Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے – شاکر حسین شاکر

یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے – شاکر حسین شاکر
Print Friendly, PDF & Email

shakir-hussain-shakir-newقیصر عباس صابر میرا اتنا پرانا دوست تو نہیں لیکن تعلق کو بنے دس سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ ہر موضوع پر بولنا اس کا شوق ہے۔ ان موضوعات میں مذہب، ادب، صحافت، وکالت اور شہر کی مختلف شخصیات شامل ہوتی ہیں۔ قیصر جب مذہب پر بات کرتا ہے اور خاص طور پر ذاکرین و علماء کرام کے بارے میں جس طرح گفتگو کرتا ہے تو اس کے حوصلے کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ اس کے پاس مذہب پر بات کرنے کو بہت کچھ ہے لیکن وہ میری وجہ سے خاموش رہتا ہے۔ گزشتہ دنوں ملتان آرٹ کونسل کی ادبی بیٹھک میں دوستوں نے اس کی کتاب کا فنکشن رکھا۔ تقریب بہت اچھی ہو گئی اب ایک دن قیصر عباس صابر رضی الدین رضی کے ہمراہ میرے پاس آیا۔ چائے کی میز پر اچانک بات کرتے ہوئے بولا ’’شاکر بھائی! مَیں کربلا جا رہا ہوں اربعین کرنے۔ آپ میرے ساتھ جانا پسند کریں گے سارا خرچہ مَیں کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ میرا چہرہ تکنے لگا کہ مَیں اس کی اس پیش کش کا کیا جواب دیتا ہوں۔ مَیں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ قیصر عباس صابر کہنے لگا ہمارے ساتھ رضی، قمر رضا، نوازش اور عباس برمانی بھی ہو گا۔ مَیں نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور چشمِ تصور میں کربلا پہنچ گیا کہ میرے قدموں کو کربلا کی خاکِ شفا کو چھونا کیسا ہو گا؟ مولا حسینؑ کے روضے کو اپنی نم آنکھوں سے دیکھنے کا منظر۔۔۔۔۔۔ سرکار غازیؑ کے یہاں حاضری میری بھی ہو گی؟ ’’اربعین، اربعین، اربعین‘‘ مَیں اس لفظ کی تسبیح کرنے لگا۔ قیصر عباس نے کہا ایک گھنٹے میں جانے کا پروگرام فائنل کرو۔ ویزا لگوانے کے لیے پاسپورٹ اور تصاویر رات گئے تک میرے پاس موجود ہوں تو مزا آ جائے۔
قیصر عباس صابر اپنے نام کی نفی کر رہا تھا۔ وہ اربعین پر جانے کے لیے بے صبرا ہو رہا تھا۔ اس کی بے چینی مجھے بھی بے چین کر رہی تھی۔ اسی عالم میں رضی سے مَیں نے پوچھا کیا ارادہ ہے؟ کہنے لگا اگر مجھے ایکس پاکستان چھٹی مل گئی تو اربعین پر تمہارے ساتھ چلوں گا۔ وقت گزرنے لگا۔ قیصر عباس کا کہنا تھا کہ جس گروپ کے ساتھ ہمیں کربلا جانا ہے اس کے سربراہ نے رات دس بجے ملتان آنا ہے بس آپ پاسپورٹ اور دیگر کاغذات مکمل کریں گے۔ ابھی آٹھ بجنے میں پندرہ منٹ پڑے ہیں۔ یعنی میرے پاس سوا دو گھنٹے تھے۔ اربعین، اربعین، اربعین۔۔۔۔۔۔
رضی، قیصر اور مَیں مزید آدھا گھنٹہ سفرِ کربلا کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ مَیں اپنے ’’کتاب نگر‘‘ سے اٹھا اور والدین کے گھر ’’علیؑ منزل‘‘ چلا آیا۔ ابو جی اور امی جی کی قدم بوسی کی۔ اس دن ان کے پاس بیٹھا ہوا بار بار اپنی نظروں کو کلاک پر مرکوز کر دیتا کہ بقول قیصر عباس صابر کے ’’کربلا جانے والے قافلے کے سالار نے رات دس بجے ملتان آنا تھا۔‘‘ اتنے میں سیاہ لباس میں ملبوس میری اہلیہ بھی اُسی کمرے میں آکر بیٹھ گئی۔ جہاں مَیں بے چینی سے دس بجنے کا انتظار کر رہا تھا۔ محرم الحرام ہو یا ذوالحجہ، ہمارے گھروں میں کربلا اور کربلا والوں کا ذکر پورا سال رہتا ہے۔ اس دن تو میری کیفیت کچھ اور ہی تھی مَیں کربلائے شاہ شمس سبزواری ملتان میں بیٹھا کربلائے حسینؑ کی زیارت کا سوچ رہا تھا۔ کربلا، کربلا، کربلا۔۔۔۔۔۔
وقت تھا کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ گزرتے لمحوں نے اپنی رفتار شاید کم کر دی تھی۔ باتیں کرتے کرتے میرا دھیان کہیں اور تقسیم ہو جانے لگا۔ جملے بے ربط۔ ذہن منتشر۔ چہرے پر عجیب طرح کی کیفیت مَیں خود بھی محسوس کر رہا تھا کہ میرے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ مَیں نے ایک دم نظروں کو گھڑی کی طرف موڑا تو وہاں پر رات کے پونے دس بجے تھے ابھی تو پندرہ منٹ رہتے تھے قیصر عباس کا فون آنے میں۔ ایسے میں یہ کون تھا جو مجھے فون کر رہا تھا؟ مَیں نے موبائل سکرین دیکھی تو وہاں پر قیصر عباس صابر کا نام دکھائی دے رہا تھا۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی، مَیں نے کال ریسیو کی۔ قیصر عباس کی آواز میں ایک نیا جوش، نیا ولولہ تھا اور کہہ رہا تھا کہ شاکر بھائی صبح تک پاسپورٹ، شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی، تصاویر اور پیمنٹ مل جانی چاہیے۔ اوکے اوکے۔ مَیں نم آنکھوں سے حامی بھر رہا تھا۔ کربلا جانے کی نیت اور کربلا کا سفر مجھے درپیش تھا۔ مَیں خوشی ہو رہا تھا۔ مَیں خوش ہو رہا تھا اور دل ہی دل میں کہہ رہا تھا:
سلام یا حسینؑ سلام یا حسینؑ !!
مَیں علیؑ منزل سے کتاب نگر جا رہا تھا کہ پھر مجھے رات گیارہ بجے گھر (عطائے زہراؑ ) جانا تھا۔ رات گیارہ بجے گھر جانے کے لیے ابو جی کے گھر سے اہلیہ کو ساتھ لیا تو بے چینی سے اسے کربلا جانے کے متعلق پروگرام کا بتایا۔ وہ خاموش ہو گئی، گاڑی میں نوحہ چل رہا تھا۔ مَیں مدینتہ الاولیاء ملتان کی سڑکوں پر کربلا جانے کا تصور کر کے گاڑی چلا رہا تھا کہ اچانک گاڑی میں ایک نیا نوحہ چلنے لگا۔ شائستہ نے میری کیفیت کو دیکھتے ہوئے گاڑی میں چلتے ہوئے نوحہ کی آواز بلند کر دی اور میری گاڑی میں اب ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔ ماتم۔ ماتم۔ آنکھوں میں آنسو۔ اتنے میں کانوں میں ایک نوحے کی آواز سنائی دی:
یہاں سنبھل کے قدم اٹھانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
یہ بات ہرگز نہ بھول جانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
جہانِ صبر و رضا یہی ہے
ندائے صبر و رضا یہی ہے
یہاں پہ آتے ہیں چل کے مہدیؑ
بہشتِ زہراؑ کی یہ سرزمیں ہے
یہاں ہے زہراؑ کا آنا جانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
یہاں سنبھل کے قدم اٹھانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
مَیں حیران ہو رہا تھا کہ یہ سب کیا ہے؟ قیصر عباس صابر کا کتاب نگر آنا۔ سفرِ کربلا کا تذکرہ کرنا۔ پاسپورٹ، تصاویر کی تیاری، چشمِ تصور میں اربعین یعنی چہلم امام حسینؑ کے روضۂ اقدس پر کرنے کی نیت۔ یہ سب کیا ہے؟ مَیں گاڑی چلاتے ہوئے ہوئے سوچ رہا تھا کیا مجھے واقعی اذنِ حاضری کا اعزاز ملنے ولا تھا۔ یہ سوچتے سوچتے اور ’’یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے‘‘ والا نوحہ سنتے سنتے گھر آ گیا۔ مَیں نے بیگم سے کہا میرا پاسپورٹ کہا ہے؟ شناختی کارڈ بھی میرے حوالے کرو۔ کیوں خیریت تو ہے؟ کہاں کی تیار ہے؟ محرم الحرام میں کوئی سیر سپاٹا نہیں چلے گا۔ اس نے سخت لہجے میں کہا۔ مَیں کربلا جا رہا ہوں۔ اربعین پر۔
کیا مطلب؟ آپ اربعین کرنے کربلا جا رہے ہو؟ میرے بغیر۔ ہم نے طے کیا تھا ’’یہ سفر تو اکھٹے ہو گا‘‘ مَیں نے یہ سنا اور جواب دیا جی یہی طے ہوا تھا ’’یہ سفر تو اکھٹے ہو گا‘‘۔
میری طرف سے وعدہ خلافی کا آغاز ہو رہا تھا اور مَیں وعدے نبھانے والوں کی زیارت کو جا رہا تھا۔ رات کو پاسپورٹ، تصاویر اور شناختی کارڈ بریف کیس سے نکال کر علیحدہ کیا۔ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کیا معلوم تھا کہ مَیں 2016ء کے اربعین کا دن مولا حسینؑ کے دربار میں گزاروں گا۔ مَیں کربلا جا رہا تھا۔ رات بھر نیند نہ آئی۔ کانوں میں نوحے، ماتم، گریہ اور ذکرِ حسینؑ کی آوازیں آتی رہیں۔ پوری رات خوابوں میں عَلم، ذوالجناح، سبیل اور نجانے کیا کیا دیکھتا رہا۔ صبح ہوئی مَیں نے اٹھتے ہیں قیصر عباس صابر سے رابطہ کیا اور اسے کہا سب سامان تیار ہے۔ اس نے کہا رضی کا کیا ارادہ ہے؟ مجھے کیا معلوم اس کا کیا ارادہ ہے؟ شاکر صاحب ہم نے طے کیا تھا سب اکھٹے جائیں گے اگر کوئی ایک دوست بھی ڈراپ ہو گیا تو شاید اربعین پر حاضری نہ ہو سکے گی۔ یہ سنتے ہی میرے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ مَیں نے بجھے دل سے ناشتہ کیا۔ سامان یعنی پاسپورٹ وغیرہ کو گاڑی میں رکھا، گاڑی کو سٹارٹ کیا تو وہی نوحہ چل رہا تھا۔
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
دعائیں دیں گے حسینؑ تم کو
یہاں یہ آنسو اگر بہائے
یہاں پہ بیٹی وطن کی
ستم گروں سے طمانچے گھائے
یہاں پہ خوشیوں کو بھول جانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
یہاں پہ گزری ہے وہ قیامت
بھلانا ہے اس کو سکون ہے اب تک
رِدائیں چھیننے کے غام میں عابدؑ
لحد میں روتا ہے خون اب تک
یہاں پہ ہرگز نہ تم مسکرانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
کتاب نگر آتے ہی قیصر سے رابطہ کیا تو کہنے لگا۔ رضی نے چھٹی اپلائی کی ہے لیکن وہ کہہ رہا تھا چھٹی مشکل سے ملے گی اس لیے شاید یہ پروگرام نہ بن سکے۔ قیصر عباس صابر کی یہ بات سنتے ہی مَیں خاموش ہو گیا کہ شاید ابھی بلاوا نہیں ہے۔ ابھی حاضری کی منظوری نہیں ہے۔ میرے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ مَیں بجھے دل سے دکان پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کربلا جانے والوں کا معیار کیا ہے؟ یہ بات سوچتے سوچتے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اچانک مجھے ایک شعر یاد آ گیا:
مَیں یہ حیات کے لمحے یوں ہی تمام کروں
نجف میں صبح کروں کربلا میں شام کروں
زندگی کے شب و روز جتنی تیزی سے گزر رہے ہیں اس میں اصل بات یہ ہے کہ اب سانسوں کی ڈوری کا بھروسہ نہیں رہا۔ ایسے میں اگر کربلا کی زیارت کے بغیر یہ زندگی تمام ہو جائے تو کیا تمام ہونے والی زندگی کو زندگی کا نام دیا جا سکتا ہے؟ مَیں یہ سب باتیں سوچتا رہا اور دن گزرتے رہے۔ رات کو گھر جاتے ہوئے میر حسن میر کی آواز میں وہ نوحہ ضرور سنتا جس میں وہ بڑی خوبصورتی سے کہتا:
یہاں پر حرؑ بھی تھا حرملہ بھی
کتابِ ہستی تو پڑھ کے دیکھو
صدائے ہَل مَن تو آ رہتی ہے
تم اِس طرف ہو یا اُس طرف
تمہیں عمل سے ہے اب بتانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
یہیں پہ قاسمؑ ہوئے تھے ٹکڑے
یہیں زین سے گرے تھے مولاؑ
یہیں سکینہؑ سُموں سے لپٹی
یہیں پہ اصغرؑ نے تیر کھائے
یہیں غریبی کا ہے ٹھکانہ
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
دن گزرتے رہے مَیں اپنی بساط کے مطابق ملتان میں ہونے والی مجالسِ عزا میں شرکت کر رہا تھا کہ اربعین کے سلسلہ کے جلوس برآمد ہونے لگے۔ مجھے ہر سال چہلم کے جلوس میں شرکت کرتے ہوئے یہ نوحہ یاد آتا ہے جس میں نوحہ خواں پڑھتے ہیں کہ:
سادات کا چہلم ہے سادات ہی آئے ہیں
ایک مَیں تھا جو چند دن پہلے تک یہ سوچ رہا تھا کہ چہلم کربلا میں کروں گا لیکن ابھی حاضری کا اذن نہیں تھا اس لیے مَیں ملتان کی مٹی میں سانس لے رہا تھا۔ صفر المظفر کا دوسرا عشرہ شروع ہو چکا ہے۔ 18۔19 صفرالمظفر کا دن گزر گیا۔ شب اربعین آ گئی۔ مولا حسینؑ مَیں ملتان میں ہوں اور ٹی وی کے سامنے کربلا چینل دیکھ رہا ہوں۔ دنیا کی سب سے بڑی واک کربلا کی جانب رواں دواں ہے۔ مَیں نم آنکھوں سے کربلا کے مناظر دیکھ رہا ہوں۔ مولا حسینؑ مَیں نے آپ سے اپنے آنسوؤں سے التجا کرنی تھی مَیں اُس ملتان سے آیا ہوں جہاں پر آپؑ کا ذکر پورا سال رہتا ہے۔ جہاں پر حضرت شاہ یوسف گردیز کا مزار ہے جو عزاداری کا بہت بڑا مرکز ہے۔ مولا حسینؑ مَیں نے آپ کو بتانا تھا کہ مَیں حضرت شاہ شمس سبزواری کی نگری سے آیا ہوں جہاں پر پورا سال آپؑ اور آپؑ کے اہلِ بیتؑ کے ذکر کی مجالس برپا ہوتی ہیں۔ مولا حسینؑ مَیں نے کربلا آ کر آپ کو بتانا تھا کہ مَیں گناہگار ہوں، پریشان ہوں، بیمار ہوں مجھے خاکِ شفا کے صدقے میں شفا عطا کیجئے کہ اب میرے ہاتھ آپؑ کے روضے کو چھو کر عزاداری کرنا چاہتے ہیں۔ میری سماعتوں کو یہ اعزاز بخش دیں کہ مَیں کربلا میں آ کر نوحے اور مجالس سنتا رہوں۔ مولاؑ میرے قدموں کو یہ عزت بخش دیں کہ یہ میلے کچیلے پاؤں بھی آپؑ کی سرزمین پر چل کر سرفراز ہو جائیں۔ مولا حسینؑ میری بیٹی عنیزہ فاطمہ جس کو مَیں نے اپنی گود میں کھلایا تھا، اس کو چلنا سکھایا تھا وہ بھی تو کربلا کی زیارت کر چکی ہے۔ مولا حسینؑ اربعین کی شب شروع ہو چکی ہے مَیں نے سیاہ ملبوس نکال لیا جو آپؑ کے چہلم پر پہن کر جانا ہے۔ مولا حسینؑ مَیں نے امام جعفر صادقؑ کا وہ قول بھی سن رکھا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:
’’مَیں زائرینِ امام حسینؑ کے جسموں اور جانوں کو اس وقت کے لیے تیری امان میں دیتا ہوں جب ہم پیاس کے دن یعنی بروزِ قیامت حوضِ کوثر پر انہیں پا لیں۔‘‘
مولا حسینؑ مَیں نے یہ بھی تو سن رکھا ہے:
’’دنیا میں لوگ بھوک اور غربت کی وجہ سے لوگوں کے پاؤں میں گرتے ہیں مگر کربلا وہ واحد مقام ہے جہاں لوگ کھانا کھلانے کے لیے پاؤں میں گرتے ہیں۔‘‘
مولا حسینؑ مجھے آپؑ کے حرم کی نیاز حسینؑ درکار ہے۔ مولاؑ مجھے پیاس لگی ہے مَیں آپؑ کے حرم میں جا کر پیاس بجھانا چاہتا ہوں۔ مولاؑ مجھے آپ کے دربار میں داخلے کا اعزاز چاہیے۔ مولاؑ مَیں نے سن رکھا ہے عراقی مومنین زائرین کے لیے نئے کمبل اور کھانے کے نئے برتن ان کو استعمال کے لیے دیتے ہیں کہ وہاں کے رہنے والے اپنی بچیوں کے جہیز پہلے زائرین کو استعمال کے لیے دیتے ہیں۔ مولاؑ مجھے زائر کا درجہ دیں۔ مَیں ملتان میں بیٹھا ہوں لیکن حاضری کا طلبگار ہوں۔
یہاں سنبھل کے قدم اٹھانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
سواری آئے گی اِک وہاں سے
نجف کی جانب نگاہ رکھنا
جب آئے شامِ غریباں اُس دم
علیؑ کو زینبؑ کا پُرسہ دینا
تم آنسوؤں کے دیئے جلانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
مولاؑ مَیں آنسوؤں کے دیئے روشن کرنا چاہتا ہوں مجھے کربلا چاہیے۔ میرے یہ ضد اس بچے کی مانند ہے جو کھلونوں کی دکان کے سامنے سے گزرے اور کھلونوں کے لیے ضد کر بیٹھے۔ مولاؑ مَیں نے آپؑ سے ضد کی ہے حضرت علی اصغرؑ کے صدقے میری درخواست ہے۔ عونؑ و محمدؑ کے صدقے۔ میری صدا ہے حضرت علی اکبرؑ کے نام کی۔ میری گزارش ہے حضرت غازیؑ سرکار کے کٹے بازوؤں سے۔ مجھے کربلا کی پناہ چاہیے۔ آپؑ اپنے روضے کا سایہ میرے نصیب میں لکھ دیں۔ مَیں شاکر ہوں مجھے شاکرِ حسینؑ کر دیں۔ مولا حسینؑ آپؑ کا نام میرے نام کا حصہ ہے۔ اپنے نام کی تاثیر میری زندگی کے روز و شب میں ڈال دیں۔ مولاؑ مجھے عزادار کا شرف دیں کہ مجھے معلوم ہے یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے۔ مجھے قبر میں آپؑ کی زیارت، آپؑ کے شہر کی خاکِ شفا کی شفاعت چاہیے۔ مولاحسینؑ اس سال نہیں تو اگلے سال ہی سہی مجھے اپنے شہر کی قدم بوسی کی اجازت دیں کہ مجھے بھی ان لوگوں میں شمار کروا دیں جن کے بارے میں امام صادقؑ نے فرمایا:
’’فرشتے کربلا سے زائر کے لوٹتے وقت اسے الوداع کرتے ہوئے کہتے ہیں اے خدا کے ولی! تیرے گناہ بخش دیئے جا چکے اور تو حزب اﷲ، حزب رسولؐ اور حزب اہلِ بیتؑ میں شامل ہو چکا ہے۔‘‘
مجھے اور کچھ نہیں چاہیے اب زائر کا درجہ چاہیے۔ انہی لمحوں کے لیے میر انیس نے کہا تھا:
پیدا ہوئے دنیا میں اسی غم کے لیے
رونا ہی بچا ہے چشمِ پُر نم کے لیے
ہم تو دو دولتیں خدا نے دی ہیں
آنکھ رونے کو ہاتھ ماتم کے لیے

Views All Time
Views All Time
972
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   میں کیا لکھوں..?-ذیشان حیدر نقوی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: