Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سرپرائز کی ایسی کی تیسی

by مئی 12, 2018 بلاگ
سرپرائز کی ایسی کی تیسی
Print Friendly, PDF & Email

 ( نہایت معذرت کے ساتھ )
میرے چاہنے والوں مجھے مار ڈالو
مگر نہ دو مجھ کو کوئی سرپرائز

آج کل انتخابات کا موسم ہے۔ ووٹ ایک امانت ہے اس میں خیانت نہیں ہونی چاہئے۔ ناچیز کو ایک اطمینان قلبی ہے کہ الحمدللہ کبھی خیانت کا گناہ نہیں سرزد ہوا باقی تو اللہ تعالیٰ رحیم وکریم ہے۔ بیشک انسان خسارہ میں ہے۔ تو جناب ووٹ اس دفعہ ایک پلیٹ بریانی کے بعد اسی کو دونگی جو ایک عہد کرے گا!!!!! حلفیہ!!!!!

وعدہ یہ لوں گی کہ قانون سازی کی جائے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرپرائز دینے کی پلاننگ کرنے اور سرپرائز دینے پر!!! تمام شریک ملزمان کو فوجداری قانون کے تحت کم ازکم پانچ سال قید بامشقت دی جائے گی۔ جس مظلوم پر یہ ستم توڑا گیا ہو گا اسے خطیر رقم جرمانہ میں ملزمان سے لے کر دی جائے گی۔ اب جو یہ وعدہ کرے گا ووٹ اسی کا۔ فرہنگ آصفیہ کھنگال ڈالی اس نابکار سرپرائز کا اردو متبادل مل جائے مگر نہ ملا۔ اب انگریزی میں ہی سن لیے آپ بیتی۔

صج ملے سرپرائز سے بہت سال پہلے گرمیوں کی سہانی صبحوں کی یاد تازہ ہوگئی۔ سفید چادریں، بان کی پلنگڑیاں اور مچھر دانیاں لگے بستر۔ سب سے بڑھ کر گرمیوں کی چھٹیاں لیکن اس کم بخت سرپرائز نے ایسا تنگ کیا تھا کہ ابھی مرغان سحر بانگ سے فارغ ہوتے اور ملا حضرات اذان کے لیے مساجد کا رخ کر ہی رہے ہوتے کہ سرہانے موٹر سائیکل کا ہارن بجنے لگتا اور سرپرائز سرپرائز کی مکروہ آواز کان پھاڑ ڈالتی۔ بزرگ حضرات تہجد کے وقت ہی گھر کا بڑا دروازہ کھول دیتے تاکہ پہرہ دینے والے وفاداروں اور سرپرائز دینے والوں کو آنے میں مشکل نہ ہو۔

پھر ایک اور ہولناک، ہیبت ناک، دہشت ناک قسم کا سرپرائز یاد آیا جب شادی شدہ زندگی میں پہلی اور آخری دفعہ مائکے اکیلی رہ گئی چند دن (اس کے بعد سے تو عہد پر کار بند ہوں ڈولی آئی تھی اب جنازہ ہی جائے گا)۔ میاں صاحب نے کمال محبت کا ثبوت دیتے ہوئے سارے گھر کی کلر سکیم بدل ڈالی۔ گھر میں داخل ہوتے ہی سرپرائز سرپرائز کی آواز سے دہل کر جو دیکھا تو چہار جانب چوہا رنگ، ہر ملک کے چوہے کا رنگ، چھچھوندر رنگ، ہر ملک کی چھچھوندر کا رنگ۔ افففففف پتہ نہیں کیسے چند ماہ گزارے اور اپنی جیب خاص سے گھر کو بل کی شکل سے اصل پر واپس لائی۔

چار چھٹیاں بمشکل ملیں گاؤں کی سہانی صبحیں اور بچپن کی یادیں تازہ کرنے کے لیے۔ گاڑی میں سامان رکھا فریج خالی کیے۔ ماسی، خانساماں کو چھٹی کا مژدہ جانفزا سنایا۔ اب پھر ایک لطیفہ نما عبرت آموز واقعہ یاد آگیا۔ بہت تنگ ہوں اس یاد داشت کے ہاتھوں، الہی چھین لے مجھ سے حافظہ میرا (اللہ میاں ایسے ہی کہہ رہی ہوں سچی مچی نہیں)۔ ہاں تو ایک کسان تھا اس کا گھوڑا بیمار ہوگیا حکیم صاحب کے پاس گیا انہوں نے دوا کے لوازمات منگوائے کوٹے، چھانے پیسے گوندھے اور لڈو سے تیار کردیے۔ کسان نے پوچھا کہ گھوڑے کو یہ دوا کھلائی کیسے جائے گی۔ حکیم صاحب نے ایک بانس کا ٹکڑا دیا کوئی آدھ گز لمبا اور کھوکھلا۔ ایک طرف لڈو نما دوا رکھ کر گھوڑے کے منہ میں بانس ٹھونسا جائے گا اور دوسری طرف سے زور سے پھونک ماری جائے گی۔ اب کسان کوئی مجھ ناچیز جیسا رہا ہوگا جو پوچھ بیٹھا اگر گھوڑے نے پہلے پھونک مار دی تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حکیم جی پر یہ بیت چکی تھی داڑھی میں تنکا ہو گیا اور دھمکا کر کسان کو مطب سے نکال دیا۔

یہ تو یونہی یاد آگئی کہانی کیونکہ جب ہم خوشی خوشی سوار ہونے کو تھے تو جناب گھوڑے نے پہلے پھونک مار دی اور وہی ظالم سرپرائز سامنے تھا۔ خانساماں اور ماسی ایسی خون خوار نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں کہ برتن مانجھنے سے لے کر کھانا پکانے اور کپڑے دھونے سے لیکر پونچھا مارنے تک سب کچھ بہ رضا و رغبت خود سرانجام دے رہی ہوں، چائے کے پیالے پیش کر رہی ہوں۔ انہیں بس اللہ کرے اتنے پر بخش دیں اور چھٹی کر کے نہ بیٹھ جائیں۔

ایک درخواست چلتے چلتے احباب سے کہ یہ تحریر خفیہ دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے اسے پڑھیے ضرور تاکہ دیدہ عبرت نگاہ ہو لیکن ناچیز کے نام کے ساتھ کہیں شائع مت کردیجئے گا!!!!! خدارا!!!! ورنہ احباب آپ ہماری غیر طبعی حالات میں ہوئی جواں مرگی کے سرپرائز کے لیے تیار رہیے۔

والسلام شازیہ مفتی۔

Views All Time
Views All Time
206
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   نواز شریف اور چوہدری نثار میں ’’ لڑائی‘‘ کب سے شروع ہے؟| انور عباس انور
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: