Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گنبد کی آواز

by جنوری 30, 2018 حاشیے
گنبد کی آواز
Print Friendly, PDF & Email

عجب یاسیت طاری ہے۔ کچھ دنوں سے بہت ہی خالی دن اور اس سے بھی زیادہ خالی دل۔ معصوم، پیارے اور بیگناہ چہرے شعوری کوشش کے باوجودبھلائے نہیں جارہے جو بے تحاشہ ظلم اور بے شمار اذیت سہہ کر پیوند خاک ہو گئے۔ سوچا کہیں باہر نکلوں شاید اندر کی گھٹن میں کچھ کمی آئے تو قریبی پارک میں جابیٹھی۔ دھوپ چھاؤں سے موسم اور سجے سنورے درختوں، پودوں اور سبزے نے بہت اچھا اثر ڈالا ذہن و دل پر۔ پرندوں کی چہچہاہٹیں اور بچوں کی قلقاریاں بہت دل جو تھیں۔ وہیں قریب ہی چار پانچ خواتین اور مرد گھاس پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ پاس ہی ان کے چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے کہ اچانک بچے آپس میں کھیلتے کھیلتے لڑ پڑے۔ پانچ سالہ بہن نے مغلوب الغضب ہوکر سات سالہ بھائی سے کہا، "بھیا میں آپ کا ریپ کردوں گی”۔ ایک اور اسی عمر کے توتلے بچے نے پاس سے لقمہ دیا، "آل مال کے تولے میں پھینت دیں دے (اور مار کر کوڑے پر پھینک دیں گے)”۔ سات سالہ بچے نے سینہ پھلا کر کہا، "ارے مار کر دکھاؤ، ویسے بھی تم لوگوں کو پولیس پکڑ لے گی میری لاش سے ڈی این اے مل جائے گا تمہارا”۔

لیجئے اس وقت سے سر پکڑ کر بیٹھی ہوں اچھی میں دھندلی شام کا مزہ لینے پارک گئی چودہ طبق روشن ہوگئے۔ اتنے معصوم بچوں کی زبان سے ایسی گفتگو سن کر۔ کون ان معصوم فرشتوں کو بتائے ان الفاظ کے بے انتہا مکروہ اور تکلیف دہ معنی۔ کہاں سے آگئے ہمارے نونہالوں کی زبانوں پر یہ کریہہ جملے۔ ریڈی گو، ہرا سمندر، بول میری مچھلی، سٹاپو اور کرکٹ کھیلتے بچے کیسے بری نظر اور برے لمس کو پہچانیں۔ بچے کے منہ سے "کتا، الوّ” الفاظ بھی گوارا نہی ہوتے کجا کہ یہ سب۔

معاشرہ، والدین، اساتذہ اور میڈیا ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور پر اگلی نسل کی تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ اس وقت بہت اہم مسئلہ ہے کہ آنے والی نسلوں کے ذہن کس طرح اس پر اگندگی سے بچائے جائیں۔ انہیں درندہ بننے اور درندگی کا شکار بننے سے محفوظ رکھا جائے۔ مسائل بھی زندگی کے ساتھ ساتھ ہیں اور ان پر بحث مباحثہ بھی ہوگا۔ کسی بھی موضوع پر گفتگو کے لیے ستھرے نکھرےالفاظ کا چناؤ بہت ضروری ہے۔ خاص کر بچوں کے سامنے، ورنہ تیار رہیے یہی سب سننے کے لیے۔ جب دن رات یہی اور اس سے بھی زیادہ برے الفاظ سننے کو ملیں گے تو وہ یہی سب دہرائیں گے ۔بچے تو گنبد کی آواز ہیں۔

Views All Time
Views All Time
298
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   مہرے (حاشیے) | فرح رضوی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: