Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قمیضاں چھینٹ دیاں

by مئی 13, 2018 بلاگ
قمیضاں چھینٹ دیاں
Print Friendly, PDF & Email

سوتے، جاگتے سپنے بننا اس کا معمول تھا۔ کئی دفعہ ترپائی کرتے، بٹن ٹانکتے اور پھول بوٹے بناتے سوئی انگلی میں چبھ جاتی، کسی خواب کا منظر ادھورا رہ جاتا، انگلی پر خون کا سرخ قطرہ وہیں موتی کی طرح جم جاتا، کرنیں پھوٹتیں قوس قزح کی پینگ سی بن جاتی، وہ پھرخیالوں میں جھونٹے لیتی نئے خواب بننے لگتی۔ دھاگہ کی گرہیں لگاتی جاتی اور خوابوں کی لڑی سے لڑی جڑی بڑھتی جاتی۔ بہت معصوم خواب تھے۔ ان خوابوں میں سفید ریشم کا جوڑا بھی تھا۔ کسے پہنے دیکھا تھا یہ تو یاد نہیں تھا مگر اس کے ساتھ جڑا نرم، خوشبودار، پراسرار اور ریشمی لمس نہیں بھولا تھا۔

گلک میں سب ضروریات پوری ہونے کے بعد بچ رہنے والے پیسے ڈالتی، اسے کان کے پاس لا کر زور سے ہلاتی اور محسوس کرتی کہاں تک بھرگیا۔ پھر اسے ماں کو دے دیتی اور پھر نیا گلک اور نئے خوابوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ وقت گزرتا رہا بیٹی سے بیوی، پھر ماں بن گئی۔ گلک بھرتے، ٹوٹتے ضروریات پر خرچ ہوتے رہے اور خواب بھی پلتے رہے وقت گزرتا گیا۔ اس کے کھردرے ہاتھوں پر محنت کے پھول کب کے مرجھا چکے تھے اور گھٹی میں پڑا صبر پتھر کی بدنما سل بنتا جارہا تھا۔ خواب کچھ دھندلے اور بد رنگ سے ہونے لگے تھے۔ سفید ریشم کا لمس ہتھیلیوں سے مٹنے لگا تھا۔

پھر اچانک ایک سفید جوڑا جس پر باریک سنہری ریشم سے گلاب کڑھے تھے سلنے آگیا۔ نودولتی بیگم صاحبہ نجانے کیسے اس کی آنکھوں سے جھانکتے خواب کو پا گئی۔ حقارت سے بولی نظر نہ لگاؤ ویسے تم تو ایک سال میں بھی نہیں خرید سکتیں۔ کپڑا تو نہیں رکھ لیا اس میں سے۔ اس دن سے کام کے گھنٹے مزید بڑھ گئے۔ لفافہ جس میں جوڑا سلنے آیا تھا سنبھال کر صندوق میں رکھ لیا۔ اس پر دکان کا نام اور پتہ درج تھا۔ سورج اور چاند اپنے اپنے چکر خاموشی اور سکون سے پورے کرتے رہے اور اسی طرح اس کی سلائی مشین کا پہیہ بھی کمال سکون سے چکر پر چکر پورے کرتا رہا۔

آج گلک میں پیسے ڈالتے ہوئے لگا جیسے گنجائش نہ رہی ہو۔ وہ منہا منہ بھر چکا تھا۔ خوشی، اضطراب اور بے یقینی رگ رگ میں بھر گئیں۔ پیتل کی پرات میں گلک رکھ کر توڑا۔ نوٹ اور سکے الگ الگ کیے۔ پھر چھوٹی بڑی مالیت کے نوٹ الگ الگ ڈھیری میں اور سکے الگ الگ ڈھیری میں رکھتی گئی۔ اسے لگا یہ اتنے زیادہ پیسے ہیں سفید ریشم کے جوڑے کے بعد گڑیا کی فراک بھی آجائے گی۔ ننھی گڑیا نہ جانے کہاں دیکھ آئی تھی جیسے وہ سفید ریشم کا جوڑا دیکھ آئی تھی۔ گڑیا روز ماں کو بتاتی گلابی فراک کی ایک ایک تفصیل، وہ بھی بتاتی تھی ماں کو اور ماں چپ چاپ سنتی رہتی تھی پھر چپکے سے چلی گئی اور خوابوں کا حصہ بن گئی۔ پیسے بٹوے میں رکھے، دکان کے نام پتے والا لفافہ لیا گڑیا کا ہاتھ پکڑا اور کچھ ہی دیر میں منزل سامنے تھی۔ بڑی سی شیشے کی کھڑکی میں اس کا سالوں پرانا خواب منتظر تھا۔ ڈمی پر ساڑھی کی طرح سفید ریشم کا جوڑا سجا تھا اور ساتھ ہی گڑیا کا خواب بھی۔ گلابی ریشمی فراک پری کی جادوئی چھڑی اور گلابی ریشم کے پر۔

گھر آکر لفافہ کھولا احتیاط سے گلابی فراک نکال کر گڑیا کو پہنایا، پر لگائے اور جادوئی چھڑی ہاتھ میں تھما دی۔ بالکل گڑیا ہی دکھنے لگی، آنکھیں خواب پورا ہو جانے پر ہیروں کی مانندچمک رہی تھیں۔ دوسرے لفافے میں سےنیا گلک نکالا، بچی کھچی ریز گاری اس میں ڈالی اور کھٹولی کے نیچے کونے میں رکھ دیا۔ اسی کھٹولی پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔ خواب پوری آب وتاب سے آنکھوں میں اتر آئے۔ ایسے میں جانے کیوں ایک پرانے لوک گیت کی بازگشت اس کے ٹھنڈے ٹھار دل پر دستک دینے لگی۔

قمیضاں چھینٹ دیاں ملتانوں آیاں نے
ماؤں اپنیاں جنہاں ریجاں لائیاں نے

Views All Time
Views All Time
146
Views Today
Views Today
4
یہ بھی پڑھئے:   آگہی کا سفر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: