Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اقتدار اور اختیار کا نشہ-شیخ خالد زاہد

by May 19, 2017 کالم
اقتدار اور اختیار کا نشہ-شیخ خالد زاہد

ہماری سڑکوں کے کنارے یا اجاڑ پارکوں میں کچھ ایسے افراد نظر آتے ہیں جو بے ہوشی اور نیم بے ہوشی کے عالم میں پڑے ہوتے ہیں (لفظ “پڑے” استعمال کرنے پر معذرت) دراصل یہ لوگ اپنے اطراف میں چلنے پھرنے والوں سے، آس پاس کے ماحول سے ماورا ہوتے ہیں بالکل بے جان چیزوں کی طرح، اسی لئے یہ “پڑے” ہوتے ہیں۔ ہم لوگ انہیں نشے کا عادی یا نشئی کہتے ہیں اور یہ ایسے عادی ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے اردگرد رونما ہونے والے واقعات کا کچھ علم نہیں ہوتا، یہ غلاظت میں ہوں یا غلاظت ان پر ہو کتے بلی ان کے پاس ہوں یہ بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ یہ بہت ہی بے چاروں والی زندگی بسر کرتے نظر آتے ہیں اور زندگی کی ایسی نا قدری پر موت ان سے زندگی چرا لے جاتی ہے۔ یہ لوگ معاشرے کے بے ضرر ترین لوگ کہلائے جاتے ہیں۔ نشہ ہر اس عمل کو کہا جاتا ہے جسے آپ ترک کر کے آرام سے یا اپنے آپ میں نہ رہ سکیں۔ یوں تو ہر شخص ہی کسی نا کسی “نشے” کی لت میں مبتلا ہے (نشہ بطور اصطلاح استعمال کیا گیا ہے)۔
پاکستان میں ایک ایسا نشہ بھی ہے جو ملک کے خواص کیلئے وقف ہے جسے ہم “سیاسی نشہ” یا “اختیار اور اقتدار کا نشہ” بھی کہہ سکتے ہیں اور یہ نشے کی وہ حالتیں ہیں جو مختلف نشوں کی آمیزش سے تیار پاتے ہیں۔ سب سے پہلے شہرت، شہرت کیساتھ طاقت، طاقت اپنے ساتھ واہ واہ کہنے والے حواری لاتی ہے اور یہ سب مل کر انسان کو خدا بنانے یا کہلوانے کا شوق پیدا کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ یہ نشہ جب بھر پور عروج پر پہنچتا ہے تو انسان کو اقتدار کی ہوس بڑھا دیتا ہے اور پھر اقتدار ملنے پر نشہ اپنا رنگ دکھانا شروع کرتا ہے۔ اس نشہ کیلئے یہ بھی ضروری کہ آپ ہوش میں یا پھر مدہوشی کے عالم میں ہوں، یہ تو آپ سے وہ کچھ کروادیتا ہے جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
پاکستانیوں کو اقتدار کا نشہ بہت بری طرح سے چڑھتا ہے یا پھر کسی بھوت پریت کی طرح چمٹتاہے۔ نشے میں مبتلا لوگوں کو انسان، انسان نہیں دکھائی دیتے یہ لوگوں کو کیڑے مکوڑے یا کسی ریوڑ سے زیادہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ نشے کی حالت میں انسان وہی دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔
ہمارے ملک پاکستان میں بے روزگاری ہے، جہالت اپنے حدوں کو چھو رہی ہے (پڑھے لکھے جاہلوں کی کمی بھی نہیں)، لوگ اپنے ہی جیسے لوگوں کو کسی بات کو وجہ بنا کر بہیمانہ تشدد کر کے قتل کر رہے ہیں اور تو اور انکی لاشوں کی بے حرمتی بھی کی جارہی ہے، یہاں کسی مجرم کو تو سزا نہیں ملتی بلکہ ان کی زندگیوں کو خطرہ ہو تو یہ جیلوں میں بطور محفوظ ترین پناہ گاہ کے طور پر وقت گزارتے ہیں۔ہم جھوٹ بولتے ہیں بے وجہ جھوٹ بولتے اور اس بھرپور اور پر اعتماد طریقے سے بولتے ہیں کہ سچ بولنے والا شرمندہ ہو جاتا ہے، ہم نے جرم کو جرم سمجھنا چھوڑ دیا ہے، ہم نے گناہ کو گناہ کہنا چھوڑ دیا ہے، عورت کو جتنے حقوق دئے جا رہے ہیں اتنا ہی اسکی عزت کو پامال کیا جا رہا ہے۔ لکھتے لکھتے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اسلام سے پہلے دنیا کے حالات لکھ رہا ہوں، ہمارے پیارے نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے کا دور، دورِ جاہلیت چل رہا ہے۔
ہم اقتدار اور اختیار کے نشے میں اتنے دھت ہیں کہ موٹرسائیکل والا سائیکل والے کو کسی خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہے گاڑی والا موٹر سائیکل والے کو کچھ نہیں سمجھتا اسی طرح سے آگے بڑھتے جائیے ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔کسی دفتر کا خصوصی طور پر سرکاری دفتر کا چپڑاسی اپنے دروازہ کھولنے کے اختیار کو ہی اقتدار سمجھتا ہے اور سیدھے منہ بات کرنا گوارہ نہیں کرتا۔ ٹھیلے والا بھی اپنے ٹھیلے کو اپنا اختیار سمجھتا ہے اور مقتدر کی طرح گاہکوں سے رعایا کی طرح برتاؤ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جس کو اقتدار مل گیا اس نے اختیار کا بے دریغ استعمال کرنا شروع کردیا اور جسے اختیار مل گیا اس نے یہ سمجھ لیا کہ اقتدار بھی میرا ہی ہے۔ ہم نے اپنی اپنی آنکھوں پر اقتدار اور اختیار کی عینک لگائی ہوئی ہے۔ ہم سب ہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں شریک ہیں کوئی بہت آگے ہے کوئی تھوڑا آگے ہے اور کوئی آگے آنے کی جستجو میں سخت محنت کر رہا ہے۔ ہم سب اس دوڑ کو جیتنا تو نہیں چاہتے مگر کسی سے پیچھے بھی نہیں رہ سکتے۔ ہم اور ہمارے حکمران جو اس ملک کی بقاء کے ذمہ دار ہیں جھوٹ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں اور ہم سب وقتی فائدے کے لئے مرے جا رہے ہیں۔ جیسی رعایا ہوتی ہے اللہ رب العزت ویسے ہی حکمران مسلط کر دیتا ہے۔ آپ جتنی چاہیں کوششیں کرلیں قدرت کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔
اقتدار اور اختیار اللہ رب العزت کے بعد میرے پیارے آقا ﷺ کے پاس جتنا تھا کسی کو نصیب بھی نہیں ہوسکتا مگر آپ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ اعتدال اور نظم و ضبط کے ساتھ گزاری جس کی نا کوئی مثال تھی نہ ہے اور نہ ہوگی، مگر ہم امتی ہیں اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کی عملی زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے ہمیں روزِ محشر اپنے پیارے نبی ﷺ کا سامنا کرنا ہے، کیا ہم دنیا کی عارضی زندگی کو اتنا الودہ کرلیں گے کہ ہم اس دن اپنے نبی ﷺ کے سامنے کھڑے ہونے کی جسارت بھی نہیں کر سکیں گے۔ ہم جب تک نشے کی حالت سے باہر نہیں آئیں گے اور ہر قسم کے نشے کو ترک نہیں کردیں گے ہم پر ایسے ہی حکمران مسلط ہوتے رہیں گے اور یہ اقتدار اور اختیار کہ نشے میں دھت ہمیں جانوروں سے زیادہ نہیں سمجھنے والے۔ اللہ ہمیں نیک ہدایت دے اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے (آمین)

مرتبہ پڑھا گیا
103مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: