Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پندرہ برسوں میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا – شاکر حسین شاکرؔ

by نومبر 3, 2016 کالم
پندرہ برسوں میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا – شاکر حسین شاکرؔ
Print Friendly, PDF & Email

shakir-hussain-shakir۔ 25 اکتوبر 2016ء کی صبح چھ بجے میری آنکھ کھل گئی کہ اُس روز مجھے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں برادرم خلیل احمد کی بیٹی قرۃ العین کو چھوڑنے جانا تھا۔ قرۃ العین کی کلاس آٹھ بجے تھی۔ یہ عینی بیٹی کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔ خلیل بھائی بیرونِ ملک تھے اس لیے اسے یونیورسٹی چھوڑنے کی ذمہ داری مجھے نبھانا تھی کہ قرۃ العین کو اپنے شعبہ اور کلاس روم کا علم نہ تھا۔ 24 اکتوبر کی رات ایک بجے مَیں سو گیا۔ ذہن میں ایک ہی فکر تھی کہ کہیں سوتا نہ رہ جاؤں اسی کشمکش میں رات کو کئی بار آنکھ کھلی۔ کلاک پر نظر پڑتی نیند کا غلبہ اتنا ہوتا کہ پھر سو جاتا۔ آخرکار جب صبح چھ بجے آنکھ کھلی تو پھر اٹھ کر ہی بیٹھ گیا کہ اگر مَیں اب دوبارہ سو گیا تو یونیورسٹی بروقت نہ پہنچ پاؤں گا۔ وقت گزارنے کے لیے اپنا آئی پیڈ لے کر ٹی۔وی لاؤنج میں آ بیٹھا۔ میری نظروں کے سامنے بچوں کی تصاویر تھیں۔ ذہن میں عینی بیٹی کو چھوڑنے کی ذمہ داری اور آنکھوں میں نیند کا غلبہ۔ فیس بک کا صفحہ کھولا تو اگلے ہی لمحے آئی پیڈ بند کر دیا کہ طبیعت میں عجیب سی بے چینی تھی۔ دن طلوع ہو چکا تھا اور مَیں گھر سے باہر نکل آیا۔ گھڑی پر نظر دوڑائی تو ابھی سوا سات ہونے میں کافی وقت پڑا تھا کہ میرے ہمسائے ڈاکٹر آفتاب حیدر کے گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں سکول جانے کے لیے بچے سوار ہونے لگے۔ ان بچوں کو دیکھتے دیکھتے مجھے اپنے بچے یاد آنے لگے۔ عنیزہ، جاذب اور ثقلین کے سکول جانے کے دن، یونیفارم، شوز، کتابیں، بیگز، لنچ باکس، کلر پنسل، کاپیاں اور پانی والی بوتلیں میرے سامنے آتی گئیں۔
عنیزہ فاطمہ میری اکلوتی بیٹی، جو اپنے دادا ابو اور نانا ابو کے گھر کی پہلی اولاد تھی۔ بڑی ناز کی پالی ہوئی عنیزہ جب پہلے دن سکول گئی تو پورے گھر والے پریشان تھے کہ یہ سکول میں کس طرح وقت گزارے گی۔ مَیں موٹرسائیکل پر اسے سکول چھوڑنے گیا۔ شدید سردی میں اسے ملتان کینٹ کے معروف تعلیمی ادارے دی پبلک سکول کے گیٹ پر چھوڑا تو اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ابھی وہ مجھ سے آنکھوں ہی آنکھوں میں التجا کر ہی رہی تھی کہ سکول کے چوکیدار نے مجھ سے عنیزہ کی کلاس پوچھی، بستہ لیا اور وہ میری گڑیا کو سکول کی عمارت میں لے گیا۔ عنیزہ مجھے مڑ مڑ کے تکتی رہی اورجب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی تو مَیں واپس آیا۔ گھر میں سارے لوگ میرے کمرے میں جمع تھے۔ سب کا ایک ہی سوال تھا عنیزہ روئی تو نہیں تھی۔ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا کہ مَیں خود سکول کے گیٹ سے آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھیں گھر لایا تھا۔ عنیزہ کی چھٹی کا وقت ایک بجے تھا۔ مَیں دن کے بارہ بجے اس کے لیے جوس، چپس کے پیکٹ اور بسکٹ لے کر سکول کے باہر پہنچ گیا۔ چوکیدار آیا اور کہنے لگا باؤجی چھٹی تو ایک بجے ہوتی ہے آپ بارہ بجے کیوں آئے ہیں؟ جی مجھے معلوم ہے چھٹی ایک بجے ہونی ہے، آج میری بیٹی کا سکول میں پہلا دن ہے۔ شاید وہ اُداس ہو گئی ہو اس لیے مَیں جلدی آ گیا ہوں۔ ’’نہیں نہیں باؤجی سکول میں آ کر کوئی اُداس نہیں ہوتا سارے بچے خوش ہوتے ہیں آپ فکر نہ کریں۔‘‘ یہ جواب سنتے ہی ایک بجنے کا انتظار کرنے لگا۔ پونے ایک بجے تک سکول کے گیٹ کے باہر بچوں کو لینے والوں کا رش شروع ہو گیا۔ ہر کوئی اپنے جاذب، عنیزہ اور ثقلین کو لینے آیا ہوا تھا۔ ایک بجتے ہی سکول کے مرکزی دروازے سے آسمان کے ستاروں کا ظہور ہونا شروع ہوا۔ اس دن مجھے ہر بچی عنیزہ لگ رہی تھی لیکن عنیزہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ میری نظریں ہر بچی کا تعاقب کر رہی تھیں کہ اچانک میرے کانوں میں ’’پاپا پاپا‘‘ کی آواز آئی تو دیکھا عنیزہ میرے پاس کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادوں کے اگلے منظر میں مجھے جاذب حسن یاد آگیا جس کے بارے میں اس کی ماں کا یہ کہنا تھا کہ مَیں جب اس کے سامنے قاعدہ رکھتی ہوں تو یہ قاعدہ بند کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مَیں نے کرکٹر بننا ہے۔ یہ سنتے ہی میری بیگم بہت فکرمند ہوتی کہ اگر یہ پڑھے گا نہیں تو کیا کرے گا۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ بڑی بہن کے لیے ہر روز رات کو مزے مزے کی چیزیں آتی ہیں تو اُس نے اپنی ماں سے کہا مجھے بھی یہ چیزیں کھانی ہیں۔ میری بیگم اسی گھڑی کی منتظر تھی کہنے لگی یہ سب کچھ تب ملے گا جب تم سکول جاؤ گے۔ چیزوں کے لالچ میں جاذب کے سکول کا پہلا دن آ گیا۔ وہ جاذب جو قاعدہ دیکھ کر کہتا تھا کہ مَیں نے پڑھنا نہیں بلکہ کرکٹر بننا ہے اس نے پہلے دن سے پڑھائی کو یوں فتح کیا کہ ہر امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ جاذب میرے بچوں میں بڑا بھولا بچہ ہے مَیں نے ایف ایس سی تک اس کے کالج اور اکیڈمی کی پک اینڈ ڈراپ کی ڈیوٹی کی ہے۔ اس کے کلاس فیلوز اس کو چھیڑتے تھے کہ تم اب بھی کالج کی بجائے کسی سکول کے طالب علم لگتے ہو کہ تمہارے ابو تمہیں چھوڑنے اور لینے کے لیے آتے ہیں۔ آج کل وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک مقیم ہے اور کہتا ہے کہ بابا جان مَیں نے کرکٹر نہیں بننا البتہ کرکٹ کا ہر میچ دیکھتا ضرور ہے۔ جہاں تک اس کی پڑھائی کا معاملہ ہے کہ وہ تو ہم اس کو ’’پڑھاکو‘‘ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ پڑھتے وقت اب اسے کھانے پینے کا ہوش نہیں رہتا اور وہ میری فیملی میں سب سے زیادہ ذہین اور قابل بچہ نکلا ہے۔
یادوں کی البم میں ثقلین رضا کو جب دیکھتا ہوں تو یہ گھر کا سب سے چھوٹا چشم و چراغ ہے لیکن اسے بڑا بننے کا بہت شوق ہے۔ اس نے سکول جانے کی نیت اس لیے کی کہ سکول جانے والے بچوں کو لنچ باکس میں مزے مزے کی چیزیں ملتی تھیں۔ پانی والی بوتل میں کبھی لال شربت، لیموں پانی اور سکوائش ہوتا۔ وہ کھانے پینے کے چکروں میں سکول داخل ہوا اور آئی۔ٹی میں ایم۔ایس کر کے میرا بازو بن گیا۔ اب اس کے کھانے پینے کا ذوق مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔ اب وہ میرا بیٹا کم اور ایڈمنسٹریٹر زیادہ ہے کہ اسے ہر وقت میری صحت کی فکر رہتی ہے۔
مَیں گھر کے باہر کھڑا آتے جاتے بچوں کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک مجھے خیال آیا کہ گھڑی کی ٹِک ٹِک ساڑھے سات بجا رہی ہے۔ مَیں خلیل بھائی کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ عینی بیٹی کو لے کر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی طرف گامزن ہوا۔ سڑکوں پر سکول، کالج اور یونیورسٹی جانے والے بچوں کا رش تھا۔ جس منظر کو مَیں نے پندرہ سال قبل اپنے بیٹے ثقلین رضا کو سکول داخل کراتے وقت آخری بار دیکھا تھا وہ منظر تو بالکل ویسے کا ویسے تھا۔ سڑکوں پر ہر گھر کے عنیزہ، جاذب اور ثقلین جوق در جوق اپنے اپنے تعلیمی اداروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کسی بچے کے بیگ میں وہی چپس، چاکلیٹ، بسکٹ اور جوس ہوں گے جو مَیں خریدا کرتا تھا۔ کوئی بچی پونی بنائے سکول کی طرف گامزن دیکھی تو مجھے اپنی بیٹی کی پونی یاد آ گئی۔ کوئی طالب علم اپنے ہاتھ میں کرکٹ کا بیٹ لے کر جا تانظرآیا تو مجھے جاذب کا کرکٹر بننا یاد آ گیا۔ کسی کے ہاتھ میں کھانے پینے کا سامان دیکھا تو چھوٹا بیٹا سامنے آ گیا۔ وقت کا دھارا تیزی سے بہنے لگا اور میرے تینوں بچے خیر سے اپنے اپنے کاموں میں جُت چکے ہیں۔ لیکن سڑکوں پر وہی منظر رواں دواں تھا جو مَیں پندرہ سال تک روز دیکھتا تھا۔ 25 اکتوبر کی صبح مَیں بیٹی قراۃ العین کے ساتھ یونیورسٹی پہنچا تو اسے کہا ’’یہ لو عینی بیٹا آپ کی یونیورسٹی آ گئی۔‘‘ مَیں نے اس لمحہ دیکھا کہ قرۃ العین بڑی خوشی سے گاڑی سے اتری۔ ہم دونوں شعبہ ’’آئی ایم ایس‘‘ کی طرف بڑھے۔ کلاس تلاش کی اور پھر عینی بیٹی کو کلاس کے باہر چھوڑا۔ ایک لمحہ مَیں کلاس کے باہر رُکا اور چل دیا کہ یہ عینی بیٹی کی یونیورسٹی کا پہلا دن تھا۔ اس لیے جب وہ کلاس میں گئی تو اس نے مڑ کے نہیں دیکھا کہ مَیں ابھی تک ماضی میں ٹھہرا ہوا تھا کہ مجھے قرۃ العین کی شکل میں عنیزہ دکھائی دے رہی تھی۔ عنیزہ کو سکول کے پہلے دن چھوڑنے گیا تھا تو وہ مڑ مڑ کر مجھے دیکھ رہی تھی پھر اس کے بعد نہ مَیں اسے کالج چھوڑنے گیا اور نہ ہی یونیورسٹی کہ اس نے اپنا ایم۔ایس خواتین یونیورسٹی سے کیا۔ اس کام کے لیے کبھی بھائی مظاہر کی گاڑی کام آئی تو کبھی آٹو رکشہ۔ 25 اکتوبر کی صبح قرۃ العین نے میری بہت سی یادوں کو تازہ کر دیا کہ واپسی پر گھر آتے ہوئے مَیں سوچ رہا تھا کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں کچھ بھی تو نہیں تبدیل ہوا۔ سب کچھ ویسے کا ویسے ہی ہے۔ وہی سکول جانے والے بچے، ان کے یونیفارم، کتابیں، کاپیاں، کلرز، لنچ باکس، پانی والی بوتل اور میری یادیں۔ بس تبدیل اتنا ہوا ہے کہ عنیزہ اپنے حمزہ حسن کی نصف بہتر ہے اور جرمنی میں رہ رہی ہے۔ جاذب بھی پی۔ایچ۔ڈی کے لیے جرمنی مقیم ہے۔ آ جا کے ثقلین رضا ہمارے ساتھ ہوتا ہے جو ہم میاں بیوی کی لڑائیوں کے بعد صلح کراتا ہے اور غصہ میں کہتا ہے وہ دونوں اچھے رہ گئے ہیں جو پاکستان سے چلے گئے ہیں۔ مَیں کہتا ہوں نہیں وہ اچھے نہیں تم اچھے ہو جو ہمارے پاس رہتے ہو۔ ہمارے دُکھ سکھ کا خیال رکھتے ہو۔ یہ سنتے ہی کہتا ہے گزشتہ تیس برسوں میں آپ ذرا بھی تبدیل نہیں ہوئے۔ اس کا یہ جملہ سننے کے بعد مَیں سوچتا ہوں کہ مَیں تو سوچ رہا تھا کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا۔ میرا سب سے چھوٹا بیٹا تو مجھے سے آگے کی سوچ رکھتا ہے اور کہہ رہا گزشتہ تیس برسوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Views All Time
Views All Time
1100
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندگی کا امتحانی پرچہ | حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: