مستنصر حسین تارڑ ۔ چاچا جی سے بابا جی تک – شاکر حسین شاکرؔ

Print Friendly, PDF & Email

shakir-hussain-shakirکتنا بھلا زمانہ تھا جب صرف ٹی وی پر پی ٹی وی آیا کرتا تھا۔ تہذیب، ترتیب، زبان و بیان کی خوبیاں اور صرف پی ٹی وی کی وجہ سے فیملی سسٹم بھی چل رہا تھا کہ رات تمام اہلِ خانہ بیٹھ کر ٹی وی کے پروگرام بلاجھجک دیکھا کرتے تھے۔ 1990ء کی دہائی میں پی ٹی وی نے صبح کی لائیو نشریات کا آغاز کیا۔ مقبول ترین میزبانوں میں مستنصر حسین تارڑ اور قراۃ العین حیدر شمار ہونے لگے۔ ہر گھر میں صبح کی نشریات یوں دیکھی جاتی تھی جس طرح کسی زمانے میں ذی الحج کے مہینے میں مسجد نمرہ کا خطبہ دیکھا جاتا تھا۔ حجاج کرام بھی مسجد نمرہ میں خطبہ کم سنتے تھے اور ٹی وی کیمرے کے سامنے ہاتھ زیادہ ہلایا کرتے تھے۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ ہم کہہ رہے تھے کہ پی ٹی وی کی صبح کی نشریات میں مستنصر حسین تارڑ بچوں کے چاچا جی بن کر آیا کرتے تھے جو سکول جانے والے بچوں کو سکول کی تیاری اور ناشتہ یوں کراتے تھے جیسے ہر بچے کے گھر میں تارڑ صاحب یہ کام اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہوں۔ ٹی وی کے ساتھ تارڑ صاحب کی محبت بڑی پرانی ہے۔ کبھی وہ نثار قادری کے ساتھ ’’آپ کے پاس ماچس تو ہوگی نہ‘‘ اس جملے کے ساتھ دکھائی دیتے تو کبھی وہ ’’شادی آن لائن‘‘ لے کر ٹی وی پر بیٹھے ہوتے۔ قصہ مختصر یہ کہ تارڑ صاحب کی ان مصروفیات کے باوجود ان کی مسلمہ حیثیت سفرنامہ نگار، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، خاکہ نگار اور مزاح نگار کے طور پر بھی ہے۔ وہ اُردو کے مقبول ترین ادیب کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں ان کی کتابیں پڑھی نہ جاتی ہوں۔ یکم اگست کو سنگِ میل نے لاہور سے مستنصر حسین تارڑ کا سندھ سفرنامہ aur-sindh-behta-raha’’سفر سندھ کے اور سندھ بہتا رہا‘‘ شائع کیا۔ اس سفرنامے کا ایک باب ہم ملتان سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ’’پیلھوں‘‘ میں پڑھ چکے تھے۔ تب سے لے کر یکم اگست 2016ء تک ہم اس کتاب کے شائع ہونے کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک افضال احمد نے ہمیں یومِ آزادی سے پہلے ہی جشنِ پاکستان منانے کی نوید یہ کتاب شائع کر کے دے دی۔
کتاب کیا ہے؟ ہر صفحے پر مستنصر حسین تارڑ اپنے مخصوص انداز میں بولتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سرورق کو دیکھتے ہی میری اہلیہ کہنے لگیں تارڑ صاحب چاچا جی سے بابا جی ہو گئے ہیں۔ بیگم کے توجہ دلاؤ نوٹس پر ہم نے جب بابا تارڑ کو دیکھا تو شکر ادا کیا کہ مستنصر حسین تارڑ صاحب بابا جی تو ہو گئے ہیں لیکن شکر ہے وہ بابا یحییٰ خان نہیں بنے کیونکہ تارڑ صاحب اپنے سر کے سفید بالوں کی وجہ سے آدھے بابا یحییٰ تو بن چکے ہیں۔ اگر وہ داڑھی رکھ لیں تو ہمیں یقین ہے کہ پورے بابا یحییٰ بن جائیں گے۔ فی الحال ہم آپ کو مستنصر حسین تارڑ کا تازہ شاہکار دکھانا چاہتے ہیں جس کے ہر صفحے پر ایک تر و تازہ مستنصر حسین تارڑ موجود ہے جو لگتا ہی نہیں ہے کہ بابا ہے دادا ہے اور نانا بھی ہے۔ سرزمینِ سندھ میں ماضی قریب میں رضا علی عابدی اور ڈاکٹر عباس برمانی نے کتب لکھی ہیں دونوں ادیبوں کی کتابوں کا حسن اپنی جگہ پر ہے لیکن مستنصر حسین تارڑ تو اس کتاب میں بالکل ایک نئے روپ میں نظر آتے ہیں۔ پوری کتاب کا ہر صفحہ عجائبات سے بھرپور ہے۔ یہ کتاب سرسری پڑھنے کی بجائے آہستہ آہستہ پڑھنے کی فرمائش کرتی ہے۔ جیسے سخت سردی میں گرماگرم چائے کی چسکی۔ مثال کے طور پر ’’شیطان کا عرس منانے والے‘‘ والے باب میں بابا تارڑ نے جو باتیں لکھ دی ہیں وہ انہی کا ہی حوصلہ ہے۔ تارڑ صاحب اس باب میں لکھتے ہیں ’’جمیل جن دنوں سندھ یاترا کے شب و روز کی تفصیل ترتیب دیتا تھا تو مَیں نے اس سے ایک گزارش کی تھی مجھے رؤوسا اور وڈیروں کے ڈیروں پر نہ لے جانا۔ ان کی آؤ بھگت اور پُرتکلف دعوتوں ے بچانا اور ۔۔۔۔۔۔ مجھے قطعی طور پر شریف اور نارمل زندگی بسر کرنے والوں سے نہ ملانا ۔۔۔۔۔۔ مَیں ایسے لوگوں سے ملاقات کا تمنائی ہوں جو قدرے ابنارمل ہوں۔ معاشرے اور عقیدے سے کسی حد تک باغی ہوں۔ مختصر یہ کہ دیوانے، مستانے اور خبطی ہوں۔ نارمل نہ ہوں۔‘‘
سو قارئین کرام یہ کتاب دیوانوں، مستانوں، ابنارمل اور خبطی لوگوں کے متعلق ہے۔ کچھ کچھ مجھے یوں لگا جیسے کہیں کہیں پر میری بات بھی تارڑ صاحب کر رہے ہیں۔ میرے گھر والے بھی مجھے مستانہ، خبطی اور ابنارمل سمجھتے ہیں۔ ہر عید کی نماز پر مَیں مسجد اس وقت داخل ہو رہا ہوتا ہوں جب مسجد امام نماز کا سلام پھیر رہا ہوتا ہے۔ مَیں مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں سے جب عید مل رہا ہوتا ہوں تو ذہن میں یہ مصرعہ بار بار آتا ہے ’’رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔‘‘
مستنصر حسین تارڑ جب ڈیرے سے روانہ ہونے لگتے ہیں تو رخصتی کا منظر یوں لکھتے ہیں: ’’ہم رخصت ہونے لگے تو فقیر قدرے جذباتی ہو گیا۔ تارڑ سائیں ہم آپ کو جانتے ہیں آپ دراصل ہم میں سے ہو۔ یونہی دنیاداری کے بہروپ بھر کر اُدھر بیٹھے ہو اِدھر چلے آؤ ذرا قریب آؤ ۔۔۔۔۔۔ مَیں قریب ہوا تو فقیر مشتاق نے میرے لیے زیرِ لب کچھ دُعا کی اور پھر میرے چہرے پر ایک پھونک ماری ’’تارڑ سائیں یہ پھونک مدینہ منورہ سے آئی ہے۔ روضۂ رسولؐ سے آئی ہے‘‘ ہم فقیر مشتاق کے گاؤں سے نکلے تو مَیں کچھ رنجیدہ اور کچھ ملال میں تھا۔ یہ پتہ نہیں کہ مَیں فقیر مشتاق کی گفتگو کا اسیر ہو گیا تھا۔ مجھ میں یہ اثر کر گیا تھا کہ مَیں خود لفظوں کا سوداگر تھا۔ ساری عمر حرفوں کے ہیرپھیر اور فریب میں گزری تو مَیں کہاں کسی کے دھوکے یا سراب میں آ سکتا تھا لیکن وہ کسی حد تک میرے دل کے قریب اس لیے ہو گیا کہ اس نے میرے چہرے پر پھونک مارتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پھونک مدینے سے آئی ہے۔ اب مدینے کے نام پر مجھے کوئی بھی خرید سکتا تھا۔ فقیر مشتاق نے اپنے پلے سے ایک کوڑی بھی نہ خرچی اور مجھے خرید لیا ایک بے دام غلام کر لیا مدینے کے نام۔‘‘
مستنصر حسین تارڑ نے اس کتاب میں سندھ کے وہ رُخ دکھا دیئے جو اس سے قبل کسی اور نے نہیں بتائے خاص طور پر جب ان کی ملاقات ’’دیدۂ دل‘‘ نامی شخص سے ہوتی ہے تو پھر تارڑ صاحب سندھیوں کے ناموں کے بارے میں یوں کہتے ہیں۔
’’مَیں نے پہلی بار ایسا شاعرانہ اور انوکھا نام سنا تھا۔ اس کے خاندان میں ایسے ہی ناموں کا رواج تھا۔ اس کی ہمشیرگان دل پذیر اور دلبھاؤنی تھیں ۔۔۔۔۔۔ جب مجھ پر اﷲ تعالیٰ کا فضل ہوا اور اُس نے مجھے ایک بیٹی عطا کی تو مَیں اُس کا نام ’’بھاگ بھری‘‘ رکھنا چاہتا تھا اور ایک بیٹی کا اس سے بابرکت نام کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے بھاگ اس کے نصیب بھرے رہیں۔ لیکن بہت مخالفت ہوئی۔ ہم پنجاب والے اپنی زبان پر بہت نادم ہیں۔ اپنی بیٹیوں کے بہت نامعقول نام رکھ لیں گے وہ عربی میں لبنیٰ رکھ لیں گے جس کا مطلب بہت دودھ دینے والی لیکن نصیبوں والی بھاگ بھری نہیں رکھیں چنانچہ وہ قرۃ العین ہو گئی۔‘‘
بابا تارڑ کی تازہ کتاب آج کل میرے سرہانے رکھی ہے۔ پیار کا پہلا شہر سے لے کر سفر سندھ تک بابا جی نے پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا۔ جب ان کی پہلی ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ شائع ہوئی ہو گی تو تب خود تارڑ صاحب کو معلوم نہیں ہو گا کہ یہ کتابیں ان کو پوری دنیا گھمائیں گیں۔ قریہ قریہ کوچہ کوچہ ان کے نام کا ڈنکا بجے گا۔ وہ تارڑ جو مذہب سے کوسوں دور تھا وہ منہ وَل کعبے شریف جیسا سفرنامہ لکھے گا کہ شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ اس نے چاچا تارڑ سے بابا تارڑ کا سفر لازمی طے کرنا تھا۔ سو ان کی نئی کتاب نے انہیں بابا جی کے درجے پر فائز کر دیا ہے کہ اب مَیں نے رضی، قمر رضا شہزاد اور عباس برمانے نے طے کیا ہے کہ ہم میں سے جو بھی پریشان ہو گا ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے ڈیرہ تارڑ صاحب جائیں گے اور بابا جی کی قدم بوسی کر کے بیعت کریں گے۔

Views All Time
Views All Time
5901
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   فصیلِ ضبط - پیش لفظ - فرح رضوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: