ایک فون کال کی دوری

Print Friendly, PDF & Email

خوشی اور غم زندگی کے ساتھ ساتھ ہیں۔ عقیقہ سے لے کر ولیمے تک اور سوئم سے لیکر چالیسویں تک دنیاداری نبھانے دنیا والے آتے ہی ہیں۔ ان کو بٹھانے کو جگہ بھی چاہیے ہوتی ہے۔ تمبو قناتوں والے ہمیشہ ہی مصروف رہتے ہیں۔ جس بے طرح آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اسی طرح یہ کاروبار بھی دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا جارہا ہے۔

شوخ رنگوں اور خاص پنج پتی پھولوں کے نمونے کے قناتیں تمبو بانس گاڑ کر لوہے کی موٹی موٹی میخوں سے رسیاں باندھ کر چاردیواری سی بنا کر اوپر اسی نمونے کے شامیانے تان دیے جاتے تھے۔ روشنی کے لیے ہنڈے نما بلب جھول رہے ہوتے۔ نیلی لال دریاں اور انتہائی بے چین کرسیاں۔ شامیانے ہاتھ سے سیے جاتے تھے۔ بہت لوگوں کا روزگار وابستہ رہا اس کاروبار سے۔

ترقی کرتے کرتے شامیانے تمبو کا نام پہلے ٹینٹ ہوا اور اب Marque ہو گیا اور ٹینٹوں والے کیٹررز اور ایونٹ مینجرز۔ مایوں ہے تو دروازے سے لیکر غسل خانوں تک پیلا رنگ، کم بخت صابن تولیہ تک پیلا، مارکی بھی پیلی۔ کسی اور رنگ کے کپڑے پہننے والے کو سب”اچھوتانہ” نظروں سے دیکھتے ہیں۔ مہندی پر ہرے جامنی لال نیلے گلابی رنگوں کی بہار اور پھر مارکی بھی رنگ برنگی۔ روشنیاں پھول سب ایونٹ مینجرز کی ہدایات کے مطابق۔ بھلے چنگے شرفا مشعلیں پکڑے، پیڑھیاں اٹھائے، بیل یا گھوڑ ے ہنکاتے چلے آرہے ہیں۔ ترقی یافتہ قومیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ کہیں جو یہ سب نہ کیا تو دنیا والے قدامت پرست نہ ٹھہرا دیں۔ نہ بھیا یہ گالی نہ سہہ سکیں گے۔ بارات ولیمے کے اور ہی ڈھنگ، سٹوڈیوز بند ہوگئے لیکن گھر گھر عکس بندیاں ہورہی ہیں۔ ناچیز جیسے بھی لال منہ دیکھ کر اپنے منہ مار تمانچوں کے گلاب سے سُجائے پھرتے ہیں۔

آج دفتر سے جھک مار کر آتے سڑک کنارے "اچانک بریانی” نظر آ گئی۔ لذت کام و دہن سے نبرد آزما ہوتے قریب ہی اوندھے سیدھے پڑے کنٹینروں کے ڈھیر نظر پڑ گئے۔ اس منظر کے ساتھ دل میں بے ساختہ اذیت کی لہر اٹھی۔ دو دن قبل ہی جس مصیبت سے ہم دوچار ہوئے ان ظالم کنٹینروں کے ہاتھوں وہ یاد آگئی۔ کیا سنائیں بپتا اپنی، اس دن مجبورا کہیں جانا پڑا۔ واپسی میں ہر طرف سے راستے بند، موبائل سروس بند، کئی گھنٹے خوار ہوکر نجانے کن کھیتوں کھلیانوں سے ہو کر گھر پہنچے۔ گھر والے روپیٹ چکے تھے۔ تالا بند الماریاں توڑنے کی تیاری تھی تاکہ موقع پر موجود عزیز اثاثہ جات باقیوں کو اطلاع ہونے تک اپنے گھروں کو سمگل کردیں اور پھر جن کے ہاتھ کچھ نہ آئے وہ فاتحہ کے لیے ہاتھ بلند کریں اور ناچیز کو کوسنے دے کر آمین کہہ دیں۔ ناچیز کو قائم دائم دیکھ کر سب اجتماعی دکھ میں ڈوب گئے۔ چلو جو اللہ کو منظور، ناچیز ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   کینیڈا میں بھارتی جھنڈے سے تیار ڈور میٹ بکنے لگے، بھارت کا شدید احتجاج

اچھا یہ سب جمہوریت کہیں اسے یا سیاست کہیں، اب تو روز کا معمول ہوتا جارہا ہے۔ جلسے جلوس، دھرنے، احتجاج، ریلیاں، استقبالیے اور نجانے کیا کیا۔ پھر ان کو روکنے کے لیے ریاستی اداروں کی طرف سے قوت کا مظاہرہ۔ سکول بند دفاتر بند کاروبار بند۔ مزید بر آں کسی شر پسند کو شرارت سوجھتی ہے تو دوچار جنت کے امیدواران کو سجا بنا کر روانہ کردیتے ہیں جو خود تو پھٹ کر نجانے دوزخ کے کس درجے میں جاتے ہیں اپنے پیچھے دکھ کے انبوہ لگاجاتے ہیں۔ عوامی احتجاج روکنے کے لیے سب سے آسان طریقہ راستے بند کردینا ہے۔ کنٹینرز کے ڈھیر اور ٹرک کھڑے کرکے سڑکیں روک دو۔ مائی کے لال سر پھوڑ پھاڑ واپس چلے جائیں گے لیکن ان کنٹینروں کے مالک بیچاروں کا کیا قصور؟ غالبا لاکھوں روپے مالیت کے کنٹینرز اور ٹرک کئی دفعہ تو عوام کے غیض وغضب کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں۔

لیجے "اچانک بریانی” کی طرح "اچانک کاروبار” کا آئیڈیا آیا۔ ایونٹ مینجرز کی طرح احتجاج مینجرز کیوں نہ بنا دیےجائیں ۔ ۔ درودیوار پر اشتہار لکھے ہوں
"ایک کال کی دوری پر ہر طرح کا راستہ روکنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ دستیاب ہے”
"بازار سے بارعایت”
"پہلے آئیے پہلے پائیے”
وغیرہ وغیرہ
ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا پر بھی پیغام چلے آرہے ہوں۔ مخالفین کے جلسے ناکام کرانے کے لیے اور دھرنے احتجاج وغیرہ سبوتاژ کرنے کے لئے پولیس کو تکلیف دینا پڑتی ہے جو پہلے ہی گارڈز کے فرائض پورے کرتے ادھ موئے ہوئے جاتے ہیں۔ کیسا شاندار اور سستا رہے گا؟ ایک خالی چاردیواری کسی بھی قبضہ گروپ کی مدد سے با آسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔ کباڑیوں سے پرانا لوہا جمع کر لیں بلکہ گڈانی سے منگوا لیں، متروکہ بحری جہازوں میں استعمال شدہ فولادی چادریں خوب رہیں گی۔ نٹ بولٹ سے کس کر ڈبے ڈبے سے بناکر راستوں پر کھڑے کر دئے جائیں۔ بپھری ہوئی عوام اس زنگ آلود لوہے سے جتنا مرضی سر پھوڑ لے مزید کیا بگڑنا۔ چٹی پڑنے کے چانسز تو دور دور نظر نہیں آتے بلکہ ہٹی اور پھر کھٹی ہی کٹھی ہوگی۔ ایک کامیاب اور نئے کاروبار کی ابتداء ہوگی۔ کنٹینرز والے نقصان سے بچ جائیں گے، پولیس بھی سکون سے اپنی اپنی جگہ تعنیات رہے گی۔ بہت سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور ملک معاشی ترقی کی راہ پر اور شدت سے گامزن ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:   بجلی کا بحران اور جھوٹے حکمران-ڈاکٹر میاں احسان باری

اس تحریر کے بعد ناچیز پر امید ہے کہ آئندہ حکومت میں پالیسی سازی کرتے وقت ناچیز سے مشورہ ضرور لیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے مشیر با تدبیر میں شامل کر لیا جائے۔ خواب دیکھنے میں کیا ہرج ہے۔

Views All Time
Views All Time
151
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: