Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایس جی ایس کوٹیکنا کیس کی سمری

by نومبر 23, 2017 حاشیے
ایس جی ایس کوٹیکنا کیس کی سمری
Print Friendly, PDF & Email

کسٹم کی کرپشن روکنے کیلئے شہید بینظیر نے بین الاقوامی طرز پر پری شپمنٹ انسپکشن کا نظام متعارف کرایا جس میں ایک کمپنی تھرڈ پارٹی محکمہ کسٹم کے کلیئر کردہ پانچ فی صد کنٹینر چیک کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔ اس سے کسٹم کی کرپشن نوے فیصد ختم ہو گئی۔ مقابلہ پر دو کمپنیوں ایس جی ایس اور کو ٹیکنا نے کام جیتا۔

1997ء میں اٹھائیس مئی کو ایٹمی دھماکہ ہوا تھا۔ اس سے سات مہینے قبل آصف زرداری کو گورنر ہاوس لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 21 مئی 97ء کو اے اے زی اور بی بی کے کوڈ نام سے تین اکاونٹس سوئٹزرلینڈ میں کھلے۔ یاد رہے کہ بینظیر کی حکومت ختم ہونے سے سات یا آٹھ ماہ بعد اسی قدر زرداری کی گرفتاری کے بعد آصف زرداری کے ایڈریس پر دو خط بنائے گئے۔ دونوں میں بیس بیس ملین ڈالر بطور کمیشن مندرجہ بالا اکاونٹ میں بھجوانے کا ذکر تھا۔

جب پاکستان میں یہ مقدمہ قائم ہوا تو ابتدائی سطح پر ان میں سے ایک کمپنی نے کام چھوڑ دیا اور اس نے عدالت میں اپنے خط کو چیلنج کیا۔ دوسری کمپنی شاید آج بھی کام کر رہی ہے۔ دونوں کے خطوط کا اوریجنل لیٹر ہیڈ سے موازنہ ہوا اور کیمیکل رپورٹ آ گئی کہ دونوں خط جعلی ہیں مگر اس کے باوجود پانچ پانچ سال قید اور جائیداد ضبطی کی سزا سنائی گئی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سزا کیلئے درکار شہادت نہیں ہے لہذا سزا ختم اور یہ پاکستانی سپریم کورٹ کا پہلا فوجداری مقدمہ تھا جس میں سول قانون کی طرح دوبارہ شہادت پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:   رشوت کا بازار | سید حسن

اب یہی شکایت اکاونٹس کے بارے میں تین مرتبہ سوئٹزرلینڈ میں بھی کی گئی۔ پہلی مرتبہ ان اکاونٹس میں موجود رقم کو کک بیکس کہا گیا، بعد میں پتہ چلا کہ کمیشن لینا سوئٹزرلینڈ کے قانون میں جرم نہیں ہے۔ پھر کہا گیا یہ منی لانڈرنگ ہے، پھر کہا گیا کہ یہ منشیات کی کمائی ہے۔ اب سوئٹزرلینڈ کے فوجداری نظام کے مختلف ہونے کا فائدہ اٹھایا گیا۔ وہاں پراسیکیوٹر یا سرکاری وکیل پہلے مقدمہ کا قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ سرکاری وکیل کو وہاں پراسیکیوشن میجسٹریٹ کہا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ جب منی لانڈرنگ کہا گیا تو پراسیکیوشن میجسٹریٹ نے وضاحت کیلئے شہید محترمہ کو بلایا، انہوں نے اکاونٹس سے لاتعلقی ظاہر کی اور کیس ختم ہو گیا۔ مگر پاکستانی اخبارات اس مقدمہ کو چلاتے رہے اور دو وزیراعظم کھا گئے۔

اب افتخار محمد چوہدری کی دیانت اور competency کا لیول دیکھئے، double jeopardy پوری دنیا کا مسلمہ قانون ہے۔ ایک مقدمہ دو بار سماعت نہیں ہو سکتا۔ خود اپنے ہاتھ سے مئی 2001 میں اس مقدمہ کی سزا کو خلاف قانون قرار دینے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں کس طرح کھلوانا چاہتا تھا یہ عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔

Views All Time
Views All Time
215
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: