Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ا طلاع عام | شازیہ مفتی

by جون 17, 2017 مزاح
ا طلاع عام | شازیہ مفتی

اطلاع یہ بہم پہچانا مقصود ہے کہ احباب اس بات پر ناراض مت ہوں کہ ناچیز سیل فون ،واٹس ایپ ،میسنجر اور فیس بک پر کہیں دستیاب نہیں ۔ وجہ یہ نہیں کہ ناچیز کی پرانی تصویر کو پروفائل دیکھ کر کسی لونڈےلپاڑے نے اظہار عشق کی جرات کردی ہے یا کسی پرانے پاپی کو دوبارہ بخار عشق نے آن گھیرا ہے جس کی وجہ سے ناچیز کو تمام ذرائع روابط کو بند کرنا پڑا ۔ شکر ہے اللہ سب کو نیک ہدایت دیئے رکھے ان سب مسائل سے فی الحال بچت ہے ۔ ہوا کچھ یوں صاحبان ( خواتین بھی مخاطب ہیں صاحبان صرف محاورتاً لکھا جیسے مساجد سے اعلان کیا جاتا ہے ” حضرات روزہ افطار کرلیں یا سحری کا وقت ختم ہوگیا حضرات ۔ ان شریف لوگوں کا مقصد قطعاً نہیں ہوتا کہ خواتین روزہ افطار نہ کریں یا ان کے لئے سحری کا وقت ختم نہیں ہوا ۔ مقصود صرف پردہ داری ہوتا ہے ) تو صاحبان ہوا کچھ یوں کہ ایک بہت عزیز دوست کی شادی میں جانا تھا جتنا زیادہ کوئی عزیز ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ تیاری بھی کرنا پڑتی ہے ۔روانگی کے وقت گھر کے دروازے بند کرتے تالے لگاتے کسی نہایت بے چین شخصیت نے فون کرنا شروع کردیا ۔ ایک ہاتھ میں پرس تهامے ،دوسرے ہاتھ سے دروازے بند کرتی کس طرح فون سنتی ۔آفرین ہے فون کرنے والے پر کہ بتیس تینتس بیلیں بجنے کے باوجود مستقل مزاجی وہیں قائم رہی ۔ کار کے لگاتار بجتے ہارن نے مزید ہاتھ پاؤں پھلادیئے تین انچ ہیل کا جوتا ،سیڑھیاں اترنے اور ساتھ ساتھ پرس سے سیل فون نکالنے کی کوشش میں پاؤں مڑا ،ہاتھ سے پرس اور موبائل چھٹ کر پندرہ سیڑھیاں طے کرتے زمین بوس اور میں نہ جانے کس کی دعا کام آگئی کہ سیڑھیوں کے جنگلے کے ساتھ بندریا کی طرح لپٹ گئی غالباً دو تین سیڑھیاں تو پھسلی مگر جنگلہ نہ چھوڑا . شکر ہوا کہ پندرہ قدم گرنے سے بچ گئی ۔ چونکہ بتی بھی خود ہی بجھائی تھی تاکہ اگر کوئی ناوقت آئے تو اندھیرا دیکھ کر واپس چلا جائے اور ناراضگی ،گلےشکوے سننے سے بچت ہوجائے کہ جی ہم تو بیل بجاتے رہے آپ نے دروازہ ہی نہ کھولا ۔ اس بتی بند ہونے نے عزت رکھ لی ورنہ سب میرا بن ڈگڈگی کا بندریا ڈانس دیکھ لیتے ۔ خیر خود کو بمشکل سنبھالا جوتے ہاتھ میں پکڑے اور کار میں جا بیٹھی ۔ہاں پرس اور سیل فون اٹھالیا تھا ۔سکرین تاریک ہوچکی تھی لیکن بیلز مسلسل بج رہی تھیں ۔ ایل سی ڈی داغ مفارقت دے چکی تھی ( اب یہ ایک اور _خرچہ ۔ کسی کو نا بتایا مجھ پر کیا بیتی ۔ کسی طرح شادی کا وقت گزارا اور خادم اعلی کو دعا دیتی کہ دس بجے فنکشن ختم ہوگیا تھا گھر آئی ۔ بستر پر پہنچ کر پتہ چلا کہ کسی معجزے کے اثر سے اب تک چل رہی تھی . درد ،شدید درد ،بس درد ہی دردکچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ گردہ ،پتہ ،اپنڈکس ان میں سے کیا چیز ناراض ہوگئی ہے .بچے حیران اور میاں صاحب پریشان ۔ درد کے ساتھ متلی اور الٹی بھی شروع ہوگئی ۔ ہائے ہائے کرتے ہوئے جو نظر اٹھاکر دیکھا تو بچوں کی آنکھوں میں عجیب سے شک کی پرچھائیاں. بیٹی نے تو کہہ دیا ” مما آپ کو اپنی گائناکولوجسٹ کے پاس جانا چاہئے ” اور ہونہہ کرکے واک آؤٹ کرگئی. کچھ شک سا تو مجھے بھی ہوا لیکن پھر یاد آیا کہ مطلوبہ سہولت میسر نہیں ہے ۔اب درد کے ساتھ ذلت کا احساس بھی شامل ہوچکا تھا اور جب درد حد سے بڑھ جائے وہ درد دل ہو یا جسمانی تو ہوش وخرد سے بیگانگی میں پناہ مل جاتی ہے ۔ ہوش اور بے ہوشی کے درمیانی وقفوں میں ابامیاں ۔مرحوم کا شفیق چہرہ آ نکھوں کے سامنے آتا رہا .یہ بھی ایک دیرینہ عادت ہے کہ ہر مشکل اور تکلیف میں ابامیاں کا بے تحاشا خیال آنے لگتا ہے ۔ ہاں تو دواؤں کی بو ،ابامیاں کا شفیق چہرہ اور آہستہ آہستہ ملتا سکون ۔ نہ جانے کتنی دیر بعد آنکھ کھلی تو یاد تو فورا آگیا سب لیکن چونکہ اداکاری کا شوق بچپن سے تھا تو جی آنکھیں پٹپٹا کر ایک ہوکا بھرا اور سوال کیا ” میں کہاں ہوں ؟ ابھی یہ پوچھنا تھا کہ میں کون ہوں کہ میاں صاحب تمام حالات خبرنامے کی طرح سنا پھر سے اپنے خول میں کچھوے کی طرح پناہ گزین ہوگئے ۔ سب ٹھیک تھا اور بس جھٹکا لگنے سے وقتی درد ہوا تھا اور ہاں باریش ڈاکٹر صاحب کی عزت بچ گئی جو کہیں میں ہائے ابامیاں کہہ کر گلے سے لپٹ جاتی تو بےچارے کا career تو گیا تھا ۔ گھر پہنچ کر سب سے پہلا کام تو ناخلف اولاد کو منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے عاق کرنے کا کیا ۔جس کا انہیں کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ چند پرانی کتابوں گھسے ہوئے کپڑوں میں انہیں پہلے ہی دلچسپی نہیں ۔ خیر دوسرا کام نیا سیل فون منگوایا اور اب آپ سب احباب کو مطلع کررہی ہوں امید ہے آپ سب سمجھ گئے ہونگے ۔ و السلام !

Views All Time
Views All Time
400
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: