Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بدلتی سوچ

Print Friendly, PDF & Email

خاکی پینٹ اور کالے، نیلے، سلیٹی عجیب بے نام اور بدنام سے رنگ کی قمیض پر حسب مراتب ٹوپی لگائے، کاندھوں پر پھول سینے پر تمغے سجائے ہمارے بہت مانوس پولیس والے جیسے ہر منظر کا لازمی حصہ تھے۔ بہت کچھ فلموں، ڈراموں میں دیکھا، ولن کے مددگار کے روپ میں یا خود ہی ولن۔ پھر "اندھیرا اجالا” ڈرامہ نشر ہوا (پی ٹی وی تقریبا مرحوم) سے۔ پولیس کا بہت اچھا تاثر قائم ہوگیا ذہنوں پر۔ اخباروں، رسالوں میں پڑھا پولیس والوں کی رشوت خوری، ظلم بربریت کے بارے میں۔ گاہے کہیں ایک آدھ تعریف بھی سننے کو مل جاتی تھی لیکن زیادہ تر ولن کے روپ میں ہی دیکھے گئے۔

مجھے ایک کانسٹیبل صاحب یاد ہیں جو سائیکل پر چھوٹی چھوٹی دو بچیاں بٹھائے سکول کی چھٹی کے وقت نظر آتے۔ ان کی بیگم سکول میں استانی تھیں۔ کانسٹیبل صاحب کی پینٹ کا خاکی رنگ کثرت استعمال سے میل خورہ پیلا سا ہوچکا تھا۔ میں سوچتی کیا یہ وہ پولیس ہے جس کے بارے میں اردو زبان کی ساری بری لغت استعمال کی جاتی ہے۔ بچیوں کی گھسی ہوئی وردیاں، بستوں کی جگہ کپڑے کے تھیلے اور ستے ہوئے چہرے بتاتے تھے کہ وہ زندگی کو جھیل رہی ہیں۔ پھر ہائی ویز پر سفر کے دوران رات گئے ایک پولیس والا نظر آتا جو لالٹین اور ڈنڈے سے مسلح دھند آلود سرد رات میں جب سردی لہو جماتی ہے یا گرمی زندہ سجی بنانے پر تلی ہوتی ہے لیکن اس کی وجہ سے قانون کا واقعی نفاذ ہوتا اور وہ قانون شکنوں کے لیے عوام کا رکھوالا ہوتا۔

کئی ایک جاپانی پہلوانوں سے مقابلے پر تلے پولیس والے بھی دیکھے جو وردی سے باہر گرے جارہے ہوتے۔ ایک سوکھے لمبے ایس ایچ او صاحب "اللہ بچایو چوہدری )اے بی سی( بھی تھے والد صا حب کے عزیز دوست شطرنج فیلو جو "سڑک سڑک” کی آواز سے لاتعداد چائے پیتے تھے۔ خانساماں جی کے ماتھے پر ان کو دیکھتے ہی لاتعداد بل پڑجاتے۔ پتہ نہیں جب جرائم کم ہوتے تھے جو وہ گھنٹوں شطرنج کی بازیاں جماتے۔ پولیس کی وردی دیکھ کر پولیس والے کے کوئی ایکشن لیے بغیر ہی قانون کا نفاذ ہوجاتا تھا۔ پھر اچانک ایک ان دیکھا ہاتھ آیا اور پنجاب پولیس والوں کی وردیاں اچک کر لے گیا۔ ان کی جگہ مینڈک اور مگر مچھ کی کھال سے قریب کسی رنگ کی سفاری سوٹ نما وردی نے لے لی۔ رعب اور دہشت تو نہ جانے کدھر گئی الٹا ڈاک بابو سے لگنے لگے۔ اب ڈاک بابو کا تو انتظار ہوتا ہے ڈرا تو نہی جاتا ناں۔ عوام زیادہ سے زیادہ کسی ایجنسی کے گارڈ سمجھی ہوگی۔ کئی پولیس والوں کو تو شاید خود بھی یقین نہی آیا۔ کچھ جھکے جھکے معطل شدہ سی چال چلتے نظر آنے لگے۔ کسی ٹی وی پروگرام میں حکومتی ایم پی اے بتاتی نظر آئیں کہ پولیس کی سوچ تبدیل کرنا ہے جس کی ابتدا وردی بدلنے سے کی جارہی ہے۔ اچھا بھئی کردیکھو یہ بھی۔ فیض صاحب یاد آگئے، "ہم دیکھیں گے”۔

آج ایک اخباری تراشہ سوشل میڈیا پر گردش کرتا نظر آیا کہ پنجاب پولیس کی وردی واپس پرانی والی کی جانے پر غور فرمایا جارہا ہے کیونکہ عوام کو یقین نہیں آتا کہ یہ ڈاکیا ہے ،بہروپیا ہے یا کسی کا ذاتی گارڈ اور وہ ان کا رعب ماننے کو تیار نہیں۔ پولیس والوں سے بہت معذرت کے ساتھ کیونکہ اس سب میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ جب پولیس کو تیار ہی صاحبان اقتدار کی ذاتی حفاظت اور خدمت کے لیے کیا جائے گا تو وہ اسی طرح عوام کے ڈنڈوں اور پتھروں کے آگے بےبس بھاگتے نظر آئیں گے چاہے وہ مذہبی جماعتوں کے جان سے بے پرواہ ارکان ہوں، چاہے وکیل اور چاہے اساتذہ اور طالب علم۔ اب پولیس کو جو مرضی پہنائیے اس ادارہ کی واقعی سوچ بدل چکی ہے۔ مبارک باد کے مستحق ہیں پلاننگ کرنے والے لیجئے گوادر سے خیبر تک اور محکمہ تعلیم سے پولیس تک سب کی سوچ بدلنے کی کوشش کامیابی کی طرف گامزن ہے۔

Views All Time
Views All Time
453
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   پہلے خود کو سمجھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: