Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا کڑوا سوال – شیر علی انجم

by نومبر 1, 2016 بلاگ
گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا کڑوا سوال – شیر علی انجم
Print Friendly, PDF & Email

shair-ali-anjumسرسبزو شاداب میدانوں ،برف پوش بلند وبالاپہاڑوں، سرسبز وادیوں، قدرتی وسائل اور حُسن سے مالا مال بہادر مجاہدین کی سرزمین گلگت بلتستان اٹھائیس ہزارمربع میل وسیع اور بیس لاکھ کے قریب آبادی پر مشتمل ہے۔یہاں کے باسی ہر سال یکم نومبر کو یوم آزادی مناکر جنگ آزادی گلگت بلتستان کے ان شہیدوں اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی بے پناہ قربانیوں کی بدولت یکم نومبر ،اُنیس سو سینتالیس کو مہاراجہ کشمیر سے بغاوت اور الحاق بھارت سے انکار کرتے ہوئے آزادی حاصل کی۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں کے عوام آج تک صرف دن ہی مناتے آئے ہیں۔ ہمارے عوام کو آج بھی معلوم نہیں کہ اس آزادی کے اسباب کیا تھے؟ اور کیسے اس آزادی کو ٹھیک دو ہفتے بعد برطانوی سامراجی ایجنٹوں نے فرقہ واریت سے جوڑکر ایک سازش کے تحت عوام کو گمراہ کرکے قومی ہیروز کو دیوار سے لگا کر ،بغیر کسی معاہدے کے الحاق کا ڈرامہ رچا کر یہاں ایف- سی -آر جیسا کالا قانون نافذ کیاتھا۔ اپنے خطے کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے سبب ہمارے عوام آج بھی آئینی صوبے کا نعرہ لگا کر آنے والی نسلوں کو بھی گمراہ ہی کر رہے ہیں کیونکہ اگر ہم حقیقت کی آنکھ سے اُس وقت کے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی کچھ ہی دنوں میں ،سازشی عناصر نے اس خطے کے مستقبل کو متنازعہ بنانے کیلئے سازشوں کا جال بچھانا شروع کر دیا تھا جس میں اُن عناصر کو کامیابی بھی ملی اور آج بھی یہ خطہ قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں۔آگے چل کر اس خطے کے عوام کے ساتھ اُس وقت کے نام نہاد کشمیری قائدین نے سازش کرکے یہاں کے عوام سے کسی قسم کی رائے لئے بغیر اٹھائیس اپریل 1949 کو ایک سازش کے تحت مسئلہ کشمیر کے ساتھ جوڑ کر مزید غلامی کی طرف دھکیل دیا ۔ابھی زخم بھرا نہیں تھا کہ 19 63 میں ایک بار پھر متازعہ خطے کے عوام سے رائے لئے بغیر "اکسائی چن” جو گلگت بلتستان کا حصہ تھا اسے چین کی تحویل میں دے دیا۔ اسی طرح ذولفقار علی بھٹو کے دور میں ،جہاں گلگت بلتستان کے عوام کو مقامی ڈوگروں سے آزادی نصیب ہوئی تو وہیں بھٹو نے اس خطے سے "سٹیٹ سبجیکٹ” قانون کو ختم کرکے یہاں کے وسائل اور زمینوں کو ایک طرح سے نیلام کر دیا۔ یوں ہر دور میں اس خطے کے عوام کے ساتھ فراڈ کیا گیا لیکن اس خطے کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے کسی بھی حکومت نے سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیا۔ ہر دور میں یہاں قانونی حق کے حصول کیلئے انفرادی اور اجتماعی کوشش کرنے والوں کو ریاستی ظلم اور جبر کا سامنا رہا ۔
آج چونکہ گلگت بلتستان "سی پیک” کی کامیابی کے حوالے سے ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں، موجودہ دور حکومت میں ریاستی حقوق کا مطالبہ ایک طرح سے غداری کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ معاشرتی ترقی اور تعمیر اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے اس خطے کا شمار نصف صدی تک دنیا کی آخری کالونی میں ہوتا تھا لیکن 2009 میں خدا خدا کرکے وفاق نے پہلی مرتبہ اس خطے کو آزاد حیثیت دیکر یہاں الیکشن کرایا مگر اُس الیکشن سے لیکر آج تک کی حکومتوں اور اُن کے اختیارات کے بارے میں بات کریں تو وہ ایک یونین کونسل کے برابر بھی نہیں۔
قارئین! ہماراعنوان چونکہ یوم آزادی گلگت بلتستان ہے لہذا اس بات کامعلوم ہونا ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی اور قانونی حیثیت کیا ہے؟ یہاں ہر سال "یکم نومبر” اور پھر "چودہ اگست” کو بھی سرکاری طور پر یوم آزادی منانے کی منطق کیا ہے؟ عرض یہ ہے کہ گلگت بلتستان آئینی طور پاکستان کا پانچوں صوبہ نہیں آئین کے مطابق گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور اقوام متحدہ کی قوانین کے مطابق اس خطے کے انتظامی معاملات کی دیکھ بھال پاکستان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے لیکن یہاں معاملات کچھ اور ہیں۔ وفاق کی طرف سے مسلسل جھوٹ پہ جھوٹ بولنے کی روش نے نئی نسل کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ۔نئی نسل اب سوال اُٹھا رہی ہے کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ ہماری آزادی کے ثمرات کہاں ہیں؟ لگتا یوں ہے کہ وفاق کی پالیسی ہی یہی ہے کہ گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کی استصواب رائے تک ایسے ہی پیکج نظام کے ذریعے ٹرخا کر رکھیں۔ اس خطے کے "الحاق پاکستان” کے حوالے سے کئی ابہام پائے جاتے ہیں،ایک رائے یہ ہے کہ جنگ آزادی کے بعد یہاں کے عوام کی خواہش کے مطابق پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس حوالے سے کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں۔دوسری رائے یہ ہے کہ یہ خطہ، سابق ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے لہذا اس خطے کی قسمت کا فیصلہ مسئلہء کشمیر کے حل سے مربوط ہے مگر یہاں کے عوام اس بات کو ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ۔عوام کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھے تو جب جنگ آزادی لڑی جارہی تھی تب ریاست جموں کشمیر والے کہاں تھے؟ تحریک آزادی کی جنگ میں ریاست جموں کشمیر کے اطراف سے مقامی مجاہدین کیلئے کسی بھی قسم کی امداد فراہم کرنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت الحاق بھارت سے انکار کرتے ہوئے خطے کو آزاد کرایا۔ یہ خطہ آج بھی قانونی اور آئینی طور پر کسی ملک میں شامل نہیں۔ ہمارے وسائل اور قدرتی ذخائر تو پاکستانی کہلاتے ہیں لیکن یہاں کے عوام آج بھی قانونی شہریت کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ پاکستان میں جہاں قانونی صوبوں میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں وہیں دوسری جانب گلگت بلتستان شائد دنیا کاواحد خطہ ہے جہاں ریاست میں شامل ہونے کیلئے لوگ احتجاج کرتے ہیں۔ اس تمام صورت حال کے باوجود یہاں ہر سال یکم نومبر کو سرکاری سطح پر جشن آزادی بھی منایا جاتا ہے جسکی حیثیت و حقیقت، عام آدمی کیلئے ایک پزل سے کم نہیں۔کیونکہ آزادی کے بعد ارض گلگت بلتستان پر جس طرح سازشی عناصر نے شب خون مارا، تاریخ میں اسکی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہاں پر کبھی سرکاری قیادت میں تو کبھی نام نہاد ملاوں کے سرپرستی میں دہشت گردی اور فرقہ واریت پھیلائی جاتی رہی تاکہ یہاں کے عوام کی توجہ اصل مسائل کی طرف نہ جائے۔ لہذا آزادی کا دن منانے کے بجائے فلسفہ آزادی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کی متازعہ حیثیت کو قبول کرتے ہوئے اس خطے کو اقوام متحدہ کے قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے اہمیت دینے کی ضرورت ہے ورنہ یوم آزادی منانے کا کوئی مطلب نہیں۔ اس وقت گلگت بلتستان میں مقامی حکومت نے اپنی مراعات کی خاطر سب اچھا کا قانون نافذ کیا ہوا ہے اور جو بھی جی جی برگیڈ سے اختلاف کرے اُس کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے قانون کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ سی پیک میں جہاں ہمیں ایک ڈالر کا فائدہ نہیں، مقامی حکومت بضد ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ مقامی حکومت کی جانب سے معاشرتی ترقی اور تعمیر کے حوالے سے کارکردگی صفر ہے لیکن نجی سطح پر کام کرنے والوں کو مقامی حکومت کی سفارش پر شیڈول فور میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس ناانصافی کی واضح مثال ممتاز عالم دین اور سماجی خدمت گار، شیخ محسن نجفی صاحب ہیں جن کا نام شیڈول فور میں شامل کرکے ہزاروں غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننا گیا ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے کئی ایک ممتاز علمائے کرام اوراعلیٰ تعلیم یافتہ صحافی بشمول دولت جان المعروف ڈی جے مٹھل کا نام شیڈول فور میں شامل کرنا اور انکے اخبار بانگ سحر پر پابندی لگانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں جس کی لاٹھی اُس بھینس ہے۔
اظہار رائے کی آزادی پر پابندی کی ایک مثال راقم خود بھی ہے ۔مجھے محکمہ پی- آئی- ڈی والے کہتے ہیں کہ آپ آئینی حقوق پر لکھنا چھوڑ دیں بصورت دیگر آپ کا کالم کسی بھی اخبار میں چھاپنے نہیں دیا جائے گا۔ مقامی اخبارات بھی جی جی فارمولے کے تحت میرےاظہار رائے کے حق کو آدھے دل سے قبول کرتے ہوئے میری تحریروں کے ساتھ یہ ٹکڑا بھی لگادیتے ہیں کہ ادارے کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ منافقت اور غلامی کی علامت نہیں تو اور کیا ہے؟۔ المیہ ہے کہ یہاں اصل حاکمیت تو آج بھی ایک غیر منتخب، غیر مقامی وزیر کی ہے اور اُنکی ایماء پر تمام ادارے ایک شاہی نظام کی طرز پر کام کرتے ہیں جہاں حکمرانوں کے تو شاہی خرچے ہیں اور عوام کو سبسڈی گندم میں مٹی ملا کر کھلائی جاتی ہے۔۔تو پھر اس جشن آزادی کا مطلب کیا ہوا؟ تازہ ترین اطلاع یہ ہے ایک مرتبہ پھر پرانی بوتل میں نئی شراب کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔سینٹ اور قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو بطور مبصر نمائندگی دینے کی باتیں ہورہی ہیں جو اس خطے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

Views All Time
Views All Time
1177
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پیرا ڈائز لیکس کے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: