Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہماری رابطے کی زبان کون سی

by جنوری 23, 2018 حاشیے
ہماری رابطے کی زبان کون سی
Print Friendly, PDF & Email

آج ایک دوست کی عیادت کے لیے تقریباً پرائیویٹ ہسپتال جانا ہوا، میڈیکل کالج بھی ہے اس ہسپتال کے ساتھ۔ انکوائری کاؤنٹر پر ایک نوجوان لڑکی نک سک سے درست تشریف فرما تھیں۔ ایک صاحب بھی مونچھوں کو تاؤ دیے بال شال بنائے خوشبو میں بسے براجمان تھے۔ مجھے قطعاً ان کے کسی فعل پر اعتراض نہیں، نہ ہی ان کے ایک ہی کپ سے کافی پینے پر بھئی sharing is caring اچھی بات ہے نا۔ آپس میں کچھ ہنسی مذاق بھی جاری رہے تو کام میں دل بھی لگا رہتا ہوگا۔

وہاں ایک صاحب جو اپنے کسی عزیز کے علاج کے لیے نجانے پنجاب کے کس دور دراز علاقے سے آئے تھے انتہائی پریشانی کے عالم میں انکوائری سے پوچھ رہے تھے،
"ایتھاں ڈماغ دا ڈاکٹر مل وے سی” (دماغ کا ڈاکٹر مل جائے گا)۔
محترمہ نے زلفوں کو بے نیازی سے جھٹکا، کافی کا گھونٹ نزاکت سے حلق سے اتارا اور گویا ہوئیں، "نیرو فزیشن یا نیرو سرجن”؟
اب ان صاحب نے اپنے ساتھ آئے لوگوں سے مشورہ کیا اور پھر بہت ہمت سے پوچھا "فزیشن”۔
محترمہ نے کوئی خلائی سا اشارہ کیا، آدھے لواحقین توا س ادا پر ہی نثار ہوگئے۔ "آپ down stairs چلے جاؤ right جاکر پھر second basement میں ڈاکٹر صاحب بیٹھے ہیں۔ reception سے information مل جائے گی”۔

یہ بھی پڑھئے:   رشوت کا بازار | سید حسن

لیجئے اتنا مشکل راستہ ان سادہ لوح لوگوں کو بتا محترمہ کسی کو فون پر شام کا اپنا پروگرام بتانے میں مصروف۔ آخر ان صاحب نے ایک آیا سے مطلب بیان کیا جو فوراً مدد پر آمادہ ہوگئی ظاہر ہے اس غریب کو بھی بخشش کا لالچ ہوگا۔ مجھے بہ مشکل آدھ گھنٹہ وہاں بیٹھنا پڑا اور اسی درمیان کئی ایک لوگ آئے اور اسی قسم کی زبان میں معلومات لے کر حیران پریشان ہوئے۔ پھر وارڈ بوائز اور آیاؤں کی مدد حاصل کی جو رضاکارانہ طور پر موجود تھے۔ اب شاید یہ بھی کوئی جان بوجھ کر نظام بنایا گیا ہے، مرے کو مزید مارنے کے لیے۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔

پاکستان میں کہیں بھی چلے جائیں دو چیزیں مل جائیں گی، کھانے کے لیے پکوڑے اور بات کرنے کے لیے اردو۔ انگلش پڑھیں، بولیں ضرور ۔ ۔ ۔ درخواست صرف یہ ہے کہ کم از کم انکوائری کے عملے کی اتنی تربیت ضرور کیجئے کہ وہ بنیادی معلومات رابطے کی زبان یعنی اردو میں لوگوں تک پہنچا سکیں، مزید ان کا بیڑا غرق نہ کریں۔ مسافر اور مریض جس بے چارگی ا ور بے بسی کا شکار ہوتے ہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے مزید نہ الجھا دیا جائے۔

Views All Time
Views All Time
353
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: