حمام میں کون کون ننگا ہے؟ – شاکر حسین شاکرؔ

Print Friendly, PDF & Email

shakir-hussain-shakirمجھے ملتان کے ماضی کو جب دیکھنا ہوتا ہے تو مَیں فاروق انصاری کی یادگار کتاب ’’میرے زمانے کا ملتان‘‘ کا انتخاب کرتا ہوں۔ اس کتاب میں فاروق انصاری نے جہاں ملتان کے پرانے خاندانوں کا تذکرہ کیا وہاں انہوں نے ملتان کے ان گلی کوچوں اور سڑکوں کی بھی سیر کرائی ہے جن کی شکلیں اب تبدیل ہو چکی ہیں۔ ملتان کے سینماؤں کا جس طرح احوال انہوں نے قلمبند کیا ہے وہ بھی اب تاریخ کا حصہ ہے کہ اب ہر شہر کی طرح ملتان میں بھی سینما مسمار کر کے بڑے بڑے شاپنگ مال بنا دیئے گئے ہیں۔ ’’میرے زمانے کا ملتان‘‘ پڑھتے ہوئے یہ احساس رہتا ہے کہ وہ ہر زمانے میں پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ ملتان کے حوالے سے اب تک جتنی زندہ کتب لکھی گئی ہیں اس کتاب کا شمار ان میں ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں اسی کا مطالعہ کرتے ہوئے گلی حمام والی، مسجد حمام والی، کوچہ حمام والا، حمام منزل اور حماموں کی دکانوں کا ذکر پڑھا تو ماضی کے حمام اور آج کے بیوٹی سیلون یاد آ گئے۔ آج کے بیوٹی سیلون میں اب ایئرکنڈیشنر، ایل۔ای۔ڈی اور پُر سکون ماحول ہوتا ہے۔ نوجوان طبقہ اب وقت لے کر ان سیلون میں جاتا ہے اور پھر کئی گھنٹوں کی آرائش و زیبائش کے بعد باہر آتا ہے تو پاکٹ منی کا بہت سا حصہ سیلون کی نذر کر کے خوبصورت بنتا ہے۔ بہرحال فاروق انصاری کی کتاب پڑھتے پڑھتے مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا اور پھر ایک دن مَیں نے ابو جی سے پوچھا اکرام نائی کا کیا حال ہے؟ اس کا ایک سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے بچپن کے مناظر چلنے لگے جب امی جان ہم بھائیوں کی حجامت بنوانے کے لیے حاجی برکت علی گولڈ سمتھ کی دکان پر بھیجا کرتی تھیں۔ قارئین کرام یہ پڑھ کر پریشان ہوں کہ گولڈ سمتھ کی دکان پر حجامت بھی ہوا کرتی تھی۔ حاجی برکت علی میرے دادا ابو کا نام تھا اور ان کی زرگری کی دکان کالے منڈی میں ہوا کرتی تھی۔ ابو جان کی دکان کے باہر ایک چھوٹی سی کھڑکی ہوتی تھی۔ وہی کھڑکی اور اس کے آگے لکڑی کا پھٹا اکرام کی پوری دکانِ حجامت ہوتی تھی۔ اکرام اپنے والد کے ہمراہ بالوں کی کٹنگ کا کام کرتا تھا۔ مَیں اور ذاکر بھائی اکثر اکٹھے بال کٹوانے آتے تھے۔ سرِبازار لکڑی کی کرسی پر بٹھا کر گلے پر سفید چادر لگا کر وہ کٹنگ کرنے کے لیے گردن پر مشین پھیرتا تو ہم دونوں بھائیوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو جاتا۔ حجامت بنوانے کا یہی مرحلہ ہمیں مشکل لگتا تھا۔ دورانِ حجامت اکرام نائی ہمیں ڈانٹتا بھی تھا لیکن اس کی ڈانٹ حجامت کے آخری مراحل میں پڑتی تھی کہ اس کے بعد بال کٹوانے کا مرحلہ ختم ہو جاتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بازاروں میں ایسی دکانیں ختم ہوتی گئیں البتہ پورے شہر میں گرم حمام جگہ جگہ دکھائی دینے لگے۔ جس زمانے میں ہماری رہائش خونی برج کے نواح میں تھی تو چوک خونی برج سے لے کر ٹی۔بی ہسپتال روڈ پر جگہ جگہ گرم حمام دکھائی دیتے تھے۔ ان حماموں کی خوبیاں یہ ہوتی تھیں کہ دکانوں کے باہر ایک تار پر رنگ برنگے تولیے لٹکے ہوتے تھے۔ جس کو ایک سٹک کے ساتھ دھوپ میں خشک ہونے کے لیے لٹکایا جاتا تھا۔
1980ء میں جب ہم خونی برج سے چاہ بوہڑ والہ منتقل ہوئے تو نیا گھر زیرِ تعمیر ہونے کی وجہ سے مجھے ایک عرصہ سٹائلو ہیئر آرٹسٹ (گرم حمام) کے ہاں غسل کرنے کا تجربہ ہوا۔ اس دکان کے استاد لئیق احمد تھے جنہوں نے اپنی کوٹ ٹائی والی تصویر بھی دکان میں آویزاں کر رکھی تھی۔ اس دکان میں اداکار شاہد، وحید مراد، دلیپ کمار کی تصاویر کے علاوہ مختلف ہیئر سٹائل کی تصویریں بھی لگی ہوئی تھیں۔ دکان کی خوبی یہ تھی کہ وہاں گاہکوں کے علاوہ اردگر کے دکاندار سیاست پر گفتگو کرنے آتے تھے۔ ایک شخص جس کا نام یاد نہیں وہ ہر خبر پڑھنے کے بعد اپنی بیگم کو یاد کرتا تھا۔ مثال کے طور پر اگر ٹرین کے حادثے کی خبر ہوتی تو وہ فوراً کہتا کاش اس میں میری بیگم سفر کرتی تو جان چھوٹ جاتی۔ استاد لئیق کی دکان سیاسی کارکنوں کا ڈیرا ہوتی تھی۔ دور دور سے لوگ ان سے کام کرانے اور گپ شپ لگانے آتے تھے۔ استاد کی خوبی صرف یہ تھی کہ وہ صرف کٹنگ اور شیو کا کام کرتا تھا۔ اگر کسی کے چہرے پر موسمی دانے ہوتے تو گاہک سے معذرت کر لیتا تھا۔ ناخن نہیں کاٹتا تھا۔ ہر گاہک کو اس کے مزاج کے مطابق تولیہ فراہم کرتا۔ سردی کے موسم میں اس کا حمام اتنا گرم ہوتا تھا کہ اندر سوئیٹر اور جرسی وغیرہ اتار کر بیٹھنا پڑتا تھا۔ سیاسی گفتگو کا میدان ہر وقت گرم ہونے کے باوجود دکان پر لکھ رکھا تھا کہ ’’یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے۔ بحکم جنرل ضیاء الحق‘‘ لوگ یہ لائن پڑھتے اور پھر اسی جملے پر سیاسی گفتگو کرنے میں اتنے مگن ہو جاتے کہ ان کو بھول جاتا کہ وہ جنرل ضیاء کے حکم کی عدولی کر رہے ہیں۔
ریلوے اسٹیشن کے قریب گھر ہونے کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن چوک پر گرم حماموں کا پورا بازار ہوتا تھا۔ یہ بازار آج بھی موجود ہے۔ ان حماموں سے استفادہ اگرچہ مسافر ہی کرتے ہیں لیکن ان دکانوں کی خوبی یہ ہے کہ وہاں اب ہر وقت ٹی وی کے مختلف چینل لگے رہتے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب حماموں کی اکثر فلمی ستاروں کی تصاویر نمایاں کر کے لگائی جاتی ہیں اور بعض عاشق انہی کی طرح کے بال بنواتے ہیں اور کچھ خیالوں ہی خیالوں میں خود کو اداکار ندیم اور وحید مراد کا متبادل جانتے ہیں۔
اب چونکہ ہر گھر میں چھوٹے چھوٹے باتھ روم بنانے کا رواج ہے اس لیے وہ منظر کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ صبح سویرے کندھے پر تولیہ رکھ کر ہاتھ میں صابن دانی پکڑ کر ہر شخص حمام کا رُخ کرتا تھا۔ اب گرم حماموں کی جگہ نئے اور جدید سیلون نے لے لی ہے۔ جہاں پر مردوں کے فیشل کیے جاتے ہیں اور تو اور اب یہ بورڈ بھی عام پڑھنے کو ملتا ہے کہ ’’یہاں پر دولہا بھی تیار کیے جاتے ہیں‘‘ جبکہ ماضی میں استرے کو لیدر کے ایک ٹکڑے پر چمکا کر تیز کیا جاتا تھا اور شیو بنا دی جاتی تھی۔ اب تو شیو کرنے کے لیے اتنے لوازمات آ گئے ہیں جس طرح نئی نویلی دلہن کی ڈریسنگ میز پر نئے میک اپ کے سامان کا ڈھیر لگا ہوتا ہے۔ زمانہ تبدیل ہو گیا ہے اب تو مرد اور لڑکے بھی اپنی ڈریسنگ میز پر روز بننے سنورنے کے لیے کوئی نہ کوئی نئی چیز کا اضافہ کر لیتے ہیں۔
قارئین کرام بات شروع ہوئی تھی ملتان کی گلی حمام والی سے مَیں نے ایک دن ان سے پوچھا انصاری صاحب یہ گلی حمام والی کہاں ہوا کرتی تھی تو کہنے لگے لوہاری گیٹ کے علاقے میں۔ مَیں نے ملتان میں لوہاری گیٹ تو مَیں نے کبھی نہیں دیکھا کہنے لگے دیکھا تو مَیں نے بھی نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے چوک گھنٹہ گھر کے قریب کسی زمانے میں یہ گیٹ ہوا کرتا تھا۔ جہاں سے سڑک لاہور جایا کرتی تھی اسی وجہ سے اس کو لاہوری گیٹ کہا جاتا تھا۔ لاہوری کا لفظ جب بگڑا تو وہ لوہاری ہو گیا حالانکہ اس علاقے میں ہم نے کبھی بھی لوہے کی دکانیں نہیں دیکھی تھیں۔ دیکھے تو ہم نے اس علاقے میں حمام بھی نہیں تھے لیکن یہ علاقہ حماموں والی گلی سے معروف ہے۔ یہ بات بالکل ایسے ہی ہے جیسے حکمران خاندان کے کسی فرد کا نام پانامہ لیکس میں نہیں ہے چونکہ یہ بات عمران خان کہہ رہے ہیں ہمیں ان کی بات پر یقین کرنا پڑے گا کہ ہم نے سکول کے زمانے میں پڑھا تھا ’’اس حمام میں سب ننگے ہیں‘‘ اگرچہ ہم کو اساتذہ کرام نے اس بات کے مکمل پڑھایا تھا۔ حمام میں سب ننگے والی بات تب بھی ہمیں سمجھ میں نہیں آتی تھی جب یہ تمام چیزیں سمجھنے کے دن تھے۔ اب تو ہم بڑھاپے کی طرح گامزن ہیں اور بوڑھوں کے بارے میں یہ مثال عام سنتے آئے ہیں:
بوڑھے طوطے بھلا کہاں پڑھتے ہیں
بس اسی بات پر اکتفا کریں کہ
اس حمام میں سب ننگے ہیں

Views All Time
Views All Time
873
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   10 فیصد بالادستوں کی غلامی سے نجات حاصل کیجئے – حیدر جاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: