Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کاش کوئی آٹھویں پری نہ بنے | شازیہ مفتی

by June 5, 2017 بلاگ
کاش کوئی آٹھویں پری نہ بنے | شازیہ مفتی

بہت پہلے ایک کہانی پڑھی تھی ” سویا ہوا محل ” شاید تیسری یا چوتھی کلاس کی اردو لازمی کی کتاب میں تھی ۔ اس پر تصویر تھی ایک بادشاہ ننھی شہزادی اور حسین وجمیل ملکہ کی ۔ ننھی شہزادی کی سالگرہ کے موقع پر سات پریاں تو نہایت عزت واحترام سے بلائی جاتی ہیں اور آٹھویں بہت بوڑھی پری کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔پھر کسی لگے لترے سے خبر ملنے پر وہ غیض وغضب کا شکار ہوکر آندھی طوفان کی طرح نازل ہوتی ہےخوب بھلا برا کہتی ہے میسنا بادشاہ جھو ٹے بہانے بنانے کی ناکام کوشش کرتا ہے ۔جیسے آج کل لوگ باگ بچوں کے رزلٹ ،رشتے ، نئے پلاٹ اور گھر گاڑی وغیرہ وغیرہ چھپانے کی بھونڈی کوشش کرتے ہیں لیکن صاحبو چڑھے ہوئے چاند کو دیکھنے سے دنیا کو کیوں کر روکوگے ۔ خیر بوڑھی آٹھویں پری شہزادی کو تکلے کی نوک چبھنے اور محل کے کتے بلیوں نوکر چاکروں سب کے ہمیشہ کے لئےسو جانے کی بددعا دے کر چلی جاتی ہے ۔ پھر جو کچھ پیش آتا ہے وہ تو ہمیں کارٹونوں اور فلموں سے ازبرہوگیا ہے ۔مقصد یہ کہ آٹھویں پری کو برا اور ظالم ثابت کردیا گیا ۔اب یہاں مجھے کچھ اختلاف ہوتا تھا اور وہ چڑیل نما جادوگرنی پری مظلوم لگتی ۔ اس ساری کہانی کو پڑھتے ہوئے سب سے زیادہ غصہ مجھے بادشاہ کی نامعقولیت پر آتا تھا ۔ ارے ایسا بھی کیا بھلکڑ پن میاں تم بادشاہ ہو کوئی گھسیارے تو نہیں! اتنی بڑی سلطنت سنبھالتے ہو کیا کوئی فہرست نہیں بنا رکھی اپنے تعلق داروں کی ۔ میں نے ہمیشہ اپنے والد صاحب ،چچا پھپا ،ماموں ،خالو سب کے گھروں میں یہی دیکھا ہے کہ ایک کاپی میں سارے ددوست احباب ،رشتے داروں ،ہمسایوں کی فہرست ہوتی تھی یہاں تک کے تحفے تحائف اور نقد لین دین کی تفصیل بھی درج ہوتی تھی ۔ہاں یہ بھی یاد ہے کہ جس تعلق میں دراڑ آچکی ہوتی اس کا دعوت نامہ گم جانےکے سو بہانے ۔ مجھے پورا شک بلکہ یقین باشاہ کی بد نیتی پر تھا جس نے بوڑھی پری کو بھلادیا بھئ وہ بیجاری کسی کام کی جو نہ رہی تھی ،پھر جب وہ خود ہی آگئ تو ہاتھ پاؤں جوڑ کر منا لیتا بڑھیا کو اور ہاں ملکہ صرف اچھے اچھے کپڑے پہن کر عیش کرنے کو تھیں کیا! انہوں نے ہی کیوں نہ منا لیا ۔ بھگتو اپنے کئے کو ۔ میں ہمیشہ سوچتی رہی کہ سو سالہ نیند کی مصیبت کو تو خود دعوت دی نا ۔ سب یاد کئے ہوےء اقوال زریں میں خود اپنا قول شامل کرلیا ” آٹھویں پری ہم خود بناتے ہیں اس لئے کوشش کیجئے کہ زندگی میں کسی کی اس طرح ہتک نہ کریں کہ وہ بددعا دے جائے ” ہمیشہ اس پر حتی المقدور عمل بھی کیا ۔ پچھلے دنوں ایک ہالی وڈ فلم بہت مشہور ہوئی ” Maleficent” وہی پرانی sleeping beauty کو ایک نئے انداز سے لکھا گیا ہے ۔اس فلم میں ایک عیار اور عیاش شہزادہ دکھایا گیا ہے جو کسی گھنے جنگل میں اللہ کی بنائی ایک مخلوق بیچاری کالے بدصورت پروں والی ایک پری سے خوب فلرٹ کرتا ہے اور پھر کم بخت بے وفائی کرکے بیچاری کے پر بھی لے جاتا ہے ۔ اسی کارنامے کی وجہ سے بادشاہ بن جاتا ہے اور پھر وہی کہانی دہرائی جاتی ہے کچھ فرق کے ساتھ ۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد مجھے اپنے بہت بچپن میں بنائی جانے والی تھیوری پر یقین اور پختہ ہوگیا اوراپنے قول زریں میں سر مو شک نہ رہا ۔ یہ تو خیر فلم کی اور کہانیوں کی بات ہے لیکن کیا ایسا نہیں ہم سب بھی کم وبیش یہی کررہے ہیں خود اپنے بدصورت اور غیر متوازن رویوں سےراستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرتے جاتے ہیں وہ سب تو ایک آٹھویں پری کا انتقام تھا ہم تو لاتعداد آٹھویں پریاں بناتے جارہے ہیں ۔ آج کسی کو کم زور اور حالات کا مارا دیکھ کر اپنی نام نہاد انا کی تسکین کے لئے ہر حد تک زبان سے عمل سے اس کی ہتک کرجاتے ہیں ۔ اپنے چارو ں طرف دیواریں چنتے جارہے ہیں ۔گرہیں لگاتے جارہے ہیں ۔ مجھے ایک بزرگ خاتون کی بات یاد آئی جو کہتی تھیں ” جتنا رب نوازتا جائےاتنا جھکتے جاؤ، بد دعاؤں سے بچتے جاؤ ۔اگر کسی کو سچ مچ تنگ کیا تو اس کی بددعا رب کے پاس چلی جائےگی پھر بچنا مشکل ہوجائے گا ” کاش! ہم سمجھ جائیں اور کوئی آٹھویں پری نہ بنے جس کی بددعا سالوں پیچھا کرے، کاش !

مرتبہ پڑھا گیا
554مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

One commentcomments2

  1. Sabeen

    Very nice and thought provoking message

  2. جاوید اقبال

    اصلاحی اور مثبت اندازِ فکر

Leave a Reply

%d bloggers like this: