Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کچھ علاج اس کا بھی | شازیہ مفتی

by اکتوبر 4, 2017 بلاگ
کچھ علاج اس کا بھی | شازیہ مفتی
Print Friendly, PDF & Email

کچھ دیر پہلے ٹی وی پر انتہائی دلخراش خبر نشر ہوئی شاہدرہ لاہور کے علاقے میں ننھی بچی جس نے ابھی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر چلنا سیکھا تھا کھیلتے ہوئے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوگئی۔ روتی کرلاتی تڑپتی ماں اور بےبس کھڑا آنسو بہاتا باپ بار بار سکرین پر دکھائے جارہے تھے۔ یہ دونوں کبھی بھی اس سانحہ کو بھول نہیں پائیں گے۔ اللہ تعالی انہیں صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور اس دکھ کے بدلے اعلی اجر دے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ ہاں حکومتی نمائندوں نے فوری ایکشن لیا اور واسا ایل ڈی اے کے غالبا تین ملازمین کو معطل کرکے انکوائری شروع کردی گئی۔ جس ملک میں آج تک بڑی بڑی اہم شخصیات کے قاتل نہ پکڑے گئے، ملکی سطح پر غبن کے ثابت شدہ مجرمان دندناتے پھرتے ہیں، وہاں اس انکوائری کا نتیجہ سب ہی کو معلوم ہے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوجاتا اور نہ ہی یہ اس مسئلہ کا مستقل حل ہے۔ مجھے یاد آیا کچھ عرصہ قبل میری داڑھ میں درد اٹھا۔ ڈینٹسٹ کے پاس گئی۔ کلینک والی سڑک تعمیر نو کے مراحل سے گذر رہی تھی۔ بھاری مشینری کی آوازیں اور گردوغبار کے بادل سانس لینا دشوار کررہے تھے۔ ایکسرے اور نجانے کن کن تکلیف دہ مراحل سے گذر کر چھ ٹیکے لگا، عجیب آری جیسی مشین سے کاٹ پیٹ کر ٹیڑھی، ہک کی طرح مڑی، صحت مند دانت میں اڑی داڑھ کو باہمت ڈاکٹر صاحب نے نکال پھینکا مگر ان سب صبر آزما مراحل کے بعد میری خاصی ناگفتہ بہ حالت ہوچکی تھی۔ کسی طرح گاڑی تک پہنچی آنکھیں ویسے ہی بند ہوئی جارہی تھیں اس پر سڑک پہ بے تحاشا گردوغبار۔ گاڑی میں بیٹھی، بائیں ہاتھ کچھ فاصلے پر ایک لینڈکروزر رکی۔ دروازہ کھول کر ایک معقول شخص اترا اور غائب۔ اب مجھے لگا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں اس لئے کچھ بینائی پر اثر پڑ گیا ہے مگر آس پاس سے لوگ بھاگے۔ وہ صاحب بیچارے کھدی ہوئی سڑک کنارے کھلے مین ہول میں جا گرے تھے جو خاصا گہرا رہا ہو گا کیونک سیڑھی لاکر باہر نکالا گیا۔ نجانے کس قدر مضروب ہوئے ہونگے۔ اب یہاں کون ذمہ دار ٹھہرایا جاتا۔ سڑک بنانےوالے مزدور قسمیں کھارہے تھے کہ انہوں نے خود سڑک کنارے ڈھکن لگا کر مین ہول بند کئے تھے۔ اکثر دیکھا ہے گھروں کے باہر مین ہول کے ڈھکن فرش میں ہک لگا کر زنجیر اور تالے سے بندھے ہوتے ہیں۔ یہ گٹر چوروں سے بچنے کی تر کیب ہے۔ انفرادی سطح پر تو اس طرح کے اقدامات کئے جا سکتے ہیں لیکن سڑکوں کے کناروں پر یہ کھلے مین ہول انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ ان کا مستقل بنیادوں پر حل ضروری ہے۔ ہم من حیث القوم شاید تربیت سے محروم رہ گئے ہیں جیسے بہت سارے لوگوں کے پاس ہر غلط کام کرنے کا جواز موجود ہوتاہے، "ساڈی نکے ہوندیاں دی ماں مرگئی سی فیر کسی نے چنگا ماڑا دسیا ای نئیں” تو پاکستانی قوم بھی شاید اسی لئے بےتربیت بے ہدایت رہ گئی۔

Views All Time
Views All Time
569
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   میں پیدل چلا کربلا - سفرِِعشق - حنان صدیقی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: