Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

عشق تیرا ستائے تو مَیں کیا کروں؟ – شاکر حسین شاکر

Print Friendly, PDF & Email

shakir-hussain-shakirبہت سے قارئین کرام کو یہ پڑھ کر حیرت ہو گی کہ ملک کے نامور قوال عزیز میاں (باؤ عزیز الحسن چشتی نظامی قادری) کو ان کی وصیت کے مطابق ملتان کے نوبہار نہر کے کنارے ایک قبرستان میں دفن کیا گیا۔ انہوں نے ملتان میں دفن ہونے کی خواہش اس لیے کی کہ عزیز میاں قوال کو اپنے پیر و مرشد حضرت باوا صوفی ناظر حسین چشتی نظامی قلندری المعروف توتاں والی سرکار سے بے حد عقیدت تھی۔ حضرت توتاں والی سرکار کا انتقال 29 مارچ 1999ء کو ہوتا ہے اس کے تقریباً پونے دو سال بعد 6 دسمبر 2000ء (9 رمضان المبارک بمقام تہران) کو عزیز میاں انتقال کرتے ہیں تو ان کی وصیت کے مطابق جسدِ خاکی کو ملتان لایا جاتا ہے اور ان کے مرشد کے پہلو میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ عزیز میاں فنِ قوالی کا ایک ایسا نام ہے جس کا کوئی مدِمقابل نہ تو ان کی زندگی میں آیا اور نہ ہی ان کی موت کے بعد ان کا خلاء کسی نے پُر کیا۔ ان کے بیٹے اگرچہ انہی کے انداز میں قوالی کرتے ہیں لیکن جو بات عزیز میاں کی تھی وہ ان میں کہاں۔
قوالی کے میدان میں پاکستان میں چند نام ایسے ہیں جن کو لوگوں نے بیحد پسند کیا۔ ان ناموں میں غلام فرید صابری اور ہمنوا، استاد نصرت فتح علی خان و ہمنوا اور عزیز میاں قوال سرِ فہرست ہیں۔ ان تینوں قوالوں نے الگ الگ انداز سے قوالی پیش کی اور سننے والوں کو اب تک مسخر کر رہے ہیں۔ قوالی چونکہ پاک و ہند کے مسلمانوں کی تہذیبی روایات کی امین ہے کہ اس کو امیر خسرو سے لے کر آج تک کے شعراء اور قوالوں نے زندہ رکھا ہے۔ قوالی کی وجہ سے لاکھوں افراد اسلام کی طرف آئے۔ خاص طور پر استاد نصرت فتح علی خان اور عزیز میاں نے پوری دنیا میں قوالی کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ عمران خان نے انگلستان میں جب شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈ ریزنگ کے لیے مختلف شو کیے تو ان میں گوروں کے سامنے استاد نصرت فتح علی خان کی گائیکی و قوالی نے لاکھوں روپے جمع کر کے دیئے۔ اسی طرح جب عزیز میاں قوال لوگوں کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے کو کئی گھنٹے تک مختلف قوالیاں پیش کرتے رہتے۔ ان کی قوالی بظاہر کورس کی شکر میں ہوتی تھی لیکن ان کی قوالی عزیز میاں اکیلے کا شو ہوتا۔ وہ بیک وقت اُردو، پنجابی، سرائیکی، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں کے ادب سے استفادہ کرتے اور قوالی کو چار چاند لگاتے۔ ان کو ہمنوا کی اس طرح ضرورت نہ پڑتی جس طرح عام طور پر قوالوں کو ضرورت ہوتی ہے۔
عزیز میاں 27 اپریل 1942ء کو ہندوستان کے شہر اترپردیش (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ والد نے ان کا نام عزیز الحسن رکھا جبکہ پیار سے گھر والے ان کو باؤ جی کہنے لگے۔ 1947ء میں جب پاکستان بنا تو عزیز میاں کے بزرگ ملتان کے نواحی قصبے شجاع آباد میں آگئے (یہ وہی شجاع آباد ہے جہاں سرائیکی کے شاعر شاکر شجاع آبادی نے خوب شہرت پائی)۔ پندرہ سال کی عمر میں عزیز میاں شجاع آباد سے لاہور چلے گئے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ عزیز میاں نے قوالی سیکھنے کا بھی آغاز کر دیا۔ قوالی سیکھتے سیکھتے تو اپنے فن کا مظاہرہ حضرت داتاگنج بخش کی درگاہ کے باہر ایک درخت کے نیچے لوگوں کو قوالیاں سنا کر کرنے لگے۔ منفرد اندارِ قوالی نے ان کو ایک دم مشہور کر دیا۔ اپنے خاص اور جوشیلے انداز میں جب وہ محفلِ سماع میں پرفارم کرتے تو سننے والے ان پر ہزاروں روپے کے نوٹ نچھاور کرتے۔ ان کو چونکہ فارسی زبان پر عبور تھا اس لیے اہلِ ایران ان کو بار بار اپنے یہاں آنے کی دعوت دیتے تھے۔ عزیز میاں نے اگر شہنشاہِ ایران کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تو انقلاب کے بعد امام خمینی کے سامنے بھی قوالی پیش کی۔
عزیز میاں کی قوالی کرتے ہوئی کسی ڈائری کا کاپی کا سہارا نہیں لیتے تھے بلکہ محفلِ سماع کے دوران اگر ان کی اشعار کی آمد ہوتی تو وہ ان اشعار کو بھی قوالی حصہ بنا دیتے۔ ان کی مشہور قوالیوں میں تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے، نبی نبی یا نبیؐ، آدمی ہے بے نظیر، ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں، مَیں شرابی شرابی، اﷲ ہی جانے کون بشر ہے؟ کسی کی آخری ہچکی، کسی کی دل لگی ہو گی وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی قوالی کی یہ خوبی تھی کہ وہ ایک شعر کو موضوعِ سخن بناتے اور اسی پر بے شمار اشعار پڑھتے جاتے۔ کلامِ اقبال ان کو مکمل حفظ تھا اور حافظہ بھی کمال کا پایا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دورانِ قوالی رومی، جامی، سعدی، عرفی، بیدل، فیضی، امیر خسرو اور دیگر اساتذہ کا کلام اس طرح قوالی میں شامل کرتے کہ یوں لگتا کہ وہ اشعار قوالی کے لیے ہی کہے گئے ہیں۔یہ اعزاز بھی عزیز میاں کے پاس ہے کہ وہ قوالی جو انہوں نے پہلی مرتبہ بیس منٹ میں پڑھی اسی قوالی کو اپنی اسی یادداشت کی وجہ سے دو گھنٹے کے دورانیے تک لے گئے۔
عزیز میاں نے اپنے بچوں کے نام بھی انہی شعراء اور ادیبوں کے نام پر رکھے جن کا وہ کلام اپنی قوالی میں پڑھا کرتے تھے۔ ان کے بچوں کے نام امیر خسرو میاں، شیراز علی میاں، بوعلی میاں، شمس تبریز میاں، میاں جنید بغدادی، میاں شبلی نعمانی، میاں فرید الدین عطار، فرحان عزیز میاں، عمران عزیز میاں اور دیگر بزرگوں کے نام پر رکھے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگرچہ قوالی سے میرا روزگار وابستہ ہے لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ اس فن کے ذریعے عبادت بھی کر رہا ہوں۔
مجھے یاد ہے کہ جب شہرت کی دیوی عزیز میاں پر مہربان ہوئی تو یہ جہاں بھی جاتے ہزاروں لوگ ان کی قوالی کے منتظر رہتے۔ ملتان میں مختلف بزرگوں کے عرس ہائے مبارک پر بڑی باقاعدگی سے محفلِ سماع میں شرکت کرتے۔ جس کو سننے کے لیے دور دراز سے لوگ آتے۔ ملتان اور اہلِ ملتان سے ان کی محبت تھی کہ انہوں نے سیتل ماڑی نوبہار نہر کے قریب حضرت توتاں والی سرکار کے برابر دفن ہونے کی خواہش کی اور اب جب بھی حضرت توتاں والی سرکار کا عرس ہوتا ہے تو عزیز میاں کا بیٹا اپنے والد کی روایت کو نبھاتے ہوئے محفلِ سماع میں شرکت کرتا ہے۔ ان کا بیٹا اگرچہ اپنے والد کی روایت کو نبھا رہا ہے لیکن جو بات عزیز میاں کی تھی وہ اس میں نہ آ سکی۔ قوالی کے سننے والے جب بھی ملتان آتے ہیں تو وہ عزیز میاں کی قبر پر لازمی حاضری دیتے ہیں کہ
عشق تیرا ستائے تو مَیں کیا کروں؟

Views All Time
Views All Time
1697
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کتابوں کے جہان کی سیر - مستنصر حسین تارڑ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: