دعا پر عدم یقین ‘ تعویذ جادو ٹونے؟

Print Friendly, PDF & Email

توحید خدائے واحد سے دوری اوردعا پر عدم یقین سے ہمارے معاشرہ میں کئی قسم کے امور تعویذ گنڈے ‘ جادو ٹونے۔‘ بدرسوم ہماری سوسائیٹی میں راہ پا چکی ہیں۔جن کا دین اور شریعت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔قرآن کریم میں خشیت ( اللہ تعالیٰ کی کبریائی سے ڈرنا) کے مضمون کو بڑی کثرت سے بیان ہوا ہے۔خشیت بھی دو قسم کی ہوتی ہی ایک اللہ کی خشیت اور ایک معبود باطلہ کی۔یعنی ایک وہ جو اللہ سے ڈرتے ہیں‘ دوسرے وہ جو انسانو ں ( معبود باطلہ۔پیر فقیروں) سے یعنی خدا کے سوا جو غیراللہ سے ڈرتے ہیں۔مگر اسکے ردّ میں جیسا کہ فرمایا’’ اللہ وہ ہے جس نے آسمان زمینوں کو اور جو اس کے درمیان ہے چھ زمانوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر قرار پکڑا۔اْسے چھوڑ کر نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ ہی سفارشی۔۔( السجدہ آیت 5 ) اور پھر فرمایا کیا میں اس کو ( خدائے واحد ) چھوڑ کر ایسے معبود باطلہ بنا لوں کہ اگر رحمان مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہیے تو ان کی شفاعت میرے کچھ کام نہ آئیگی اور مجھے وہ چھڑا نہ سکے گا۔( یٰسین : آیت 24 )جبکہ فرمایا وہ زندہ ( دوسرو ں کو زندگی دینے والا ہے ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ کی عبادت کو خالص کرتے ہو ئے اسے پکارو ( المومن : آیت 66 )پھر حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ سے پْر یقین دل کے ساتھ دعا مانگو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سے غافل لا پروا دل سے کی گئی دعا قبول نہیں فرماتا۔( ترمذی ) ایک دوسری حدیث میں’’ (اللہ تعالی فرماتا ہے) تم پر دعا کرنا اور مانگنا لازم ہے۔قبولیت دعا اور بخشش میں نے اپنے ذمہ لگائی ہوئی ہے ( الطبرانی ) مگروہ جو خدا کو ترک کرکے معبود باطلہ پیر فقیروں کے سامنے کبھی بزرگوں کی قبروں پر سر جھاتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔اور شرک کی بیماری میں مبتلا لوگ وہ کبھی پیر فقیر ‘ مولوی کے ’’جن‘‘ سے ڈرنے والے ہیں۔ کوئی بھوت سے ڈر رہا ہے ‘ کسی کو جھوٹے خداؤں کاڈر ہے۔جبکہ قرآ ن کریم فرماتا ہے کہ صرف وہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں ‘ وہی لوگ کا میا ب ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور غیر اللہ سے نہیں ڈرتے۔
جبکہ خدا سے دوری کی وجہ سے بہت سے ہیں جو خدا کا دامن ترک کرکے جادو تعویذ ٹوٹکوں کا سہارا تلاش کرتے ہیں۔ مگر ان آنکھ کے اندھو ں کو معلوم نہیں۔جبکہ مبینہ جادو ( جو مسمر ا ئز م کی قسم ہے ) لیکن آج اس مسمرائیزڈ یعنی علم توجہ کو جادو کا لباس پہنا دیا گیا ہے۔جبکہ مسمرائز م فن کے ماہر وں نے عوام کو دھوکا دیا ہوا ہے کہ وہ انسانی ماروا خدائی یا جنوں کی طاقت کے مظہر ہیں ’’جن‘‘ کا نکالنا اور جادو کی طاقت سے کام کر دکھانا وہ خود کو بعض ماروا طاقتوں کا مظہر قرار دیتے ہیں۔ جو خدا کو ترک کرکے ایسے فن کے ماہروں کی طاقت کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور ان سے اپنی دلی مرادوں کے طلبگار ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جن کو لوگوں کو تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو۔اْن کو اتنی استظاعت بھی نہیں کہ ایک مکھی کسی چیز کو چاٹ جائے تو وہ اس کے منہ سے واپس لے سکیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ سے دعا پر عدم یقین رکھنے والے اپنی مرادیں پیر فقیر کالے علم کے عاملین کے سامنے رکھتے ہیں۔قرآن کریم میں تعویذ دھاگہ ایسے جادو ٹونے ٹوٹکے قطعاََ ثابت نہیں ‘یہ سب کچھ جھوٹ دھوکا ‘ فریب دینے کی نام نہاد عاملوں کی کاروائیاں ہیں۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔جادو ٹونا یہ سب مالی منفعت کے کھیل ہیں۔
جبکہ تواہم پرستی کی شکار مشرقی سوسائیٹی نے اپنے خالق مالک کی عبادت اوردعا سے منہ موڑا ہوا ہے اور اس کی جگہ تعویذ گنڈے ‘ جادو ٹونے ‘ پر تکیہ کیا ہوا ہے۔اکثر مشرقی خاندان تو پہلے ہی خاندانی منافرتوں گھریلو چپقلشوں کی زد میں ہیں اور ایسے تعویذات ( جو رشتوں میں ناچاقی یعنی دوسروں کو دکھ تکلیف اذیت پہنچانامقصود ہو) نے جلتی پر آگ کا کام کیاہوا ہے اور ایسے گھروں اور خاندانوں کا امن‘ اب تعو یذات جادوٹونا کے عمل نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ دنیا پہلے ہی ہمہ قسم کے امراض و مصائب اور جنگ وجدل میں گری ہوئی ہے۔ اور بالخصوص پاکستان کوجہادی ملا ؤں اور خود کش حملوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔اور پھر مزید ملاؤں کا پیدا کردہ خیالی’’جن‘‘ جادو ٹونا کی بلاؤں ‘نے بچے کھچے امن کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔گویا مسلمان کا ایک بڑا طبقہ ظاہری و باطنی دونوں قسم کے شرک کے گناہوں میں ملوث ہے۔ وہ پیروں فقیروں کے پاس جا کر مراد طلبی کے لئے قسم قسم تعویذ اور جادوئی عمل بھی کرواتے ہیں اور دلی مرادوں کی طلبی کے لئے مزاروں پر جاکر سجدے کرتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ دعاکی حقیقت اور دعاکی نعمت سے بدنصیب ہیں۔ مگر جو آسمانی ہدائت کی روشنی خدا کی پرستش یعنی نماز میں دعااور سچی جستجو کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی دعائیں رنگ لاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مضطر اور بے کس کی دعائیں سْننے والا ہے ( سور? النمل : آیت 63 )مضطر شخص مصیبت کے وقت پورے یقین سے خدا سے دعا کرتا ہے اور دعا سے مشکلات کا حل چاہتا ہے آنحضرت ? کے مطابق ایسے شخص کی مشکلیں آسان ہو جا تی ہیں۔ ہمارا رب کریم جو ماں باپ سے کہیں زیادہ اپنی مخلوق سے پیار کرتا ہے۔ہمیں قرآ ن میں دعاؤں کے ذریعہ مانگنے کے گْر خود سکھائے ہیںیہ کہہ کر کہ مجھ سے مانگو میں تمہیں عطا کرونگا۔ اور پھر ( قرآن کریم میں )خود دعاؤں کے وہ الفاظ بھی سکھائے کہ کس طرح کن محبت بھرے عاجزانہ الفاظ میں اپنے رب کریم کے سامنے دست سوال دراز کرو ؟کیا یہ سب کچھ اس لئے نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو نوازنا چاہتا ہے۔نبی کریم ? کو بذریعہ وحی یہ اطلاع دی گئی کہ ایک کامل دعا جو اس سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئی وہ سور? فاتحہ کی آخری آیات ہیں۔جو بھی ان دعاؤں کے ذریعہ خدا سے مانگتا ہے اْس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔( صحیح مسلم )حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے اور میرے بندے کو وہ کچھ ضرور ملے گا جو اس دعا میں اْس کے لئے مانگا جائے گا۔( صحیح مسلم )(یو این این)

Views All Time
Views All Time
429
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   امریکا کی جھنجلاہٹ (1) - اکرم شیخ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: