حسین کا غم ہے | شازیہ مفتی

Print Friendly, PDF & Email

نویں دسویں محرم اور ایک دکھ درد سوز و گریہ کی کیفیت کا طاری ہوجانا، ننھے علی اصغر کی نیاز بناتے بانٹتے، پانی کی سبیل لگاتے اور پھر رات بھر حلیم پکتے دیکھنا معمول رہا۔ عصر کے وقت گھر میں کلمہ شہادت کا ورد اور پھر TV پر شام غریباں، ہر بار مجھے لگتا آج دکھ سے دل پھٹ جائے گا مگر پھر صبر آجاتا۔ چند باتیں بہت اہم ہیں جو سیکھیں واقعہ کربلا سے، حق پر قائم ہوجانا، صبر، حوصلہ اور ثابت قدمی، نماز قائم رکھنا اور باطل کے آگے کبھی سر نہ جھکانا۔

حسین کا غم

ہر ایک آنکھ جو نَم ہے حُسین کا غم ہے
کہ آج دل کوجو غم ہے حُسین کا غم ہے

کوئی بھی درد مِری آنکھ نم نہیں کرتا
مگر یہ غم میں جو دَم ہے حُسین کا غم ہے

کبھی رہا ہی نہیں ہے سیاہ رنگ عَلم
جو اب سیاہ عَلم ہے حُسین کا غم ہے

سسک رہے ہیں سرِ صفحہ حرفِ گریہ کناں
کہ میں ہوں میرا قلم ہے حُسین کا غم ہے

تو ایک عمر میں کیسے لکھوں خداوندا
یہ عُمر ویسے بھی کم ہے حُسین کا غم ہے

یہ سوگوار سا موسم ہے شازیہ مفتی
ہوا کی سانس جو نم ہے حُسین کا غم ہے

یہ بھی پڑھئے:   بے حسی-سندس خان سدوزئی

شازیہ مفتی

Views All Time
Views All Time
773
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: