اپنا خیال رکھیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آج کل خشک سردی کا راج ہے ۔فضا میں آلودگی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے بارش نہ ہونے کی وجہ سے نزلہ زکام کے جراثیم ہر طرف پھیل رہے ہیں۔ کچھ دیر کھلی جگہ ٹھہر جائیں تو سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگتی ہے، چھینکیں اور آنکھوں سے پانی جاری ہوجاتا یے۔ گھر میں بند رہنا ممکن نہیں اس لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں تو بہتر ہو گا ۔

● معزز لوگ کسی بھی معاشرہ کے ہوں سر ڈھک کر رکھتے ہیں خواہ عرب ہوں، چوہدری یا انگریز ہوں ۔ گرم ٹوپی سے سر ڈھک کر رکھیں سردی سے آدھی بچت تو اسی سے ہوجاتی ہے۔
● ماسک کا استعمال آلودگی اور جراثیم سے بچاتا ہے۔ کم ازکم اسکول، کالج دفاتر وغیرہ میں ضرور ماسک لگا کر جائیں۔

● اب یہ ہے تو بد تہذیبی مگر ہاتھ ملانے سے پرہیز کیا جائے زکام زدہ شخص اگر رضاکارانہ طور پر خود ہی احتیاط کرلے تو زیادہ بہتر ہو گا۔

● گھر میں ایک فرد زکام کا شکار ہوتا ہے تو پھر سب ہی فیض یاب ہوکر رہتے ہیں وجہ سادہ ہے تولیے، جائے نماز اور کھانے پینے کے برتنوں کا مشترکہ استعمال ہے۔ یہاں پھر متاثرہ فرد سے ہی درخواست کی جاسکتی ہے کہ خود ہی اپنے زیر استعمال اشیاء کو علیحدہ رکھیں۔

یہ بھی پڑھئے:   انجینئرز کیوں نہ خودکشی کریں؟-مدیحہ سید

● کینو، مالٹا اور موسمی سٹرس فروٹ کثرت سے کھائیں بہت فائدہ مند ہیں جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ چہرہ بھی تروتازہ رہے گا اور پھلوں کا رس پینے کے بجائے پھل کھانے سے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

● زیتون کا تیل(extra virgin )دو چھوٹےچمچ رات سوتے وقت پی لیے جائیں تو گلے اور نظام انہضام کے لیے بہترین ہیں۔
● سفیدے کے درخت ہمارے آس پاس بکثرت پائے جاتے ہیں۔ چند پتے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیجیئے۔ باورچی خانہ سے ہی اس کے بخارات سارے گھر میں پھیل جائیں گے۔ ایک نہایت لطیف خوشبو اور بند ناک کھولنے کے لیے بہت عمدہ ٹوٹکہ ہے خاص طور پر مریض کے کمرے میں یہ برتن رکھیں اور بھاپ دیں تو سانس لینے میں آسانی ہو گی۔
● بازاری کھانے خاص طور پر تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں۔ ناقص گھی اور تیل گلا خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
● self medication سے بچیں۔ اس وقت پھیلنے والی نزلہ زکام کی وباء جان لیوا ہوسکتی ہے۔ مہربانی فرما کر antibiotics کا استعمال خود سے نہ کریں یہ آپ کے لیے نہایت خطرناک ہے۔
● آخر میں ایک درخواست کہ بیماری بڑھنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع فرمائیں تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

یہ بھی پڑھئے:   مامتا کی چوری-(ڈرامہ)-سعادت حسن منٹو
Views All Time
Views All Time
340
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: