Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پرانے بدلے | شازیہ مفتی

by اکتوبر 28, 2017 بلاگ
پرانے بدلے | شازیہ مفتی
Print Friendly, PDF & Email

عیش کوشی آج انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ غروب ہوتے سورج نے آسمان پر سنہرا سا رنگ بکھیر دیا تھا۔ جاتی سردیوں کی شام میں چلنے والی خوشگوار ہوا پودوں اور پھولوں کی خوشبو سے لدی پھر رہی تھی۔ چائے، پرانے گانے اور کتاب، میں بابر بنی تھی کیونکہ جہاں دوبارہ نیست۔ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی اور پھر بجتی چلی گئی۔ کوئی انجان نمبر تھا۔ کون ہوسکتا ہے؟ سوچتے سوچتے ہیلو کیا، انتہائی کٹیلی، زہریلی آواز سماعت کو جھنجلا گئی، "سلام ولام بھول گئیں اب اتنا بڑی آدمی ہوگئیں”۔ رضی آپا تھیں اور پورے جوش وخروش سے حملہ آور۔ ” کون محترمہ؟” میں نے انجان بن کر پوچھا۔ "ہائیں میں اب کون ہوگئی؟” آپا تلملائیں۔ "دیکھئے آپ کو نہیں پہچانا میں نے آپ خود ہی بتادیجئے؟” میں نے پھر اداکاری کی حالانکہ ان کی نوک دار آواز شاید صرف انہی کی ہی ہے دنیا بھر میں۔ "صحیح کہتے ہیں سب، بدل گئیں تم” پھر اگلیں زہر۔ "محترمہ اگر آپ کو تعارف نہیں کرانا تو میں فون بند کردیتی ہوں”۔ کتنا مزہ آرہا تھا آپا کو چڑا کر ۔”ارے نہیں بند نہ کرو میں رضی تمہاری رضی آپا”۔ اب آئیں نا سیدھی راہ پہ، یہ کسوٹی کسوٹی کھیلنا بہت پرانا مرض ہے ان کا۔ امید ہے آج کے بعد کچھ افاقہ ہوگا۔ "اوہ رضی آپا آپ سوری میں واقعی نہیں پہچانی ۔ کیسی ہیں آپ؟ کہاں غائب ہوجاتی ہیں؟ خیریت تو رہی نا؟” شہد سے میٹھے لہجے میں پوچھا میں نے۔ "ہاں بھئی ہم تو نظر ہی نہیں آتے کسی کو۔ کتنی تو بیمار رہی ڈینگی نامراد ہوگیا تھا” آپا گویا ہوئیں۔ اوہو بتایا ہی نہیں اب کیا حال ہیں”۔ ہاں ٹھیک ہوں بس خبریں ملتی رہتی ہیں سب کی” کچھ ڈھیلی ڈھالی سی بولیں۔ "ارے میں تو بہت یاد کرتی ہوں تم کو، تم نےہی بھلا دیا” ارے نہیں آپا ایسا تو مت کہیں میں آج گھر پہ ہوں۔ آپ یوں کریں میری طرف آجائیے۔ میں نے دعوت نامہ داغا۔ "نہیں بھئی تم ہی آجاؤ، اگر فارغ ہو، تم تنگ ہوگی میرے آنے سے، کہاں کھانا وانا پکاتی پھرو گی۔ تمہیں کہاں عادت ہے گھر کے کام کرنے کی” آپا نے طنز کیا۔ نہیں پکانا کیوں آپ کو باہر لے کر چلوں گی۔ ارے رضی آپا وہیں نا چلیں راوی کنارے جب میں سہیل کی مبارک باد دینے آئی تھی تو بشیر بھائی ہمیں لے گئے تھے۔ میں وہ تواضع کیسے بھول سکتی ہوں جب آپا کے بیٹے کے میٹرک بمشکل پاس کرنے پر دو سوکھے لڈو آئے تھے اور میں دیوانہ وار ان دونوں میاں بیوی کے جوڑے، بچیوں کی چوڑیاں، ان کےبیٹے کے لئے گھڑی لے کر تھال موتیے گلاب کے ہاروں سے سجا کر ان کے گھر پہنچی تھی اور بشیر بھائی نے خوب ٹھٹھے لگائے تھے "ارے دیکھو یہ تو یوں لگ رہا ہے مجرا دیکھنے آئی ہیں”۔ اور سب بچے بڑے منہ چھپا چھپا کر ہنسنے لگے تھے۔ بدذوق کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ مجرا کیسے دیکھا جاتا ہے۔ میں انتہائی لگاوٹ سے بولی، "آپا آجائیں نا۔ چلتے ہیں وہیں راوی کنارے۔ کتنا مزہ آیا تھا وہاں کتنے مزہ دار تکے کھائے تھے”۔ وہ گدھوں کی بدبو میں چھپڑ نما نام نہاد راوی کنارے مرغی کے کلیجی پوٹے کے تکے اور گدھے کےقیمے کے کباب جن میں شاید نمک مرچ اور سڑک کی دھول برابر سے شامل تھی جو کرچ کرچ دانتوں میں آرہی تھی اور لسی نما لال مرچوں والی چٹنی۔ یاد کرکے ہی جی متلانے لگا۔ بشیر بھائی اپنے غلیظ ناخنوں والے بال دار ہاتھوں سے مسل مسل کر تکے کباب سب کو بانٹ رہے تھے۔ دل چاہ رہا تھا ان کی ٹانگ دہکتی ہوئی انگیٹھی کے ساتھ باندھ کر چھپڑ برد کردوں۔ جل کر بھسم ہوں اور بقول ان کے جس راوی کنارے وہ ہمیں لائے تھے اس میں غرق ہوجائیں اپنے بیہودہ قہقہوں سمیت اور رہتی دنیا تک بھینسوں کا مجرا دیکھتے رہیں۔ آپا چپ۔ پھر ہنکارا بھر کر بولیں، "رہنے دو پھر کبھی آؤں گی”۔ پھر کیوں آج کیوں نہیں؟ چائے بھی وہیں سے پئیں گے گڑ والی اور دارچینی والی۔ کتنا مزا آئے گا۔ مجھے تو سوچ کر ہی منہ میں پانی آرہا ہے آجائیں نا چلتے ہیں۔ اب میں ظلم کی حد تک اصرار پر اتر آئی۔ چائے واقعی مزے دار تھی اور اس دن پیٹ کا دوزخ اسی سے بھرا تھا۔ تکے کباب تو نیم تاریکی کا فائدہ اٹھا کر ادھر ادھر پھرتی بلیوں کو کھلا دیئے تھے۔ آپا کا کھسیایا ہوا لہجہ کلیجہ ٹھنڈا کرگیا۔ "نہیں تمہارے بھائی مصروف ہیں اور مجھے بھی ابھی بازار کے کھانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس راوی کباب والے کو پولیس لے گئی تھی شاید کوئی فوڈ اتھارٹی والوں کو کچھ شکایت تھی۔ خوش رہو بہت شکریہ آؤں گی کسی دن۔ آج تم یاد آرہی تھیں بس دل چاہ گیا آواز سننے کو”۔ بہت سی دعائیں دے کر آپا نے فون بند کردیا۔ آواز بالکل بیٹھی بیٹھی سی ہو رہی تھی۔فون کرنے والی آپا راضیہ ا ور فون بند کرنے والی آپا راضیہ میں زمین آسمان کافرق تھا۔ آج کتنے پرانے بدلے لئے تھے اس قدر کمینی خوشی ہورہی تھی کہ بس۔ وہیں سے سلسلہ عیش کوشی جوڑنا چاہا لیکن بھائی ضمیر چابک لے کر آن کھڑے ہوئے اور پھر کیا تھا دس منٹ میں تیار ہوکر رضی آپا کے گھر جارہی تھی۔ ان کے لئے کھاڈی لان کا سوٹ بہت سے پھل اور بچوں کے لئے چاکلیٹس لے کر۔ اللہ سے توبہ کرتی، اپنی کم ظرفی پر اور اللہ کی بندی راضیہ آپا کا دل دکھانے پر سخت شرمسار۔ کاش کاش میں آپا کی فون کال ہمیشہ کی طرح تابعداری سے سنتی۔ ان کے تمام گلوے شکوے دور کرنےکی کوشش کرتی۔ مگر کیا کروں انسان ہوں نا میری بھی انتہا کرا دی تھی آپا نے ۔ ہاں آج تھال نہیں سجایا تھا، پھول بھی نہیں لئے تھے اور سوچ کر جارہی تھی کہ شدید اصرار پر بھی کھانے پر نہیں رکوں گی۔

Views All Time
Views All Time
559
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اک پولیس والا | خالد چوہدری
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: