Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ادب کا نوبیل انعام پاکستانی ادیبوں کو کیسے مل سکتا ہے؟ – شاکر حسین شاکرؔ

by اکتوبر 26, 2016 ادب
ادب کا نوبیل انعام پاکستانی ادیبوں کو کیسے مل سکتا ہے؟ – شاکر حسین شاکرؔ
Print Friendly, PDF & Email

shakir-hussain-shakirاس سال ادب کے نوبل انعام پر جتنی حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ بالکل درست ہے کیونکہ اس سے قبل جس بھی لکھنے والے کو نوبل انعام ملتا تھا وہ واقعی ’’نوبل‘‘ ہوا کرتا تھا۔ جب نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی نے ادب کے شعبہ کے لیے 75 سالہ باب ڈیلن کے نام کااعلان کیا تو پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کے لکھنے والے باب ڈیلن کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ باب ڈیلن کون ہے؟ باب ڈیلن کا نام سنتے ہی اس کی کھوج لگانی شروع کی تو سب دوستوں کی زبانوں کو چپ لگ گئی۔ جب کسی جگہ سے ہمیں باب ڈیلن کی کتابوں کے نام نہ ملے تو مجھے نوبل انعام اور خاص طور پر پاکستانی ادیبوں کو نوبل انعام ملنے کے دو واقعات یاد آ گئے۔
پہلا واقعہ تو ملتان کے نواحی شہر کبیروالہ کے معروف شاعر بیدل حیدری کے متعلق ہے۔ بیدل حیدری اپنے آپ کو ڈاکٹر لکھتے تھے لیکن ان کے پاس نہ تو ایم۔بی۔بی۔ایس کی کوئی ڈگری تھی اور نہ ہی پی۔ایچ۔ڈی کی۔ البتہ شاعری کی اصلاح کے سلسلہ کے ’’ڈاکٹر‘‘ تھے کہ شاعری کے اوزان ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان کے اردگرد ہر وقت نئے شاعروں کا ہجوم رہتا تھا۔ جو اپنی شاعری کا علاج کرانے دور دراز علاقوں سے کبیروالہ ضلع خانیوال آتے تھے۔ استاد ڈاکٹر بیدل حیدری اپنے شاگردوں سے خوب خدمت کرواتے ۔ جس سے ان کے گھر کے معاملات چلتے رہتے۔ ان کے شاگردوں میں یوں تو شاعری کے حوالے سے بے شمار بڑے نام اس وقت ادب کے میدان میں نام بنا چکے ہیں لیکن ان کے صحیح معنوں میں شاگردِ رشید اور محبوں میں ایک نام سیّد اطہر ناسک کا تھا (جس کا چند سال قبل انتقال ہو گیا اور وہ ملتان میں دفن ہے) جو خود بھی خوبصورت شاعر، باصلاحیت صحافی، کہانی کار، ماہرِ تعلیم اور گفتگو کرنے کا اتنا ماہر تھا کہ اپنی لچھے دار باتوں سے کھڑے کھڑے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا تھا۔ مثال کے طور پر جنرل ضیاء کے زمانے میں جب سنسر کی بے شمار پابندیاں تھیں تو سیّد اطہر ناسک نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ استاد ڈاکٹر بیدل حیدری کی شاعری پر جنرل ضیاء نے ریڈیو اور ٹی۔وی پابندی لگا دی ہے۔ اب ان کی شاعری ریڈیو ماسکو سے نشر ہوتی ہے۔ یار لوگ بھی ان کی باتوں سے خوب لطف لیتے کہ اطہر ناسک اپنے استاد کی تشہیر کر رہا ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟ پھر ایک دن اطہر ناسک نے کسی ادبی تقریب میں اعلان کیا کہ بیدل حیدری کو روس کی طرف سے لینن پرائز مل رہا ہے۔ فیض احمد فیض کو اس سے پہلے یہ انعام مل چکا تھا اس لیے یہ بات ایسی تھی کہ اس پر اعتبار کیا جا سکتا تھا۔ کچھ ہی عرصے بعد اطہر ناسک نے پھر اعلان کیا بیدل حیدری نے دنیا کے حالات دیکھتے ہوئے روسی حکومت سے لینن امن پرائز لینے سے انکار کر دیا ہے۔ (یاد رہے یہ وہی دور تھا جب ضیاء دور میں جہادِ افغانستان کے نام سے روس کے خلاف جنگ جاری تھی) ہم بھی اُس زمانے میں اطہر ناسک کی بریکنگ نیوز کے منتظر رہتے کیونکہ اُس کی ایسی خبروں میں جہاں دلچسپی کا عنصر ہوتا تھا وہاں ہمیں اس کی اپنے استاد سے محبت کا بھی اندازہ لگانا بھی آسان ہو جاتا۔ پھر ایک دن کسی نے اطہر ناسک سے پوچھا کہ ریڈیو ماسکو کی نشریات کس طرح سنی جا سکتی ہیں تو اس نے جواب دیا کہ حکومتِ پاکستان نے ریڈیو ماسکو کی نشریات پاکستان میں بلاک کر دی ہیں۔ آج کل استاد کا کلام وائس آف امریکہ سے نشر ہو رہا ہے۔ اطہر ناسک کے اس انکشاف کے بعد یار دوستوں نے ہمیشہ کی طرح لطف لیا اور پھر ایک دن تو اطہر ناسک نے کمال کر دیا کہ آئندہ سال ادب کا نوبل انعام ڈاکٹر بیدل حیدری کوملے گا کہ انعام دینے والی کمیٹی نے ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کیا ہے اور رضامندی بھی پوچھی ہے۔ پہلے تو استاد نے کہا ادب کے لیے غیرملکی انعام لینا ملک دشمنی ہے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ لیکن جب مَیں نے استاد کو یہ بتایا کہ فیض صاحب بھی لینن ادبی انعام لے چکے ہیں تو آپ کو نوبل انعام لینے میں کیا قباحت ہے؟ اس پر استاد رضامند ہو گئے۔ اطہر ناسک کی اس طرح کی باتیں سن کر اب دوست حیران ہونے کی بجائے پریشان ہونے لگے کہ اطہر ناسک کی اپنے استاد کے متعلق کوئی خبر سچی ثابت نہ ہوئی۔ اسی طرح کی باتوں سے ایک طرف ان کی اپنی شخصیت کا اعتبار ختم ہوتا گیا تو دوسری جانب اس کے انکشافات پر حیرت بھی تمام ہوتی چلی گئی۔ اس طرح کی دروغ گوئی کا زیادہ نقصان ،بیدل حیدری کو تو کیا ہونا تھا اطہر ناسک اپنے بولے ہوئے جھوٹ کا اتنا شکار ہوا کہ جب اُس نے اپنے دوستوں کو یہ بتایا کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گیا ہے تو کئی سالوں تک اس کے قریبی دوستوں نے بھی اعتبار نہ کیا۔ اس کو اپنی ذات کے متعلق بریکنگ نیوز پھیلانے کی اتنی عادت پڑ گئی تھی کہ موت سے کچھ عرصہ قبل اس نے یہ خبر جاری کروا دی کہ حکومت پاکستان نے اس کی علمی، ادبی خدمات پر تمغۂ حسن کارکردگی دینے کا اعلان کر دیا۔ یار لوگوں نے مبارک باد دینی شروع کی تو اس نے مبارک باد وصول کرتے ہوئے یہ کہہ کر صدارتی ایوارڈ کا دروازہ بند کر دیا کہ ضلع کے ڈی۔سی۔او نے مجھے صدارتی ایوارڈ دینے کی سفارش کر دی ہے دیکھیں حکومت اب کیا فیصلہ کرتی ہے۔ اطہر ناسک کو تادمِ مرگ کوئی ایوارڈ نہ ملا۔ لیکن وہ تمام زندگی کبھی لینن امن پرائز،نوبل انعام اور صدارتی ایوارڈز کی کہانیاں سناتا رہا اور یار لوگوں بھی ’’اعتبار‘‘ کرتے رہے۔
اسی طرح پاکستان کے ایک نامور ادیب، نقاد، مدیر، محقق اور شاعر ڈاکٹر وزیر آغا کے متعلق ستیہ پال آنند نے اپنی خودنوشت ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’میری کینیڈا میں پرویز پروازی سے ملاقات ہوئی تو مختلف موضوعات پر باتیں کرتے پروازی صاحب نے اپنی یاداشتوں کا مطالعہ شروع کیا تو معلوم ہوا کہ کسی زمانے میں ڈاکٹر وزیر آغا نے بھی ادب کے نوبل پرائز حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب انعام دینے والی کمیٹی نے ناموں کو شارٹ لسٹ کیا تو اس میں ڈاکٹر وزیر آغا کا نام تیسرے نمبر پر آ گیا۔ جب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر وزیر آغا کا نام تیسرے نمبر پر ہے تو سب دوستوں نے خوشی کا اظہار کیا چلو اگر اُردو میں کسی کو ادب کا نوبل انعام مل جائے تو یہ اُردو کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہو گی۔ اس اعزاز کے بعد اُردو زبان کو عالمی سطح پر بڑی زبان ہونے کے طور پر متعارف ہونے کا موقع مل جائے گا۔ انہی دنوں اس انعام کے راستے میں حائل کانٹوں کو دور کرنے کے لیے ڈاکٹر وزیر آغا نے سویڈن کا دورہ بھی کیا۔ جس کے بعد انہیں یہ اُمید ہو چلی تھی کہ اس سال ادب کا نوبل انعام انہی کو ہی ملے گا۔ مَیں نے بھی اس سلسلہ میں ایک سینئر ہندوستانی سفارتکار کو اعتماد میں لیا اور اسے ڈاکٹر وزیر آغا کے لیے لابنگ کرنے کا کہا۔ پھر یکایک مجھے نوبل انعام دینے والی اکادمی کے دفتر کے ایک گہرے اندرونی کونے سے خبر ملی کہ ڈاکٹر وزیر آغا کا نام تو شارٹ لسٹ سے تیسرے نمبر سے گر کر بیسویں نمبر پر آ گیا ہے۔ مَیں نے سویڈن سے لگ بھگ بسورتے ہوئے فون پر لاہور میں آغا صاحب کو یہ اطلاع دی تو اس مردِ جری نے پہلی بار مجھ سے پرویز پروازی کا ذکر کیا۔ بولے ہاں پرویز پروازی کی بھی یہی اطلاع ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا کو نوبل انعام کیوں نہیں ملا؟ اس کا تو مجھے علم نہیں البتہ یہ ضرور معلوم ہے کہ پرویز پروازی نے لاہور میں کسی سے نوبل انعام کے بارے میں ذکر کر دیا جس کے بعد کمیٹی کو پاکستان سے سینکڑوں خطوط ملے جس کا لب لباب یہ تھا کہ وزیر آغا تو تیسرے درجے کے مصنف ہیں اور اُردو ادب میں ان کا کوئی اہم رتبہ نہیں ہے۔ یہ خط کس نے لکھوائے مَیں یہ کیسے جان سکتا تھا کہ مَیں پاکستان کی ادبی سیاست کے بارے میں کماحقہ واقف نہ تھا۔‘‘
اس سال کے ادب کے نوبل انعام کے اعلان کے بعد مَیں یہ سوچتا رہا کہ شکر ہے باب ڈیلن کے دوستوں کو اس کے انعام ملنے کے بارے میں معلوم نہ تھا ورنہ وہ بھی نوبل انعام والی کمیٹی کو سینکڑوں خط لکھ کر اس کو انعام سے محروم کر دیتے۔ ویسے ہمیں تو حیرت انعام دینے والی کمیٹی سے ہو رہی ہے جو ایک طرف پاکستان سے خط ملنے پر وزیر آغا کا نام تیسرے نمبر سے بیسویں تک کر دیتی ہے اور ایک ایسا ادیب، شاعر اور گلوکار جو کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسے ادب کا سب سے بڑا انعام ملے گا وہ 2016ء میں اس انعام کا حقدار ٹھہرا۔ باب ڈیلن کو ایوارڈ ملنے کے بعد ہمیں یہ اُمید ہو چلی ہے کہ اگر مستبقل میں اسی میرٹ کو سامنے رکھا گیا تو اس میں سب سے پہلا نام ابرار الحق ("کنے کنے جاناں بلو دے گھر” کے خالق) کو مل سکتا ہے جو گلوکار ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر تعلیم، شاعر، سیاستدان اور سماجی کارکن بھی ہے۔ اگر مرحوم اطہر ناسک اپنے استاد بیدل حیدری کے بارے میں یہ خبر اڑا سکتے ہیں تو کیا ہم اپنے پسندیدہ گلوکار کو اس انعام کے ملنے کی خواہش نہیں کر سکتے؟

Views All Time
Views All Time
1155
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   پرتو روہیلہ کی موت پر غالب شناس کی یاد - شاکر حسین شاکرؔ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: