گربہ کشتن روز اول (جدید)

Print Friendly, PDF & Email

ایک صاحب کی بیگم نہایت خدمت گزار اور مہمان نواز تھیں۔ ان ہی کے ہم زلف جو جلاد صفت بیوی بھگت رہے تھے ان سے پوچھ بیٹھے کہ یہ کھلا تضاد کیوں؟ صاحب نے جواب دیا "بھائی میاں شادی کی رات صحن میں دو بلیاں لڑ رہی تھیں۔ ہم جلال میں آ گئے۔ دیوار پر لٹکی خاندانی تلوار اتاری اور بلیوں کی گردنیں اڑا دیں۔ بس جی بی بی خوفزدہ ہوگئیں اور جب سے راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے”۔

ہم زلف صاحب یہ قصہ سن کر گھر آئے بدمزاج بیوی کے پکائے بدمزہ کھانے زہر مار کیے اور انتظار میں بیٹھ گئے۔ صحن میں بیوی کی پالی لاڈلی بلی نے راگ الاپنے شروع کیے گھر میں تلوار دستیاب نہ تھی کہیں سے ہاکی مل گئی۔ ہاکی لے کر پل پڑے بلی پر۔ بلی کی چیخوں سے بیوی اٹھ بیٹھیں ہاکی چھین اور اسی سے میاں کی خوب درگت بنائی۔ شور اور چیخوں پر محلہ جاگ اٹھا گھر میں چور گھس آئے ہیں سمجھ کر جی دار جوانوں نے دروازہ توڑ دیا۔ تب کہیں جا کر میاں کی جان بخشی ہوئی۔ عیادت کو جب ہم زلف تشریف لائے۔ساراواقعہ سن کر بولے "میاں گربہ کشتن روز اول”۔

یہ سائرہ خان کی پسندیدہ کہانی تھی جو وہ فرمائش کر کے دادی اماں سے اکثر سنا کرتیں۔ پھر دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔ سائرہ خان پیا کے دیس سدھار گئیں۔ شادی کو ابھی مہینہ بھر بھی نہ گزرا تھا کہ ناشتے کی میز پر میاں صاحب خالی پرچہ اور پین لے کر آن موجود ہوئے اور آخیر میں پین رکھ کر انتہائی رعب سے فرمایا یہاں دستخط کردو اور شناختی کارڈ بھی لے آؤ۔ دوسری طرف تھیں سائرہ جن کی ساری عمر یہی سنتے گزری کہ خالی کاغذ پر دستخط نہیں کرنے کسی بھی قسم کے فارم کو اچھی طرح پڑھے سمجھے اور اس کی ذیلی شرائط سے متفق ہوئے بغیر منظوری کی مہر ثبت نہیں کرنی۔ وہ بھلا کیوں کر سادہ کاغذ پر دستخط کر دیتیں۔ سوال کیا ” کس لیے چاہیں خالی کاغذ پر دستخط”؟

یہ بھی پڑھئے:   حنا شاہنواز /صادقین ، سنناہٹ اور تیزایبت ـ عامر حسینی

لیجئے میاں صاحب کی تیوری چڑھ گئی اس جرات پر۔ گویا ہوئے "بھائی جان نے تو کر دی بغیر پوچھے”۔ کاش میکے والے سوئی دھاگہ بھی دے دیا کریں لب سینے کو جہیز میں جہاں گھر بھر ڈالتے ہیں بیٹیوں کے۔ لیکن اچھا ہی ہے کچھ تو اپنے حق میں بول لیں گی۔ خیر زبان روکتے روکتے بھی چل گئی، "ارے بھائی جان تو فقٹے ہیں، مختار نامہ عام تو نہیں کہیں یہ دوسری شادی کا اجازت نامہ تو نہیں لکھوا رہے مجھ سے”۔

لو جی میاں صاحب کی بلوری آنکھیں بدرنگ ہوئیں۔ محبت، تہذیب اور نفاست کا خول کہیں دور جا گرا۔ چہرے کے نقوش بھیانک سے بھیانک تر ہو گئے۔ بھاری کانسی کا گلدان اٹھا کر اس زور سے نئی نویلی دلہن کی نئی نویلی گلاس ٹاپ ٹیبل پر مارا کہ وہ خود پر سجے ناشتے کے لوازمات سمیت ان گنت ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ دھماکہ، چھناکہ اور سارا کنبہ تماشائی کاغذ قلم جانے کیا ہوئے۔ سائرہ کے دماغ میں ٹن ٹن گھنٹی بج اٹھی اور ہزاروں بار کی سنی ہوئی "گربہ کشتن روز اول” تازہ ہو گئی۔ اب باری تھی خانم کی۔ لیجئے وہی کانسی کا گلدان اور کمرے کے باقی ماندہ شیشے۔ چائے کی ٹرالی، برتنوں کی الماری شہید کرنے کے بعد ہکا بکا کھڑے تماشائیوں اور میاں صاحب کی طرف متوجہ ہوئیں اور سکون سے بولیں "اگر اصولی بات پر یہ جواب ملے گا تو یہاں بھی یہی ردعمل ہوگا۔ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوگا”۔

یہ بھی پڑھئے:   فیض ہم عصروں کی نظر میں - فرح احسان

اب تو شہر بھر کے دکاندار، دفتری اہلکار، نادرہ والے، بینکوں کے چپڑاسی سے اعلی عہدے دار تک سب بیگم و خان صاحب سے خوب واقف ہوگئے ہیں۔ ہر رسید، بل، چیک، فارم کو تسلی سے پڑھ کر کوئی نہ کوئی شق نکال لیتے ہیں۔ خاص طور پر فارم کے آخیر میں ناقابل بصارت جملے مہدب عدسہ کی مدد سے پڑھنے کے بھی ماہر ہو چکے ہیں جن میں نہایت نامعقول شرائط درج ہوتی ہیں اور فارم ریجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ ہمیشہ جمع تفریق میں سو دو سو کا گھپلا نکل آتا ہے۔ آپ کو یہ پیارے لوگ چشمے لگائے فارم کے پزل حل کرتے کہیں نہ کہیں ضرور مل جائیں گے۔ گربہ کشتن روز اول کی جدید تفسیر بنے۔

Views All Time
Views All Time
330
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: