Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

لکشمی پور کی شریفن

by اگست 4, 2016 افسانہ
لکشمی پور کی شریفن
Print Friendly, PDF & Email

laxmi pur ki shareefanعالمی افسانہ میلہ 2016 عالمی افسانہ فورم
افسانہ نمبر 5 ” لکشمی پور کی شریفن ”
سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اکیسویں صدی کاسورج اگاتو یہ دیکھ کرحیرت زدہ رہ گیاکہ سارےمنظربدل چکےہیں۔گلوبلائزیشن اورلبریلائزیشن کی جادوئی چھڑی سےساراملک بازاراورافراد خریدارمیں تبدیل ہوچکےہیں۔جو قوتِ خریدنہیں رکھتےتھےوہ خود کوہی فروخت کرنےپہ مجبورتھے۔ ملک پرسرمایہ دارترقی یافتہ ممالک کی جدیدترین اسلحوں سے لیس ملٹی نیشنل کمپنیوں نے یلغار کردی تھی جن سےبری طرح شکست کھاکر زنگ خوردہ اورآرام طلب نیشنل کمپنیاں دھڑادھڑ بند ہورہی تھیں یاپھرفاتح کمپنیوں میں ان کی شرطوں پرضم ہورہی تھیں۔بڑی کمپنی ہویاچھوٹا تاجر، افسرہویامزدور،اپنی بقااور اضافہ شدہ مصنوعی ضرورتوں کی تکمیل کی خاطرکچھ نہ کچھ سائیڈبزنس کرنےلگےتھے۔گاڑیاں بنانےوالی مشہورکمپنی ٹاٹا،سائیڈ میں نمک بنانےپراترآئی تھی تومنّا پان والاسائیڈمیں کولڈڈرنکس کی بوتلیں اوربھنگ کی گولیاں رکھنےلگاتھا۔ادیب ادب کےعلاوہ سرکاری ایجنڈےکوآگےبڑھانےمیں لگ گئےتھےتوصحافی صحافت کے ساتھ بلیک میلنگ کوسائیڈبزنس کےطورپراپنابیٹھےتھے۔ڈاکٹرنقلی دواؤں کابغلی دھندہ کرنےلگےتھے تواساتذہ کورس کی کتابوں کی دکانیں کھول بیٹھے تھے۔
پشتینی کام روایتی انداز سے کرنےوالےجدیدتقاضوں سے نبردآزما مات پرمات کھارہےتھے۔ سبسڈی کم ہوجانےکےباعث کسان اپنی فصل کی لاگت تک وصول نہیں کرپارہےتھےاورقرض خواہوں سےتنگ آکرخودکشی کرنےپر مجبور ہورہےتھے۔ مزدور دوست کا وزیراعظم نیا پےکمیشن لاگوکرکے قومی خزانےکو بےایمان سرکاری افسروں کی کبھی نہ بھرنے والی جیب میں انڈیل چکاتھااورمزدور اپنی پھٹی جیب لیےحسرت آمیز حیرت میں مبتلاتھے۔دیش بھگت جماعت کاوزیراعظم ملک کی منافع بخش کمپنیوں کواونےپونے دام پرفروخت کرنےپرتلاتھااور دلالی کےطورپرلیڈروں کی چاندی کٹ رہی تھی۔پوراملک ایک منڈی بن چکاتھاجس میں دلالوں کی بن آئی تھی۔
ٹی۔وی پروگراموں کےذریعہ لوگوں کوایک مصنوعی دنیااور تہذیب سےمتعارف کرایاجارہاتھا اوران میں دکھائے جانے والے اشتہاروں میں چیزوں کی اصلیت کہیں گم کردی گئی تھی۔اشتہاری دباؤکےتحت مٹی سونےکےنرخ پر فروخت کی جارہی تھی اور "اس کی ساڑی میری ساڑی سےسفید کیوں "کےسوال کوحل کرنےکی کوشش میں ہرچہرہ سیاہ پڑتا جا رہاتھا۔ پردہءسیمیں کاباغی نوجوان ادھیڑعمری میں چھوٹے پردےپر "کون بنےگاکروڑپتی ” کے ذریعہ نئی نسل کوجوئےکی ترغیب دینےلگاتھااورکرکٹ کے ہیرو سٹےبازوں سےملک کےوقار کا سوداکرنےلگےتھے۔
کیبل ٹی۔وی اورموبائل کےذریعہ گھرگھرمیں بلوفلمیں دیکھی جا رہی تھیں اورکمپیوٹر کےمانیٹرس پرننگی لڑکیاں دلبستگی کےسامان فراہم کررہی تھیں۔اسکولوں میں سیکس ایجوکیش کےبارےمیں سرکار ابھی تک فیصلہ نہیں کرپا رہی تھی اوراسکولوں کےکم سن طلباءوطالبات سیکس کاپریکٹکل کورس کرنےلگےتھے۔ناجائزبچے اب کوڑےدان میں نہیں پھینکےجارہے تھےبلکہ جائزطریقے سےانہیں حمل میں ہی ختم کروایاجارہاتھا۔تعلیم بالغاں کےتحت تمام بوڑھی بوڑھے اپنانام لکھناپڑھناسیکھ گئےتھےاور ان کی انگریزی تعلیم یافتہ اولادیں ان کانام تک بھول چکی تھیں۔گاؤں کےگاؤں خالی ہورہے تھے اورشہرکےفٹ پاتھوں پربھیڑ بڑھتی جارہی تھی۔اغوا مقبول ترین دھندابن چکاتھااورقتل سپاری لےکرکیےجانےلگےتھے۔دولت اورتعلیم تیزی سےبرآمد ہورہی تھیں اوربھوک اورفحاشی اس سے دوگنی تیزی سےدرآمدکی جارہی تھیں۔
لیکن شہرسےملحق گرانڈٹرنک روڈ کےکنارےواقع رنڈی پاڑا لکشمی پورکی شریفن بائی ان سارےبدلے ہوئے منظر سے بالکل بےخبرتھی۔ بھرےبھرےجسم اور کھردری زبان والی شریفن بائی اپنےڈیرے کےباہری کمرےمیں بیٹھی چھالیہ کتررہی تھی۔دن کے گیارہ بجے تھے۔اندر کےکمروں سے اٹھنےوالی آوازوں سےعیاں تھا کہ سبھی بیدارہوگئی تھیں۔یوں بھی صرف دوہی گاہک رات بھررکےتھے۔ باقی چھوکریاں گاہکوں کاانتظار کرتےکرتےہی تھک کرسوگئی تھیں۔ شریفن بائی اپنےدھندےپربہت دنوں سےچھائی ہوئی مندی سے بےحد متفکرتھی۔لیکن اس وقت وہ اپنے دھندےکےبارےمیں نہیں بلکہ سلمیٰ کےمتعلق سوچ رہی تھی۔سلمیٰ کل ہی ممبئی سےآئی تھی اورآج اس نےیہاں آنےکا سندیسہ بھیجاتھا۔شریفن بائی تو خاندانی رنڈی تھی جبکہ سلمیٰ اپنےشرابی باپ سےتنگ آکر ایک نٹھلے مردوئےکاہاتھ تھامےہوئے اس پاڑےمیں پہنچی تھی۔وہ مردواتواپنی جیب گرم کرکے چمپت ہوگیااورسلمیٰ اس ڈیرے کی ملکیت ہوکررہ گئی۔شروع شروع میں تووہ پیشہ کرنےمیں بےحدگھبرائی لیکن پھراس نے ایسے کل پرزے نکالےکہ شریفن بائی خاندانی اورتجربہ کار رنڈی ہونےکےباوجوداس کی قائل ہوتی گئی۔وہ تھوڑی پڑھی لکھی بھی تھی اس لیےگفتگومیں سلیقہ اور انداز میں رکھ رکھاؤتھا۔حالانکہ اس وقت شریفن بھی گدرائے جسم والی نوجوان چھوکری تھی لیکن اس کی طرح مردوں کوموہ لینےوالی صلاحیت اس میں نہ تھی۔یہی وجہ تھی وہ دل ہی دل میں اس سےپرخاش رکھنےلگی تھی اورچاہتی تھی کہ وہ کسی طرح یہاں سےدفع ہو۔لیکن سلمیٰ توخودہی اونچی اڑان کےلیےپر تول رہی تھی۔اس کاایک مستقل گاہک تھا۔ مقصودبھائی۔ وہ تھاتو اسی شہرکالیکن کچھ دنوں سے ممبئی شہرمیں جاکرجانےکیاکرنے لگاتھا۔اس نےپتہ نہیں کون سی پٹی پڑھائی کہ وہ اس کےساتھ ممبئی بھاگ نکلی۔
تقریباًسال بھربعدوہ آئی تواس کےرنگ ڈھنگ ہی بدلےہوئےتھے۔ اس کےانگ انگ سےامارت اور رعونت ٹپک رہی تھی۔وہ شریفن سےبھی ملنےآئی لیکن اس نےمنہ نہیں لگایاتوخفاہوکرچلی گئی۔اس کےبعدوہ ہرچوتھےپانچویں مہینے یہاں آتی۔پاڑےمیں موجود چھوکریوں میں سےچارپانچ کو منتخب کرتی،ان کی بائیوں کو اچھی خاصی رقم پکڑاتی اوران چھوکریوں کولےکرممبئی روانہ ہو جاتی۔ شریفن نےاس سےکبھی پوچھاتونہیں لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ مقصودبھائی کےساتھ مل کر ان چھوکریوں کودبئی کےہوٹلوں میں سپلائی کرتی ہے۔برسوں سے یہ سلسلہ چل رہاتھااورآج بھی جاری تھا۔
دروازےپرکاررکنےکی آوازسنائی دی توشریفن بائی نےچونک کرباہر دیکھا۔ماروتی کارتھی جس کا عقبی دروازہ کھول کرسلمیٰ کسی سیٹھانی کی طرح نیچےاتررہی تھی۔ وہ نہایت قیمتی بنارسی ساڑی میں ملبوس تھی اوراس کے تمام جسم پرسونےکےبھاری زیورات سجےتھے۔وہ تمکنت سے چلتی ہوئی کمرےمیں داخل ہوئی تونہ چاہتےہوئےبھی شریفن نے چوکی سےاترکراس کااستقبال کیا۔سلمیٰ اپنی ساڑی کوسمیٹتی ہوئی چوکی پرہی بیٹھ گئی۔
"کیسی ہو شریفن؟ ”
اس کے لہجے میں خلوص و محبت کی ایسی گرمی تھی کہ شریفن یک لخت پگھل گئی۔
"بس گذر ہو رہی ہے۔ تم اپنی سناؤ۔تمہارے کیا حال ہیں؟ ”
شریفن کے لہجے کی یاسیت سلمیٰ سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔
"میں تو بےحد مزے میں ہوں۔ تمہیں تو معلوم ہی ہوگا کہ میں نے مقصود سے شادی کرلی ہے۔ دوبچے ہیں۔دونوں کو شملہ کے انگریزی اسکول میں داخل کروا دیا ہے۔ وہیں ہوسٹل میں رہتے ہیں۔لیکن تم کچھ دکھی سی لگ رہی ہو۔ کیا بات ہے؟ ”
"کچھ نہیں۔ وہی دھندے کا رونا۔۔۔”
شریفن ایک بار پھر پاندان کے پاس بیٹھ کر سروتے سے چھالیاں کترنے لگی تھی۔
"تم تو اس ڈیرے پر رہ چکی ہو۔ گاہکوں کی کیسی ریل پیل رہتی تھی۔ہر ایک کو ایک رات میں چھے سات کونمٹانا پڑتا تھا۔ آج میرے پاس دس چھوکریاں ہیں۔سبھی حسین اور جوان۔ لیکن گاہکوں کا ایسا ٹوٹا پڑا ہے کہ جان کے لالے پڑگئے ہیں۔ ”
"کیوں؟ کیا پولیس کچھ زیادہ ہی پریشان کر رہی ہے؟ ”
سلمیٰ نے ہمدردی بھرے لہجے میں پوچھا۔
"نہیں ری۔۔۔وہ بےچارے تو خود رو رہے ہیں۔گاہک پیچھے بیس روپئے بندھے ہیں۔ اب گاہک آئیں تب نا ان کی بھی کمائی ہو۔”
شریفن نے پان لگا کر گلوری اسے پیش کی تو سلمیٰ نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
"نہیں۔ میں تو پان پراگ گٹکا کھاتی ہوں۔ ”
اس نے اپنے پرس سے پان پراگ کا ڈبہ نکالا اور کچھ مقدار اپنی ہتھیلی پر رکھ کر پھانک گئی۔
"ممبئی جیسے بڑے اور تیزرفتار شہر میں پان لگانے اور کھانے کا اہتمام کون کرے۔ فاسٹ زندگی میں ہر شے فاسٹ ہوتی جارہی ہے۔فاسٹ فوڈ، فاسٹ جرنی، فاسٹ تھنکنگ۔۔۔ہاں تو پھر گاہک نہ آنے کی کیا وجہ ہے؟ ”
"تمہیں تو معلوم ہے کہ ہمارے زیادہ تر گاہک ٹرک ڈرائیور تھے۔ سرکار نے بائی پاس سڑک بنا کر ادھر سے بڑی گاڑیوں کے گزرنے پر پابندی لگا دی۔ پھر بھی وہ آتے ضرور۔۔۔لیکن سنتی ہوں کہ بائی پاس کے کنارے تھوڑی تھوڑی دوری پر گاؤں دیہات کی لڑکیاں اور عورتیں جھنڈ بناکر کھڑی رہتی ہیں۔سالے ڈرائیور انہیں ٹرک پر ہی اٹھا لیتے ہیں اور بدن بھنبھور کر سوپچاس تھما کر راستے میں اتار دیتے ہیں۔اب کم پیسوں میں راہ چلتے عورتیں مل جاتی ہیں تو وہ ادھر کا رخ کیوں کریں؟ ”
"گاؤں دیہات کی حالت بےحد خراب ہوتی جارہی ہے۔اخباروں میں پڑھتی ہوں کہ فصل اچھی ہونے کے باوجود کسان قرض کے جال میں پھنسے بھوکوں مر رہے ہیں۔بھوک آج ان کی عورتوں کو سڑک پر لے آئی ہے کل وہ خود سڑک پر اتر آئیں گے۔۔۔۔۔ لیکن کیا اب تمہارے پاس شہر کے لوگ نہیں آتے؟ وہ لوگ تو اچھا خاصا پیسہ لٹا جاتے تھے۔ ”
"ان کے نہ آنے کی وجہ میری بھی سمجھ سے باہر ہے۔ سامنے سڑک پر جتنی قیمتی کاریں اور موٹر سائکلیں دوڑتی ہیں، شہر میں جتنے دومنزلہ، سہ منزلہ مکان بننے لگے ہیں، ان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ خوب دولت کما رہے ہیں۔لیکن پتہ نہیں یکایک سارے مرد شریف کیسے ہوگئے کہ ادھر جھانکتے ہی نہیں۔”
"مرد اور شریف! ۔۔۔ "سلمیٰ حقارت سے ہنسی۔ "ان کی شرافت دیکھنی ہے تو کبھی میرے ساتھ ممبئی چلو۔ ”
"اچھا چھوڑو ان باتوں کو۔۔ تم بتاؤ۔ اتنے دنوں بعد میرے یہاں کیسے آنا ہوا؟ ”
شریفن نے پوچھا تو سلمیٰ قدرے توقف کے بعد بولی۔
"تم تو جانتی ہی ہوگی میرے اور مقصود کے کاروبار کو۔ ہم لوگوں نے ممبئی میں "ورکرز سپلائی ایجنسی ” کھول رکھی ہے۔ہمارے بہت سارے ایجنٹ ہیں جو مختلف جگہوں سے غرض مند لڑکیوں کو لاتے ہیں۔ہم لوگ ان کے پاسپورٹ اور ویزے بنوا کر انہیں دبئی کے ہوٹلوں میں عارضی مدت کے لیے سپلائی کر دیتے ہیں۔ ہوٹلوں میں انہیں بظاہر تو خادماؤں کی حیثیت سے رکھا جاتا ہے لیکن ان کا اصل کام گاہکوں کو جنسی تسکین پہنچانا ہوتا ہے۔تمہارے پاس ڈھیر ساری چھوکریاں ہیں۔دو چار مجھے سونپ دو۔ ہر چھوکری کے پندرہ بیس ہزار دے دوں گی۔ دو تین مہینے میں ساٹھ ستر ہزار کما کر تمہارے پاس لوٹ آئیں گی۔”
"نا بابا نا! "شریفن کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
"وہاں کے مرد عورتوں کے ساتھ جانوروں جیساسلوک کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں رکمنی آئی ہے۔ تم ہی لے گئی تھیں۔ وہاں ہفتے بھر تک کسی نرسنگ ہوم میں بھرتی رہی تھی۔ سنا ہے کہ دو تین ٹانکے بھی لگے۔ ”
سلمیٰ قدرے تلخی سے ہنسی۔
"وہاں کے مرد ہوں یا یہاں کے۔ خریدی ہوئی عورتوں کے ساتھ سبھی جانوروں کی طرح ہی پیش آتے ہیں۔ ہاں! یہاں کے مردوں کے مقابلے میں وہ لوگ کچھ زیادہ ہی سیکسی اور مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن اکثر رنڈیاں تو ایسے مردوں کو پسند کرتی ہیں۔ تم اپنی جوانی بھول گئیں۔ چار چار کو پار لگانے کے بعد بھی بھوکی بلی بنی رہتی تھیں۔ ”
اس نے شریفن کے سراپے کو رشک آمیز نظروں سے تکا اور پھر شریر سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
"اور اب بھی کون سی بوڑھی ہو گئی ہو؟ تمہارا بدن تو اب بھی تان پورے کی طرح کسا ہوا ہے۔ کیا اب گاہکوں کو نہیں نمٹاتی ہو؟ ”
سلمیٰ کی باتوں سے شریفن کے چہرے پر سرخی کی ہلکی سی پرت چڑھ گئی۔آنکھیں قدرے نشیلی اور سانسیں بھاری ہوگئیں۔شرمیلی ہنسی بکھیرتی ہوئی وہ کچھ کھسیانی سی بولی۔
"یہاں تو جوان چھوکریوں کو ہی مرد پورے نہیں پڑتے۔ ہاں کبھی کبھی کوئی پرانا یار چلا آتا ہے اور ضد پکڑ لیتا ہے تو بات رکھنی پڑتی ہے۔ تم خود کبھی دبئی گئی ہو؟ ”
"کئی بار۔ "سلمیٰ نے بےشرمی سے آنکھیں مٹکائیں۔ "وہاں کے مردوں کے بارے میں ذاتی تجربہ ہی بتا رہی ہوں۔تو پھر کیا خیال ہے؟ لڑکیوں کو میرےساتھ بھیجوگی؟” "من نہیں مانتا۔ ” شریفن کے لہجے میں تھوڑی سی کشمکش تھی۔
"پردیس کا معاملہ ہے۔ کچھ اونچ نیچ ہوگئی تو جی کچوٹتا رہےگا۔ ”
"تم خواہ مخواہ فکرمند ہوتی ہو” سلمیٰ نے سمجھانے کی کوشش کی۔
"تین چار مہینوں کی تو بات ہے۔ وہاں اچھی رقم ملے گی اور کام کا بھار بھی کچھ زیادہ نہیں۔ ہفتے میں صرف جمعے کے روز زیادہ مصروفیت رہتی ہے۔وہاں جمعے کو عام چھٹی ہوتی ہے اس لیے دور دور سے لوگ عیاشی کرنے چلے آتے ہیں۔ہوٹلوں کے سارے کمرے بک ہوجاتے ہیں اور ہر کمرہ عیش گاہ بن جاتا ہے۔ ان کے پاس دولت کی کمی تو ہے نہیں۔ چھوکریوں کی سمجھداری پر منحصر ہے کہ انہیں خوش کرکے کتنی اوپری آمدنی کرلیتی ہیں۔ یوں تو گاؤں گرام کی سیدھی سادی لڑکیاں بہت مل جاتی ہیں لیکن پیشہ ور رنڈیوں کی بات ہی کچھ اور ہے۔ ”
شریفن بائی پرخیال انداز میں خاموشی سے چھالیہ کترتی رہی۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی اور کسی جواب کا انتظار کیے بغیر چار نوجوان اندر داخل ہوگئے۔ شریفن نے چونک کر انہیں دیکھاتو آگے آنے والا نوجوان کسی قدر بدتمیزی سے بولا۔
"ارے بائی جی! تم تو یہیں چھپی بیٹھی ہو۔ہم تو سمجھے تھے کہ تمہاری دکان ہی بند ہوگئی۔ ”
شریفن بائی نے اپنے چہرے پر ابھر آنے والے ناگواری کے تاثرات کو پیشہ ورانہ مسکراہٹ تلے چھپایا اور لگاوٹ بھرے انداز میں بولی۔
"بہت دنوں کے بعد دکھائی دیئے۔ کہاں گم ہوگئے تھے؟ ”
"ہم تو اسی شہر میں ہیں۔ ” وہ نوجوان آگے بڑھ کر صوفے پر پھیلتا ہوا بولا۔ "دراصل ہم شریف گھروں کے لڑکے ہیں اس لیے اس بدنام علاقے میں آنے سے پرہیز کرنے لگے ہیں۔ ”
"تو کیا تم لوگ ہنومان جی کے بھگت ہو گئے ہو؟ ”
شریفن بائی ذرا تلخی سے بولی۔
"نہیں۔ ہم تو اب بھی حسن کے ہی پجاری ہیں لیکن پوجا کے لیے یہاں آنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ شہر میں ہی بندوبست ہوجاتاہے۔ ”
"کیا مطلب؟ ”
شریفن بائی اس کی باتوں سے چکرائی تو نوجوان نے ہنستے ہوئے کہا۔
"اسکول کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیاں۔۔۔۔اور آفسوں میں کام کرنے والیاں۔۔۔ان میں سے بہت سوں نے چوری چھپے تمہارے پیشے کو اپنا لیا ہے۔کسی کو بھی فون گھماؤ۔۔۔ وہ طے شدہ وقت اور مقام پر حاضر۔۔۔ ”
"تو پھر آج ادھر کیوں چلے آئے؟ ”
شریفن بائی کے لہجے سے ظاہر تھا کہ وہ اندر ہی اندر مشتعل ہو رہی ہے۔
"ارے بائی جی! آج سنڈے ہے نا۔ سبھی سالیاں اپنے گھروں میں قید ہیں۔ کچھ دوست آگئے تو تفریح کرنے یہیں چلے آئے۔ لڑکیاں موجود ہیں نا؟ ”
"ہاں! وہ کہاں جائیں گی؟ تم لوگ ٹھہرو۔میں بلاتی ہوں۔ ”
اس نے ذرا زور سے آواز دی۔
"ریتا۔۔اری او ریتا۔۔۔۔ ”
دوسرے ہی لمحے ایک جوان اور خوبصورت لڑکی دروازے پر نمودار ہوئی۔ شریفن اسے مخاطب کرتی ہوئی بولی۔
"انہیں بھیتر لے جاؤ۔ ”
نوجوان نے کھڑے ہوکر پتلون کی جیب سے روپئے نکالے اور شریفن بائی کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔روپئے گنتے ہوئے شریفن کی بھنویں سکڑ گئیں۔
"صرف چار سو۔۔۔چاروں کے آٹھ سو لگیں گے۔ ”
"ارے بائی جی۔ تمہارے بھاؤ کب سے بڑھ گئے؟ سو روپئے میں تو اس پاڑے میں اچھی سے اچھی لڑکیاں مل جائیں گی۔ ”
” اور تمہاری وہ اسکول کالج والیاں۔۔۔ "شریفن کاپارہ چڑھا۔
"ان پر اتنے ہی روپئے خرچ ہوتے ہیں؟ اس سے زیادہ رقم تو ناشتے پانی میں ہی اڑ جاتے ہوں گے۔دو چار سو روم کا کرایہ لگتا ہوگا اور وہ خود چار پانچ سو سے کم کیا لیتی ہوگی؟ ”
"ارے وہ شریف اور عزت دار گھرانوں کی لڑکیاں ہیں۔ ان کا اور تمہارا کیا مقابلہ۔؟ ”
"کیوں؟ کیاان کے بدن سونے کے ہوتے ہیں یا ان میں ہیرے جڑے ہوتے ہیں؟ ان کے بدن بھی ویسے ہی گوشت پوست کے ہوتے ہیں جیسےہماری لڑکیوں کے۔ ”
شریفن جیسے لڑنے پر اتر آئی۔ نوجوان بھی اکھڑ مزاج ہی تھا۔وہ بھی برافروختہ ہو کر بولا۔
"اب تم جیسی رنڈیوں سے کون بحث کرے؟ تمہارے پاس آنے والا رنڈی باز ہی کہلائے گا جبکہ ان کے ساتھ وقت گذارنے والوں پر کوئی انگلی تک نہیں اٹھاتا۔تم تیار نہ ہوتی ہو تو نہ سہی۔یہاں اور بھی بہت ساری ہیں۔ ”
نوجوان نے شریفن کے ہاتھ سے روپئے جھپٹے اور باہر نکلا چلاگیا۔ اس کے پیچھے دوسرے نوجوان بھی نکل گئے۔
سلمیٰ تمام واقعے کی خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ان کے جانے کے بعد اس نے شریفن کے چہرے کو تکا جو ذلت کے شدید احساس سے تمتمانے لگا تھا۔آہستہ آہستہ اس کے چہرے کی سرخی زائل ہوتی گئی اور اس کی جگہ پر اداسی کی گہری پرت چڑھ گئی۔
"دیکھا ان لونڈوں کو۔۔۔ ”
وہ سلمیٰ سے مخاطب ہوئی تو اس کی آواز میں رقت آمیز یاسیت تھی۔
"ایک لڑکی پر ہزار دیڑھ ہزار لٹا دیں گے اور یہاں کے لیے دوسو روپئے بھی نہیں نکلتے۔آخر دونوں میں کیا فرق ہے۔؟
سلمیٰ نے شریفن کے مضمحل اور اداس چہرے کا غور سے جائزہ لیا اور پھر ہمدردی بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
"تم بےحد بھولی اور ناسمجھ ہو شریفن۔تم اپنے خاندانی ڈیرے پر پرانے زمانے کی روایتی رنڈی بنی بیٹھی ہو اور اسی پرانے ڈھنگ سے دھندہ کرنے پر بضد ہو۔تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ زمانہ کتنا بدل گیا ہے۔اس بدلے ہوئے تصنع پسند اور فیشن زدہ زمانے میں چیزیں اپنی اصلی شکل اور نام کے ساتھ آسانی سے اور اچھی قیمت پر نہیں بکتیں۔انہیں بیچنے کے لیے ان کی ظاہری شکل اور نام میں پرکشش تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔کیا کوئی تاجر مونگ پھلی کی کھلی مفت میں بھی لوگوں کو کھانے پر آمادہ کر سکتا ہے؟ نہیں نا۔ لیکن جب اسی کھلی کی شکل میں ذرا سی تبدیلی کردی گئی اور دیدہ زیب پیکنگ کرکے اس کانام "ہارلکس ” رکھ دیا گیا تو لوگ صحت بخش غذا کے طور پر اسے چار سو روپئے تک میں خرید رہے ہیں۔ آگ پر بھنا ہوا بھٹا کھانا گنوار پن ہے لیکن دو سو روپئے "پاپ کارن ” کھانا اپرکلاس فیشن میں شامل ہے۔دس روپئے کلو آلو کوئی پوچھتا نہیں لیکن وہی آلو "انکل چپس "کے نام سے چار سو روپئے کلو بک رہا ہے۔چار آنے میں نیم کا داتن کرنا غیرمہذب ہونے کی پہچان ہے لیکن اسی نیم سے بنا قیمتی ٹوتھ پیسٹ اونچے گھرانوں میں فخریہ استعمال کیا جارہا ہے۔دس آنے کا سوڈا پانی "کوک اور پیپسی "کےنام سے دس دس روپئے میں لوگ دھڑادھڑ خرید رہے ہیں۔
آج کے اشتہار گزیدہ اور خیرہ چشم لوگوں کے لیے چیزوں کی خوبصورت پیکنگ کے ساتھ تبدیل شدہ شکل اور نام کی بڑی اہمیت ہے۔ ہر پیشے میں دور کی مانگ کے مطابق جدت کاری بےحد ضروری ہے۔روایتی انداز میں پرانے طور طریقوں سے کام کرنے والے تمہاری طرح ہی اپنے دھندے میں ناکام ہو جائیں گے۔ ”
شریفن سر جھکائے اس کی باتیں سنتی رہی۔ کچھ دیر ٹھہر کر سلمیٰ اپنی آواز میں شیرینی گھولتی ہوئی بولی۔
"میری مانو تو اپنی تمام لڑکیوں کو میرے حوالے کردو۔آٹھ دس لاکھ تو تمہیں مل ہی جائیں گے۔ ”
"کیا تم میرا مذاق اڑا رہی ہو؟ ”
شریفن تنتنا کر کھڑی ہوگئی۔
"آٹھ دس لاکھ کتنے دن چلیں گے؟ اس کے بعد کیا بھوکی مروں گی؟”
"بھوکی کیوں مرو گی؟ ”
سلمیٰ کالہجہ اسی طرح شانت اور نرم تھا۔
"میں نے کہا نا کہ آج چیزیں اپنی اصلی شکل اور نام کے ساتھ آسانی سے اور اچھی قیمت پر نہیں بکتیں۔ تم پڑھی لکھی نہیں ہو تو کیا ہوا؟ تجربہ کار تو ہو۔ کچھ نہیں تو ان روپیوں سے کسی اچھے کھاتے پیتے علاقے میں "لیڈیز سلائی ٹریننگ سنٹر ” ہی کھول لینا۔ "۔۔۔۔۔۔۔۔

Views All Time
Views All Time
389
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   واپسی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: