Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار

Print Friendly, PDF & Email

ہر طرف شجر کاری مہمات جاری ہیں ۔ سکولوں کے بچے ،اساتذہ،  ریلوے افسران ، ڈاکٹرز انجینئرز اور مجھ سے بے کار مباش سب ایک ہی دھن میں ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں ۔

چند دن پہلے گاؤں جانے کا اتفاق ہوا۔ راستے میں  بڑی بلکہ بہت ہی بڑی نہر ہے ۔ درمیان میں کچی سڑک جسے عام زبان میں نہر کی پٹڑی کہا جاتا ہے اور اس کے ساتھ راجباہ وہ بھی ہماری لاہور نہر جتنا ۔ پھر فاصلے فاصلے سے کھال نکل رہے ہیں  ۔ایک مربوط اور بے نقص نظام آبپاشی ۔ جس پر ہم فخر کرتے ہیں کہ دنیا کا بہترین نہری نظام پاکستان میں ہے ۔ مجھے یاد ہے اس نہر کے کناروں پر شیشم ، کیکر ، پیپل اور شرینہہ کے اس قدر بلندوبالا اور سرسبز درخت تھے کہ یوں لگتا تھا سبزے کی سرنگ سی ہے ۔نہر کنارے کچھوے دھوپ چھاؤں کے مزے لیتے نظر آتےان کو مقامی زبان میں ” پکھال ”  کہا جاتا تھا۔( یہ لفظ پکھال اتنا بھایا کہ کئی ناپسندیدہ افراد کو مدتوں اسی نام سے پکارتی اور لکھتی رہی ۔اللہ معاف کردے اب  تائب ہوچکی ہوں اور پکھال کی جگہ انگریزی کا متبادل استعمال کرتی ہوں) کم ازکم دو فٹ قطر دائرہ جتنے گہرے سبزکائی کے رنگ کے  الٹے تسلے سے قطار میں پڑے ہوتے تھے ، لوگ کہتے کہ یہ کچھوے میمنوں تک کا شکار کرلیتے ہیں دروغ بر گردن راوی۔

اسی نہر کنارے  چھ فٹ تک  لمبے سانپ بھی رینگتے دیکھےان  کو دیکھ کر دور سے سواری روک دی جاتی یہاں تک کے وہ  کسی بل میں یا جھاڑیوں میں روپوش ہوجاتے ۔خیر یہ اجاڑ بیابان نہرکے کنارے دیکھ کر ناچیز کو یہاں شجر کاری کا خیال آیا ۔نہر پر قریبا پچیس پچیس کلومیٹر دائیں بائیں چکر لگایا لیکن کسی درخت کا ٹھنٹھ تک نہ دکھائی دیا ۔کھیتوں میں اور کچی پکی سڑکوں کے کناروں پر خال خال ہی درخت دکھے ۔

 کچھوے اور سانپ تو درکنار کینچوا اور چوہا تک نہیں نظر آیا ۔ ہاں راجباہ کے ساتھ سڑک پکی ہوچکی تھی مکانوں کی چھتوں پر ڈش اینٹینا آویزاں تھے۔ کئی جدید تعمیر شدہ مکان تو سولر انرجی کی پلیٹیں بھی سروں پر سجائے کھڑے تھے ۔ اور راہ گیر ، پیدل ، سائیکل ، موٹر سائیکل ، چنگ چی ، گاڑی یا بس پر سوار موبائل سے لیس دکھائی دیے ۔

اچھا اب میزبان سے نہر کی اس حالت ، درختوں کے غیاب کا ذکر ہوا  اس پر بات چیت شروع کی کہ اس نہر کو دوبارہ سرسبز کیا جائے اور ہم اپنے حصے کے درخت یہیں لگاتے ہیں ۔ ایک  بزرگوار نے فرمایا فوجیوں( ضیاالحق کے مارشل لاء ) کے جانے کے بعد کوئی پوچھنے والا نہیں تھا اس لیے درخت ہڑپ کرلیے گئے  ۔ اب فوج کے ذمے لگادیا جائے درخت لگانا ۔ بتائیے اس سادگی پر یا ہڈ حرامی پر کیا کہا جائے ۔  یعنی خود کچھ نہیں کرنا ۔ پھر یہ تو بہت لمبی بحث ہے کہ ہڑپ کیا کیا ہوا اور کس کس کے ہاتھ لہو میں لتھڑے ہیں اب تو ہنگامی اقدامات کرنے ہیں ۔ سنجیدگی ، لگن ، محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ ساتھ ہمت نہ ہارنے والا جذبہ جنون چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:   کتب بینی-شہزاد سلیم عباسی

یہیں گاؤں میں ایک کلین شیو مہاشے ہیں ،بونے نہیں ہیں لیکن ان کے پیٹ میں داڑھی ہے اور وہ بھی لال رنگ کی ۔ مقامی لوگ  ان کی گوگل دانشوری سے چڑ کران کو ” عمراں دی مڈھی ”  کہتے ہیں ۔ ان موصوف کی صفت اکبر یہ ہے کہ ہمیشہ تصویر کا تاریک رخ ہی دیکھتے اور دکھاتے ہیں ۔ علاقے کے شرفا اپنے ٹین ایجرز کو سگریٹ اور ان صاحب کی گفتگو سے بچاتے پھرتے ہیں ۔  چند خیالات عالیہ سے ہمیں بھی مستفیض کیا ، نمونہ ملاحظہ کیجے

دولت اور علم مقدر سے ملتا ہے  ڈگریوں سے نہیں اس لیے بلاوجہ زندگی کے حسین دن غارت کرنے کی قطعاََ ضرورت نہیں ۔

 کہتے ہیں سکندر اعظم کو جب اپنے وطن واپس جاکر ہی مرنا تھا تو اتنی ماردھاڑ کرنے اور لور لور پھرنے کی کیا ضرورت تھی ۔

چنگیز خان پسندیدہ کردار ہیں بقول ان کے چنگیز خان محسن دھرتی ہیں لاکھوں دھرتی کے بوجھ نما لوگوں کو قتل کرکے گلوبل وارمنگ سے کافی حد تک بچت کرگئے۔

  نئےڈیموں کی تعمیر کے سخت مخالف ہیں کہتے ہیں کہ سیلاب میں دریا اپنے ساتھ زرخیز مٹی لاتے ہیں جو زمین کی زرخیزی بڑھاتی ہے ۔ اور سیلابی پانی سے آنے والی تباہی پر کہتے ہیں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا توضروری ہے۔

  شجر کاری مہم کو ایک ناکام ترین مہم قرار دیتے ہیں ۔ بقول ان کے یہ محکمہ جنگلات کا کام ہے ۔

ہماری تجاویز کو سوکھے منہ سے سن کر انتہائی مایوس کن گفتگو فرمائی۔  سب سے پہلے تو بھینسیں گائیں بکریاں نئے بوٹے چر جائیں گی ۔ اگر کوئی بچ گیااور کچھ قد نکال گیا  تو کلہاڑی سے چھانگ کر ٹہنیاں بالن کے لیے لے جائیں گے لونڈے ۔کس کس کو روکتے پھریں گے اور پھر پانی کون دے گا ان پودوں کو ۔

یہ بھی پڑھئے:   آئیں قلم کار کا حصہ بنیں

نہر کنارے  پودے لگانے میں اس قدرخطرات بتائے کہ ہاتھوں پر ہتھ کڑی ، پاؤں میں بیڑی اور گلے میں طوق کا بوجھ محسوس ہونے لگا ۔ اور کانوں میں ان سب کی جھنکار کی موسیقی سی بجنے لگی ۔سرکاری املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش پر نجانے کون کون سی دفعات لگوادیں ناچیز پر ۔

خیر سارا جذبہ دنیا کو بچانے ، سرسبز کرنے کا اپنی موت آپ مر گیا ۔ اور شرمندہ شرمندہ گھر کو لوٹ آئی۔

لیکن  کئی دن  سوچ میں رہی، سوالات ذہن میں اٹھتے رہے اور پھر جیسے سب کے جوابات مل گئے  ۔ دیکھئے ناچیز کی تحقیق کے نتائج ۔

محفوظ شجرکاری کیا ہے؟

* ہم اس وقت شجر کاری کی  مہم کی وقتی لہر سے متاثر ہو کر  اندھا دھند غیر محفوظ شجرکاری کررہے ہیں،اس طرح بہت ہی کم پودے زندہ رہنے میں کامیاب ہوں گے۔ اس لیے مقدار اتنی اہم نہیں جتنی معیاری اور محفوظ شجرکاری۔

*چار دیواری اور پانی  کی دستیابی والے تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اور مختلف ادارے محفوظ شجر کاری کے لیے بہترین ہیں۔

*اس کے علاوہ بڑے شہروں میں ڈیولپمنٹ اتھارٹیز مثلا  PHA ,KDA/LDA/CDA وغیرہ کے توسط سے اجڑے ہوئے لاوارث پارکس کو ہرا بھرا کیا جاسکتا ہے۔

*چھوٹے شہروں میں اسسٹنٹ کمشنرز ، اور باقی سرکاری عملے کی اجازت اور مدد لے کران کے ساتھ   مل کر بھی آئیڈیل شجرکاری کے لیے زمین لی جا سکتی ہے۔…

*مفت پودے یا انتہائی سستے پودوں کے لیےضلعی محکمہ جنگلات سے رجوع کیا جائے

*ایسے مقامات کی نشاندہی جہاں پر پودے جانوروں سے یقینی طور پر محفوظ ہوں یا غیر محفوظ مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی

*کم سے کم چھ ماہ تک نئے پودوں کی آبپاشی کو یقینی بنانا.

*مقامی لوگوں کو شجر کاری مہم میں شامل ہونے کے لیےآمادہ کرنا، ان کی مدد کے بغیر ننھے پودوں کی پروداخت ناممکن ہوگی۔

دیکھئے یہ تجاویز لے کر پھر گاؤں جاؤں گی اور انشاء اللہ اس پیاری نہر کی ہریالی واپس لانے کی بھر پور کوشش کروں گی ۔

انشاءاللہ

Views All Time
Views All Time
285
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: