انسانیت کا زوال فطری نہیں جبری ہے | شہسوار حسین

Print Friendly, PDF & Email

اگر ہمارے معاشرے کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو جو غربت و افلاس اور جہالت کے اندھیرے ہیں اونچ نیچ کا امتیاز ہے، مرد و عورت کا تقابل ہے ، یہ سب چیزیں فطری بالکل بھی نہیں بلکہ طاقتور طبقے کی طرف سے جبری مسلط شدہ ہیں.
کائنات میں فطرت کا مشاہدہ کرنے سے ان کو سمجھا جا سکتا ہے مثلاً اگر کہیں خودرو پودے اگتے ہیں تو یہ فطرت ہے لیکن اگر ہم انہیں جڑ سے ختم کرتے ہیں تو یہ فطرت نہیں بلکہ ہماری طرف سے جبر کہلائے گا. اسی طرح انسان سبھی فطرت پر پیدا ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں. سب کو ایک ہی طرح کا جسم و جان اور اعضاء دیئے گئے ہیں. ذہنیت کا معیار میرے خیال میں فطرت پر نہیں بلکہ تربیت پر انحصار کرتا ہے. اگر بچے کو بچپن سے درست تعلیم و تربیت اور ماحول فراہم کیا جائے تو وە کبھی کند ذہن نہیں بنے گا.
دوسری مثال عورت کی لیتے ہیں .ہمیشہ سے یہ سنتے آ رہے تھے کہ عورت مرد سے عقل و فہم میں کمتر ہے جوکہ غلط ثابت ہو چکا ہے. کسی بھی جنس کے عقل و فہم، ناکامی و کامیابی اور ترقی و تنزلی وغیرہ تعلیم و تربیت اور فراہم کردہ ماحول کے سبب ہے نہ کہ جنس کے لحاظ سے.
ماضی قریب اور موجودہ دور میں تقابل کر کے دیکھ لیجئے کہ کیا ایک ریڑھی بان، کسان مزدور مرد ایک اعلٰی تعلیم یافتہ عورت کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ بالکل بھی نہیں. ایک عورت نے ملک کی حکمرانی مرد سے بہتر انداز میں چلا کر ثابت کر دیا ہے. وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں . مختصراً ہر وە کام کر گئی ہے جو مرد کرتا آ رہا تھا تو پھر فطرت کا اس میں کیا دخل؟ اگر دخل ہے تو انسانوں کے خود بنائے گئے اصول و قوانین کا جو مرد اپنا فطری حق مان کر اس پر لاگو کرتے ہیں لیکن یہ فطرت نہیں جبر ہے.
ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا بچہ جدید اعلٰی تعلیم کیسے حاصل کر سکتا ہے جب ان کو مستقبل میں ایک مثالی شخصیت بننے سے زیادہ دو وقت کی روٹی اور سر پر چھت کی فکر سوار ہو؟ اور اگر خوش قسمتی سے وە اعلٰی تعلیم کے حصول میں کامیاب ہو بھی جائے تو طاقتور اور سرمایہ دار طبقے کے سیکرٹری سے زیادہ ترقی نہیں پا سکتا. کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں جو اس نظام کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں .دوسری طرف سرمایہ دار اور طاقتور طبقے کے بچے بچپن سے اعلٰی معیار کے تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں انہیں روٹی اور مکان کی فکر نہیں ہوتی اور تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی وراثت میں سرداری اور حکمرانی مل جاتی ہے.
سرمایہ دار اور طاقتور طبقہ ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ نچلا طبقہ ابھر کر مدمقابل نہ آئے. جس طرح ہمارا عام رویہ عورت کے متعلق ہے کہ انہیں گھر تک ہی محدود رکھنے سے ان پر حکمرانی کی جا سکتی ہے اسی طرح طاقتور طبقہ ہم لوور مڈل کلاس کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرنے کو ہی اپنی بقاء کا ضامن سمجھتے ہیں.
ملک کے بے انتہا وسائل کی موجودگی کے باوجود تنزلی کی یہ حالت نہ فطری ہے نا ہی اسکے عوامل وہ ہیں جو بیان کئے جاتے ہیں بلکہ ان کا مقصد عوام کو احساس دلانا، احسان جتانا اور اپنے آپ کو سیاسی و مذہبی اور عسکری مسیحا ثابت کرنا ہوتا ہے جس میں وە اب تک مکمل کامیابی سے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں.
جس طرح مذہب کو ہتهیار بنا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں اور ایسے گروہ بنائے جاتے ہیں جن کے پس پشت پر انہیں کا ہاتھ ہوتا ہے اور نظریات بھی انہیں کے ہوتے ہیں لیکن ان سے لاتعلقی ظاہر کرنے کا ڈھونگ بھی رچاتے ہیں. بیانیہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا لیکن کرنے والے مسلمان ہی نکلتے ہیں.
اسی طرح لبرل طبقے میں بھی لوگ پائے جاتے ہیں جنکا مقصد پیسے اور شہرت کا حصول ہوتا ہے جس معاملے پر عالمی برادری سے شانے پر تھپکی اور شہرت ملتی ہے، اس کی بات کرتے ہیں اور جن معاملات پر ان کو نوازا نہیں جاتا ان سے یا تو گریز کرتے ہیں یا ہلکی پھلکی صبح کے سیر کی طرح لیتے ہیں. یہ لبرل ازم نہیں کمرشل ازم ہے.
جس دن نچلے طبقوں سے سیاسی جماعتیں اور قیادت ابھر کر سامنے آئیں گی تو کچھ امید کی جا سکتی ہے کہ وە باقی طبقات کو اوپر اٹھانے میں کردار ادا کریں گے ورنہ ان سرمایہ دار اور طاقتور طبقوں سے یہ امید رکھنا محض ایک خواب و خیال کے سوا کچھ نہیں.
لہٰذا میرا اپنا ذاتی مشاہدہ یہی ہے کہ چیزیں پیدا تو فطرت پر ہوتی ہیں لیکن ان کا استعمال جبر و استحصال سے کیا جاتا ہے. ہمیں فطرت کے نقلی خول سے باہر نکل کر آنے کی ضرورت ہے. قوموں کی تقدیر اور تاریخ جدوجہد سے بنتی ہے. ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنے سے بنتی ہے نہ کہ تقسیم اور ایک دوسرے کے استحصال سے.
مذہبی و سیاسی اور عسکری بالادست طبقے کی اس تقسیم کے کھیل سے نکلنے میں ہی نچلے طبقوں کی بقاء اور مستقبل کی تعمیر ہے.

Views All Time
Views All Time
655
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کمسن مزدور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: