلوں کی پرورش میں انجانی طاقت کے زیرِ سایہ ان سب عوامل کی آمیزش کر رہے ہیں اور تن کو بطورِ احسان ڈھکا ہوا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ سارے کا سارا معاشرہ ہی اس روش کے زیرِ اثر ہے اور ہم سب کوایک ہی لاٹھی سے ہانک رہے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ "برائی اپنا اثر زیادہ تیزی سے دکھاتی ہے اور پھیلتی ہے”۔ اصل بات جو اہمیت کی حامل ہے کہ ہماری دلی خواہش کیا ہے ؟ ہم نے مجبوراً یا احسان کے طور پر اپنے آپ کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر چھپاکے رکھا ہے یا پھر ہم اندر سے کسی خواہش کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ کیا آج کسی بڑے کے ادب کیلئے کھڑے ہوجانا دقیانوسی عمل نہیں کہلاتا ۔کیا آج خونی رشتے معاشیات اور سہولیات کی دوڑ میں نہیں لگے اور ایک دوسرے کو پیچھے کرنے کی تگ ودو میں نہیں لگے ہوئے۔
ہم "وقت کی ضرورت” کہہ کر کیا کچھ ٹالے جارہے ہیں اور اب جو کچھ ٹالا گیا ہے وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن کر ہم پر لدنے والا (پلٹنے والا) ہے۔ ہم لوگ گھٹ گھٹ کر مرنے والے ہیں ہماری اخلاقیات ہمیں ایسے معاشرے میں جینے کا حق نہیں دے گی۔ ہم نے جو معاشرہ آج تک پڑھا اور ٹیلی میڈیا کی مرہونِ منت دیکھا ہے وہ خاموشی سے مگر بہت تیزی سے ہمارے معاشرے پر حاوی ہوا جا رہا ہے۔ ہم وقت کی تبدیلی کا جھوٹا راگ الاپنے میں مصروف ہیں۔ ہم دہشت گردی کو رو رہے ہیں اس دہشت گردی کی آڑ میں کیا کچھ تباہ ہوا جا رہا ہے بلکہ ہو چکا ہے ہمیں اسکا اندازہ کرنے کا بھی وقت نہیں ملے گا۔ ہم نے اپنی تمام تر توجہ ان دیکھے اندیشوں میں پوشیدہ دہشت گردوں پر مرکوز کر رکھی ہے اسکے باوجود وہ ہمیں چکماء دینے میں کامیاب ہوجاتا ہیں جس کی وجہ ہماری معاشرتی نظام پر توجہ نہ ہونا ہے۔ ہمیں بیک وقت ان گنت مسائل نے گھیرا ہوا ہے اور ہم ہیں کہ اپنی توجہ کسی ایک جانب کر کے باقی تمام مسائل کی وجہ سے کھوکھلے ہوئے جا رہے ہیں۔
ان تمام معاملات پر بیک وقت نظر رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب پاکستانی اپنی ذمہ داری ملک کی بقاء اور سلامتی کیلئے پیش کردے۔ جس کے لئے حکومتی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن کیلئے اسکولوں کی سطح سے کام شروع کیا جائے جہاں سے کم از کم سیکنڈری کلاسوں کے بچوں کی ذہنی نشونما اس طرح کی جائے کہ ایک ایک بچہ نظم و ضبط کی اعلی ترین مثال قائم کرے پھر یہ بچے اپنے چھوٹے ساتھیوں کو تربیت دیں۔ اس تربیت میں نہ صرف اخلاقیات پر توجہ دی جائے بلکہ ہمارے معاشرے میں ابھرنے والی ہر خامی کی نشاندہی کی جائے اور ان خامیوں پر کس طرح سے قابو پانا ہے یہ بھی سکھلایا جائے۔ اسی طرح ادارے ان ذمہ داریوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہم اس وقت تک ترقی کی حقیقی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتے جب تک ہم اقدار کی راہداری ہموار نہیں کرینگے۔ ترقی کرنی ہے تو سب سے پہلے طبعی کچرا صاف کرنا ہوگا اور پھر ہمیشہ صفائی کو شعار بنانے کیلئے نسلوں کی تربیت کرنا ہوگی۔ اس حقیقت سے کوئی انکار کر ہی نہیں کرسکتا کہ ترقی تہذیب و تمدن کو روند کر حاصل کی جاسکتی ہے۔ لہذا ہمیں سمتوں کا تعین کرنا ہوگا جوکہ شائد بہت پہلے کرلینا چاہئے تھا مگر اچھے کام کی شروعات کیلئے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ سیاسی رنجشیں ختم کرنی ہونگی کچھ سالوں کیلئے پاکستان کیلئے کام کریں کچھ سالوں کیلئے اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کو تالے لگا دیں اور طے کرلیں پاکستان کو ایک آئیڈیل مملکت بنائینگے۔ اس ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے سوائے ایسے لوگوں کے جو ملک کا اصل سرمایہ یعنی پاکستانیوں کو صحیح سمت دکھا سکیں۔ ترقی تو ہم کر ہی رہے ہیں یہ معلوم نہیں ترقی تنزلی کی جانب لے جا رہی ہے یا کہ برتری کی جانب۔

Views All Time
Views All Time
286
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مصنوعی زلزلوں سے مخصوص ممالک میں تباہی پھیلانے کی سازش،ترکی کے انکشاف
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: