Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

موسمی قصائی بمقابلہ خاندانی قصائی | شازیہ مفتی

by ستمبر 5, 2017 مزاح
موسمی قصائی بمقابلہ خاندانی قصائی | شازیہ مفتی
Print Friendly, PDF & Email

عید سے پہلی رات پورے خاندان نے شدید پریشانی میں گزاری۔ کہاں کی مہندی؟ اور کون سی چوڑیاں؟ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو پیدا ہونے والے سلیم الدین فاروقی وطن عزیز کے جڑواں بھائی کی طرح ہر تہوار پر تاریخ کے نازک موڑ پر جاکھڑے ہوتے ہیں۔ اس عید قربان پر بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ لکڑی کے ڈبے میں سنبھال کر رکھے گئے چمڑے کے غلافوں میں لپٹے بغدے اور چھرے دو دن پہلے ہی تیز کرا لئے گئے تھے جن کو استعمال کے بعد مانجھ دھو کر, تیل لگا کر پھر سنبھال دیا جاتا تھا لیکن آج "شاستری جی” گیارہویں گھنٹے پر ٹکا سا جواب دے گئےتھے (یہ موصوف کئی دہائیوں سے عید قربان پر آنے والے خاندانی قصائی خادم حسین تھے جو بھارتی کرکٹر روی شاستری کے ہمشکل ہونے کی وجہ سے شاستری کےنام سے ہی پکارے اور شاید لکھے بھی جانے لگے تھے)۔ زیادہ صدمہ یہ تھا کہ "تم ،تم” کر کے مخاطب کرتے رہے کیونکہ کسی سیٹھ کے یہاں تیس بکرے ذبح کرنے کا کام مل گیا تھا۔ اب یہاں کے چار کس خاطر میں تھے۔ فاروقی صاحب دسیوں میل اپنے گھر میں ہی چہل قدمی کرچکے تھے مگر سب بےکار تھی۔ آخر بارہ بجے بیٹوں بہوؤں کے بے شمار تسلی دلاسوں کے بعد آرام کرنے پر آمادہ ہوئے۔ آج مرحومہ بیگم کی یاد بھی شدت سے حملہ آور ہوگئی تھی۔ وہ ہوتیں تو دو پیار بھرے بول ہی بول دیتیں جن سے آدھا بوجھ ہلکا ہو جاتا۔ ٹھنڈی سانسیں بھرتے ساری رات کروٹ پر کروٹ بدلتے رہے۔ مؤذن کی پہلی اذان کے ساتھ جیسے پھر وہی سوال "اب کیا ہوگا؟” عید گاہ سے واپسی میں بیٹوں کے ساتھ دو مشٹنڈے بھی گاڑی میں سوار ہوگئے۔ پتہ چلا کہ یہ خاندانی قصائی ہیں۔ گھر پہنچتے ہی مشٹنڈے سب سے مہنگے بکرے پر ٹوٹ پڑے اور اس شدت سے ذبح کیا کہ سر تن سےجدا کر ڈالا۔ "کتنے جاندار جوان ہیں کس تیزی سے کام کررہے ہیں ایک وہ شاستری جی تھے کیسے ٹہل ٹہل کر ایک ایک بکرا ذبح کرتے تھے”۔ چھوٹے فاروقی صاحب اپنے دریافت کردہ قصائیوں کی ناقص کار کردگی پر کھسیا کر تعریف کا پردہ ڈال رہے تھے کہ ایک مشٹنڈے نے بکرے کو اگلی ٹانگوں سے اٹھا کر چھت سے لگے کنڈے سے ٹانگ دیا۔ کھال اس بے دردی سے اتاری کہ کئی جگہ تو چونی اٹھنی کے برابر چپکی ہی رہ گئی اور کئی جگہ پاؤ پاؤ گوشت کھال کے ساتھ چلا آیا۔ سلیم الدین صاحب ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے۔ بیٹوں نے زبردستی بغدا بردار مشٹنڈوں کو دنبوں اور بچ جانے والے بکرے پر حملہ کرنے سے روکا۔ "ارے کم بختوں نے گردن اڑا ڈالی کھال اس طرح اتارتے ہیں ارے خبیثوں تم خاندانی قصائی ہو؟” سلیم الدین صاحب گرج رہے تھے۔ مشٹنڈے چپکے سے دو سو روپے لے کر کھسک چکے تھے۔ شاستری جی کو پھر یاد کیا جانے لگا۔ گھڑی کی سوئیاں تیزی سے بھاگ رہی تھیں۔ دوبجے حسب روایت ظہرانے پر سب یہیں آنے والے تھے۔ "اب کیا ہوگا ؟” وہی سوال جو کل سے اب تک بار بار دہرا یا جاچکا تھا۔ چھوٹے پوتے نے آہستہ سے ماں سے کہا "مما سب بکروں دنبوں کی ٹانگیں کاٹ کر روسٹ کرا لیں گے” اور پوتی منمنائیں "پزے اور کے ایف سی منگا لیں اب کھانا پکنے کا وقت نہیں رہا” ِچھلے، کَٹے،  ِپسے اور تَلے ہوئے لہسن، پیاز اور ادرک حیران اور پریشان تھے۔ کٹھی میٹھی چٹنیاں تو پشیمان بھی تھیں۔ ایک شیر خورمہ تھا جو بادام پستوں سے سجا چاندی کے ورق سے جھلمل کرتا طشتریوں میں سکون سے سجا تھا۔ سلیم الدین صاحب گھر میں ہی میلوں کا سفر طے کررہے تھے۔ بچوں کی باتیں سن رہے تھے اور کڑھ رہے تھے۔ وہ کس طرح ان ہوٹلوں والوں کو بینرز لگانے سے منع کر سکتے تھے وہ خود اس قسم کی قربانی کے سخت خلاف تھے کہ رانیں اتارکر روسٹ کرا لو۔ بہرحال اس وقت مسئلہ قصائی کی عدم دستیابی اور تیزی سے بھاگتا ہوا وقت تھا۔ قصائی کے لئے دوستوں رشتہ داروں کو فون کئے جارہے تھے۔ مالی صاحب سےسری پائیوں کا وعدہ تھا وہ بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار آپہنچے۔ یہاں کی صورت حال دیکھ کر کچھ دیر تو خاموش رہے پھر کرتا اتار کر ایک طرف رکھا جس کے نیچے بنیان لہولہان تھا۔ "لو جی صاحب جی حکم اللہ کا” کہہ بیٹے کے ساتھ مل کر دنبہ گرا لیا پھر سکون سے تکبیر پڑھ کر چھری پھیری، انتہائی مہارت سے کھا ل اتاری، نفاست سے گوشت تیار کیا۔ کھٹاکھٹ بغدا اور چھرا چل رہے تھے۔ لو جی گھنٹے بھر میں کھانا بھی تیار۔ ظہر سے پہلے گوشت بٹ بٹا چکا تھا۔ مالی صاحب دس ہزار جیب میں ڈال، سری اور پائے باندھ، کرتا پہن اور "حکم اللہ کا” کہہ جیسے آئے تھے ویسے غائب۔ ہاں جاتے جاتے گم سم بیٹھے سلیم الدین صاحب کو بتا گئے کہ وہ خاندانی قصائی ہیں لیکن نوکری مالی کی مل گئی تو حکم اللہ کا مان لیا، اب بس عید کے عید اپنا ہنر آزما لیتے ہیں۔
سب ہی کو کبھی نہ کبھی اس قسم کے خاندانی قصائی ہونےکے دعویدار موسمی قصائی ملتے ہونگے لیکن سب سلیم الدین فاروقی جیسے خوش بخت نہیں ہوتے جن کو شاستری کے غیاب کے بعد مالی صاحب مل گئے .

Views All Time
Views All Time
447
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تھری ان ون کالم | حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: