Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

چلیں !!!! پکنک کرنے

Print Friendly, PDF & Email

یاد ہے ایک کسان تھا جسے اپنے کھیتوں میں تیار فصل کاٹنا تھی۔ اس نے مدد کے لئے رشتہ دار، دوست، احباب سب کو پیغام بھیجے پر کوئی نہ آیا۔ آخر جب اس نے اعلان کیا کہ وہ خود ہی اپنی فصل کاٹے گا تو کھیت میں رہنے والے پرندے نے اپنے بچوں سے کہا، اب یہاں سے کوچ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اب یہ کھیت کٹ کر ہی رہے گا۔

سننے اور پڑھنے میں آ رہا ہے زیر زمین پانی ختم ہو رہا ہے، دریا سوکھ رہے ہیں، ڈیم خالی ہورہے ہیں۔ چند سال، صرف پانچ یا سات سال کی چیتاونی ہے اور میٹھا پانی ختم ہوجائے گا۔ گلوبل وارمنگ کا دیو بڑھتا چلا آرہا ہے۔ ہر طرف یہی چرچا ہے لیکن ہم سب کبوتر بنے بیٹھے ہیں اور بلی کسی کو نہیں دِکھ رہی۔

پھر لے دے کر ایک ہی دھمکی ہے ہمارے پاس کہ ووٹ نہیں دیں گے پہلے ڈیم کا وعدہ کرو۔ چلئے یہ وعدے وعید بھی ہو جائیں گے اور کوئی محکمہ بنا دیا جائے گا، سروے ہونگے، بحث و مباحثے ہوں گے۔ بہت بھاگ دوڑ ہو گی۔ خوب کاغذی کاروائیاں بھی ہوں گی اور پھر ٹائیں ٹائیں فش۔ پھر ہم بھول جائیں گے بلکہ بے فکر ہوجائیں گے۔ لو جی ہمارا فرض پورا ہوا لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا یقین کیجئے، نیرو کی صرف شکل بدلے گی اور وہ بانسری ہی بجائے گا۔ آگ میں ہم ہی جلیں گے۔ چلئے! ہم خود اپنے گھر، اپنے روم کی آگ بجھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   رات کے سائے اور دن کے اجالے | زہرا تنویر

ایک وقت تھا، بہشتی مشکوں میں پانی لا کر گھروں میں مٹکے بھر جاتے تھے۔ اب تو رننگ واٹر نے زندگی کتنی آسان کردی۔ اصرافِ بیجا سے بچئے۔ میٹھا پانی ہی زندگی کی ضمانت ہے۔ اپنے محتسب بن جائیے اور پانی کے استعمال میں کفایت اپنا شعار بنا لیجئے۔  ایک پرانی ٹوکری، بالٹی یا کوئی بھی گتے کا خالی ڈبہ مخصوص کر لیجئے۔ پھلوں کے بیج، سبزیوں پھلوں کے چھلکے وغیرہ اس میں ہی ڈالتے جائیے۔ ہاں یاد رہے اس کو رکھئے گا گھر کے کسی دور کونے میں ورنہ بو پھیلے گی اور اس سے گھبرا کے آپ یہ خزانہ، سپرد کچرا کر دیں گے۔

اب چلئے پکنک پر۔ یہ بیج اور قدرتی کھاد سے بھرا ڈبہ، کھرپی اور پانی کی بوتلیں اٹھائیے۔ صبح کی سیر بھی ہو جائے گی۔ سورج مشرق سے ابھرتا دیکھئے۔ جو بھی خالی زمین کسی نہر کنارے یا سڑک کنارے ملے، وہیں یہ بیج بودیجئے۔ مون سون راستے میں ہے، یہ بیج اور ہماری زرخیز زمین، مل کر دیکھئے گا کیسا گلزار کھلاتے ہیں۔ صرف کچھ وقت دیجئے، جنت میں گھر بھی بن جائےگا، درخت بھی لگتے جائیں گے آپ کے نام کے اور پھر جب فرصت ملے اپنے لگائے بوٹوں سے ملاقات کر آئیے۔

یہ بھی پڑھئے:   آئیے جشنِ آزادی پر کچھ ایسا کریں کے سارا سال رنگ سجا رہے

جہاں سبزہ ہوگا، پودے درخت ہونگے، وہیں بادل بھی برسیں گے۔ گلوبل وارمنگ اپنی موت آپ مرے گی۔ آئیےچلئے! ہم اپنی فصل خود کاٹتے ہیں، خیبر سے گوادر تک وطن بچانے۔ یہ امید کے پھول پودے ہیں، انشاء اللہ ضرور کھلیں گے۔ اس پکنک کی تصویریں ضرور شئیر کیجئے گا۔

Views All Time
Views All Time
250
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: