Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چھوٹی سی ساہوکارنی

چھوٹی سی ساہوکارنی
Print Friendly, PDF & Email

دوسروں کی جیب سے پیسہ نکلوانا ایک ہنر ہے جس کا نام ہے "کاروبار”۔ اسے ساہو کاری اور آج کی اصطلاح میں bussiness بھی کہتے ہیں۔ ناچیز کو اس فن میں کمال حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ چھٹپن میں دو کے دس کر کےکمایا بھی بہت۔ اس وقت دولت کی ہوس کا وہ عالم تھا کہ اس ناچیز کو اپنی حلال کمائی سود پر دینے میں بھی عذر نہ تھا لیکن کیا کیا جائے پل پل رنگ بدلتے مزاج کا، کم بخت جی نہ لگا ساہوکاری میں۔ ہڈ حرامی ایسی منہ کو لگی اب تو چھٹتی ہی نہیں کافر کی بچی۔

سبزی کے ٹھیلے پر ہری ہری کچی امبیاں دیکھ کر اپنا ایک ترک کردہ کاروبار یاد آ گیا۔ گھر کے پچھواڑے باغ میں امرود، انار، آم، فالسہ، بیری، چکوترے، شہتوت اور بہت سے پھلدار درخت تھے۔ اپریل کا مہینہ تھا، گندم کی کٹائی اور شدید آندھیوں کا ہمیشہ کا ساتھ۔ اکثر رات کو آندھی آتی صبح ہر طرف نشانیاں بکھری ہوتیں۔ کئی دفعہ تو اچھی خاصی تباہی کرکے جاتی۔ ایک مزے کا کام بھی کر جاتی، آم کے درختوں کے نیچے کچی امبیوں کے ڈھیر لگ جاتے جنہیں توڑنے کی سختی سے ممانعت تھی۔

ناچیز کا پہلا کامیاب کاروبار انہیں آندھی سے ہاتھ لگی امبیوں کا تھا۔ اسکول میں چھوٹی امبی چار آنے اور بڑی آٹھ آنے کی خریدنے کے لئے بچیوں کو باقاعدہ قطار بنانا پڑتی۔ ہاں لال مرچ اور نمک مفت میں مل جاتا انکو، جو باورچی خانے سے میجی بے بی ملک کے خالی ڈبے میں بھر کے لے جاتی۔

یہ بھی پڑھئے:   پروفیسر صاحب، کاش آپ کسی فلم کا کردار ہوتے

ایک دن ایسی شدید آندھی آئی کئی تناور درخت جڑ سے اکھاڑ ڈالے، بجلی کے کھمبے تاروں سمیت نجانے کہاں کے کہاں گئے۔ گھاس پھوس کے چھپر اور کمزور چھتیں اڑ گئیں۔ ہاں یہ یاد یے چھوٹے پودے درخت بچ گئے تھے جھک جانے کی وجہ سے۔ اس ہولناک طوفان کے بعد صبح اسکول کی وردی جوتے پہن کر امبیاں اکٹھی کرنے نکلی۔ ناشتے میں کچھ وقت تھا۔ شاپروں کا رواج نہیں ہوا تھا جب تک سودے کا تھیلا پکڑا۔ باغ تقریبا تین فٹ گہرائی میں تھا۔ چھلانگ لگائی، نجانے پاؤں کیسا مڑا کہ پھر کھڑا ہی نہ ہوا جا سکا۔ سامنے دائیں بائیں موٹی موٹی امبیاں اور یہاں ناچیز وردی میں ملبوس سودے کا تھیلا کلیجہ سے لگائے خاک بسر۔

کئی چھٹیاں ہوئیں اور پڑھائی سے زیادہ کاروبار کا ہرج ہوا۔ پاؤں میں موچ اور بازو میں hair line fracture۔
آج سودے کے تھیلے میں بھری امبیاں، میجی بے بی ملک کے ڈبے میں لال مرچ نمک، چار آٹھ آنوں سے بھرا ٹفن وہ چھوٹی سی ساہوکارنی اور بھولی بھالی خریدار بچیاں بہت یاد آئیں۔

Views All Time
Views All Time
201
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: